غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کی افواج غزہ کی پٹی میں فضائی و توپ خانہ بمباری اور فائرنگ کے ذریعے جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب محاصرے کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے تجارتی سامان اور امداد کی فراہمی میں بھی شدید کٹوتی کر دی گئی ہے۔
غزہ شہر کے جنوب مشرق میں قابض اسرائیل کے ایک حملے کے نتیجے میں ایک فلسطینی شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ غزہ میں موجود نامہ نگاروں نے اطلاع دی ہے کہ یہ بمباری غزہ شہر کے جنوب مشرق میں واقع محلے حی الزیتون کے جنوب میں شارع 10 پر کی گئی۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ غزہ کی پٹی کے وسط میں واقع البريج کیمپ میں قابض اسرائیل کے ڈرون حملے میں شہریوں کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں نوجوان انس حمد شہید اور کئی دیگر زخمی ہو گئے۔
اس سے قبل، غزہ کی پٹی کے شمال میں قابض اسرائیل کی افواج کی فائرنگ سے ایک اور شہری شہید ہو گیا تھا۔ مقامی ذرائع کے مطابق شمالی غزہ کی پٹی کے قصبے بیت لاہیا کے علاقے العطاطرہ میں قابض اسرائیلی فوج نے فائرنگ کر کے 42 سالہ موسیٰ سالم فتحی الابیض کو شہید کر دیا۔
اسی دوران، خان یونس کے مشرقی علاقوں میں قابض اسرائیل کی فوجی گاڑیوں نے شدید فائرنگ کی۔
بعد ازاں، ہمارے نامہ نگار نے اطلاع دی کہ رفح شہر کے شمال میں الشاکوش کے علاقے میں تعینات قابض اسرائیل کی فوجی گاڑیوں کی فائرنگ سے ایک خاتون زخمی ہو گئیں۔
قابض اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی میں پناہ گزینوں کے ٹھکانوں پر فضائی و توپ خانہ بمباری، نام نہاد یلو لائن (زرد لکیر) کے اندر دھماکوں اور تباہی کے عمل کے ذریعے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ امدادی سامان کی نقل و حمل اور سفر پر بھی سخت پابندیاں عائد ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، گذشتہ 10 اکتوبر سنہ 2025ء سے جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اب تک شہداء کی تعداد 833 ہو گئی ہے، جبکہ 2,345 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 767 لاشیں ملبے سے نکالی گئی ہیں۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری اس جارحیت کے مجموعی اعداد و شمار 72,612 شہداء اور 172,457 زخمیوں تک پہنچ چکے ہیں، جو غزہ کی پٹی پر مسلط اس جنگ کی بھاری انسانی قیمت کی واضح علامت ہے۔
