نابلس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطین کی سرزمین پر کہانیوں کو تکلیف دہ بنانے کے لیے کسی مبالغہ آرائی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہاں بس اتنا ہی کافی ہے کہ جس لمحے موت کسی زندگی کو چھین رہی ہو، عین اسی لمحے ایک نئی زندگی جنم لے رہی ہو، تاکہ ایک ایسی داستان رقم ہو سکے جس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔
ایسے ہی یمان اس دنیا میں تشریف لائے۔ اپنے والد نایف سمارو کی شہادت کے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت کے بعد، جنہیں نابلس شہر پر دھاوے کے دوران قابض اسرائیل کی فوج نے گولیاں مار کر شہید کر دیا تھا۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس بچے کے زندگی کے ابتدائی لمحات جدائی کی مہر کے ساتھ شروع ہوں گےاور نہ ہی یہ خیال تھا کہ وہ نام جسے اس کے باپ نے بڑے شوق سے منتخب کیا تھا، ایک آخری وصیت بن جائے گا۔
شہادت سے چند گھنٹے قبل نابلس شہر ایک پرتشدد حملے کی زد میں تھا۔ قابض اسرائیل کی افواج نے وسطی نابلس پر دھاوا بولا، ایک عمارت میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کی اور آنسو گیس کے گولے داغے، جس کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی دم گھٹنے سے بے حال ہوئے اور کئی گولیوں لگنے سے زخمی ہوئے، انہی زخمیوں میں 26 سالہ نایف سمارو بھی شامل تھے جو پھر کبھی لوٹ کر نہ آئے۔
شہر کے دوسرے گوشے میں ان کی 21 سالہ اہلیہ رغد الشامی ایک معمول کی ملاقات کی منتظر تھیں، وہ ڈاکٹر کے پاس جانے والی تھیں تاکہ ولادت کا دن طے ہو سکے۔ انہیں علم نہ تھا کہ یہ ملاقات ادھوری رہ جائے گی اور ہسپتال کا راستہ زندگی کے انتظار کے بجائے ایک عظیم سانحے کے استقبال میں بدل جائے گا۔
شہید کے عزیز سامر سمارو بتاتے ہیں کہ نایف اپنی زندگی کے آخری دن ایک منفرد انتظار میں گزار رہے تھے۔ وہ دن گن رہے تھے، وہ اپنے بچے کو گود میں لینا چاہتے تھے، اس کی آواز سننا چاہتے تھے اور اس کے ساتھ ایک نئی زندگی کا آغاز کرنا چاہتے تھے۔ یمان کا نام محض ایک اتفاقی انتخاب نہیں تھا بلکہ یہ نام ان کی ہر گفتگو اور ہر چھوٹی منصوبہ بندی میں شامل تھا، جیسے کہ یہ مستقبل کا کوئی وعدہ ہو۔
لیکن مستقبل اچانک ٹوٹ کر بکھر گیا۔ جب شہادت کی خبر پہنچی تو اسے ایک دم سنانا ممکن نہ تھا۔ خاندان نے صدمے کی شدت کم کرنے کی کوشش کی اور رغد کو بتایا کہ ان کے شوہر صرف زخمی ہوئے ہیں۔ وہ انہیں ہسپتال لے گئے جیسے وہ وقت سے یا کسی ایسے معجزے سے شرط لگا رہے ہوں جو حقیقت کو کچھ دیر کے لیے ٹال دے۔
ہسپتال کے اندر الفاظ دم توڑ گئے۔ حقیقت پوری طرح آشکار ہو گئی اور رغد اس بوجھ تلے ڈھیر ہو گئیں۔ یہ صرف ایک جدائی نہ تھی بلکہ اس لمحے کی شکست تھی جس کا وہ انتظار کر رہی تھیں کہ جب وہ بچے کو جنم دیں گی تو ان کا شریک حیات ان کے پہلو میں ہوگا۔
شدید صدمے کی وجہ سے ولادت کو تھوڑی دیر کے لیے مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جیسے جسم کو زندگی کا دروازہ کھولنے سے پہلے ایک مختصر مہلت کی ضرورت ہو۔ رغد کے والد مکاوی الشامی بتاتے ہیں کہ ڈاکٹروں نے فوری مداخلت کی کیونکہ انہیں ماں اور بچے کی زندگی کے حوالے سے شدید خدشات لاحق تھے۔
اور پھر یمان پیدا ہو گیا
لیبر روم کا منظر عام حالات سے بالکل مختلف تھا۔ وہاں نہ تو خالص خوشی تھی اور نہ ہی محض غم۔ آنسو اس طرح ملے جلے تھے کہ اندازہ کرنا مشکل تھا کہ ان کا تعلق کس جذبے سے ہے۔ ایک ماں تھی جو پہلی بار اپنے بچے کو سینے سے لگا رہی تھی اور ایک باپ تھا جو اب ابدی نیند سو چکا تھا۔
بچے کا نام وہی رکھا گیا جو طے تھا۔ اگرچہ بچے کا نام اس کے والد کے نام پر رکھنے کی تجاویز دی گئیں لیکن ماں نے اسی نام پر اصرار کیا جو نایف نے پسند کیا تھا، جیسے وہ اس نام کے ذریعے اپنے شوہر سے جڑے آخری دھاگے کو تھامے رکھنا چاہتی ہوں۔ انہوں نے کچھ نہیں بدلا کیونکہ اب ان کے پاس جو کچھ بچا تھا وہ صرف اپنے شوہر کی یادوں سے وفاداری تھی۔
رغد کے والد کہتے ہیں کہ یہ بچہ اب ہماری واحد تسلی ہے، یہ نایف کی وہ نشانی ہے جو ہمارے پاس رہ گئی ہے۔ یہ جملہ ہر کرب کو سمیٹ لیتا ہے: محرومی، یادیں اور اس چیز کو تھامنے کی تڑپ جو ہاتھ سے چھوٹ چکی ہو۔
یمان کی اس کہانی نے فلسطینیوں کے جذبات کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر اس کا تذکرہ عام ہے۔ یہ محض ایک سرسری خبر نہیں بلکہ اس دکھ کا خلاصہ ہے جب موت اور زندگی ایک ہی لمحے میں ایک دوسرے کے سامنے آ کھڑے ہوں۔
خاندان کے گھر میں اب صرف نایف کا ذکر ہوتا ہے اور یمان کا، جو ایک دن بڑا ہو کر یہ داستان سنے گا۔ اسے معلوم ہوگا کہ اس کا باپ صرف ایک تصویر نہیں تھا بلکہ وہ اس کا منتظر تھا، اس کے خواب دیکھتا تھا اور اس کے لیے ایک ایسی زندگی کے خواب بنتا تھا جو ادھوری رہ گئی۔
یمان کا قصہ کوئی انفرادی واقعہ نہیں ہے، فلسطین میں ایسی کہانیاں مختلف ناموں کے ساتھ بار بار دہرائی جاتی ہیں لیکن ان کا دکھ ایک ہی ہے۔ یہاں آغاز اور انجام ایک ہی لمحے میں مل سکتے ہیں۔ یہاں ایک بچہ اپنی پہلی سانس کے ساتھ ہی محرومی کی داستان لے کر پیدا ہو سکتا ہے۔ ننھا یمان ابھی نہیں جانتا کہ باپ کے بغیر پیدا ہونے کا مطلب کیا ہے، لیکن اپنے سے پہلے گزرے بہت سے بچوں کی طرح وہ بھی ایک ایسی کہانی پر جوان ہوگا جس کا آغاز موت سے ہوا اور جس کا سفر قابض اسرائیل کی سفاکیت کو لتاڑتے ہوئے زندگی کی جدوجہد کے ساتھ جاری رہے گا۔
