تل ابیب – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) یورو میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے ہسپانوی کارکن سیف ابو کشک اور برازیلی کارکن تیاگو اویلا کو جبری عدالتی اور تفتیشی کارروائیوں کا نشانہ بنانے پر شدید خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان کارکنوں کو قابض اسرائیل کی بحریہ نے یونان کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود میں گلوبل صمود فلوٹیلا کے بحری جہازوں اور کشتیوں پر حملے کے بعد حراست میں لیا تھا، جو غزہ کی پٹی کا محاصرہ توڑنے اور امداد پہنچانے کے ایک اعلانیہ انسانی مشن پر روانہ تھے۔
انسانی حقوق کے ادارے نے منگل 5 مئی سنہ 2026ء کو جاری کردہ ایک پریس بیان میں بتایا کہ دونوں کارکنوں کو غیر قانونی طور پر قابض اسرائیل منتقل کیے جانے کے بعد دو دنوں میں دوسری بار عسقلان کی صہیونی مجسٹریٹ عدالت میں پیش کیا گیا تاکہ ان کی حراست میں توسیع کی جا سکے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ عدالت نے کسی باقاعدہ فرد جرم کے بغیر، محض مبہم شبہات اور خفیہ مواد کی بنیاد پر ان کی حراست میں 10 مئی سنہ 2026ء بروز اتوار تک مزید چھ دن کی توسیع کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ ان کارکنوں یا ان کے وکلاء کو ان خفیہ مواد تک رسائی کی اجازت نہیں دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق صہیونی استغاثہ نے ان پر جنگ کے دوران دشمن کی مدد، غیر ملکی ایجنٹ سے رابطہ، دہشت گرد تنظیم سے وابستگی اور دہشت گرد قرار دی گئی تنظیم کو خدمات فراہم کرنے جیسے سنگین الزامات لگائے ہیں، جن کی دونوں کارکنوں اور دفاعی ٹیم نے سختی سے تردید کی ہے۔
یورو میڈیٹیرینین مانیٹر نے زور دے کر کہا کہ کسی واضح عدالتی پابندی کے بغیر حراست میں طویل توسیع اس خدشے کو تقویت دیتی ہے کہ تفتیش اور قید کو پرامن انسانی سرگرمیوں کی سزا کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کارکنوں کو مکمل تنہائی میں رکھا گیا ہے، چوبیس گھنٹے تیز روشنیوں کا سامنا ہے، منتقلی اور طبی معائنے کے دوران ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی جاتی ہیں، جبکہ وہ اپنی غیر قانونی حراست کے خلاف 30 اپریل سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔
ادارے نے مزید کہا کہ ایک اعلانیہ انسانی فلوٹیلا میں شرکت کو سکیورٹی اور دہشت گردی کا فائل بنا دینا دراصل عدالتی نظام کے ذریعے انسانی ہمدردی کے کاموں کو مجرمانہ رنگ دینے اور عالمی یکجہتی کو سکیورٹی خطرہ بنا کر پیش کرنے کی مذموم کوشش ہے۔
تشدد اور بدسلوکی کی شہادتیں
مانیٹر نے انکشاف کیا کہ دونوں کارکنوں نے حراست کے لمحے سے ہی شدید جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بننے کی اطلاع دی ہے۔ انہیں بین الاقوامی سمندر کے وسط میں طویل عرصے تک ہتھکڑیاں لگا کر اور آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر انسانی وقار کے منافی حالات میں رکھا گیا۔
وکلاء اور گواہوں کے مطابق ابو کشک کو دیگر قیدیوں سے الگ کر کے بدترین سلوک کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ اویلا تشدد کے نتیجے میں دو بار بے ہوش ہوئے۔ دیگر شرکاء کے حوالے سے بھی مار پیٹ، تنہائی میں قید اور بنیادی ضروریات سے محرومی کی شہادتیں سامنے آئی ہیں۔
ادارے نے واضح کیا کہ یہ طرز عمل تشدد کی ممانعت اور غیر انسانی سلوک کے خلاف عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، اور اگر یہ ثابت ہو جائے کہ یہ ہتھکنڈے جان بوجھ کر خوفزدہ کرنے یا معلومات اگلوانے کے لیے استعمال کیے گئے تو یہ بدترین تشدد کے زمرے میں آتے ہیں۔
یورو میڈیٹیرینین مانیٹر نے اس بات پر زور دیا کہ یونانی جزیرے کریٹ کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود میں سویلین جہازوں پر حملہ، مسافروں کا اغوا اور انہیں قابض اسرائیل منتقل کرنا بین الاقوامی قوانین اور جہاز رانی کی آزادی کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس کا قابض اسرائیل کے پاس کوئی قانونی جواز موجود نہیں۔
ادارے نے مزید کہا کہ فرد جرم کے بغیر مسلسل حراست اور خفیہ شواہد کا سہارا لینا اس کیس کو ایک ایسی جبری قید میں بدل دیتا ہے جس میں منصفانہ ٹرائل کی تمام ضمانتیں مفقود ہیں۔
فوری عالمی مداخلت کی اپیل
مانیٹر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کارکنوں کی غیر مشروط رہائی، ان کے خلاف مجرمانہ کارروائیاں بند کروانے اور ان کی وکلاء، خاندان اور قونصلر تک فوری رسائی یقینی بنانے کے لیے مداخلت کرے۔
ادارے نے ہسپانوی اور برازیلی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ محض سفارتی کوششوں پر اکتفا کرنے کے بجائے بین الاقوامی حدود سے اپنے شہریوں کے اغوا، ان کی غیر قانونی حراست اور ان پر ہونے والے تشدد کے خلاف قانونی تحقیقات کا آغاز کریں اور ذمہ داروں کا محاسبہ کریں۔
یورو میڈیٹیرینین مانیٹر نے اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں اور عالمی قوتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی ہمدردی کے کارکنوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کریں اور دہشت گردی کے خلاف قوانین کو انسانی کاموں کو جرم قرار دینے کے لیے استعمال کرنے کی روش کو مسترد کریں۔
ادارے نے آخر میں اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی سمندر میں انسانی امدادی بیڑے کو نشانہ بنانا غزہ کی پٹی پر مسلط ظالمانہ محاصرے کے تسلسل کا حصہ ہے۔ انسانی ہمدردی کے کاموں کا تحفظ تب ہی ممکن ہے جب اس محاصرے کو ختم کیا جائے اور غزہ کے لیے امداد کی روانی کے تمام راستے کھولے جائیں۔
