Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

رام اللہ

اسرائیلی عقوبت خانوں میں ڈاکٹر ابو صفیہ پر مظالم کے ہولناک انکشافات

رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جب رہا ہونے والے فلسطینی اسیر احمد قداس کی نظریں قابض صہیونی عقوبت خانے کے اندر ڈاکٹر حسام ابو صفیہ پر پڑیں تو وہ انہیں فوری طور پر پہچان نہ سکے۔ کہاں وہ توانا جسم، رعب دار شخصیت اور باوقار آواز جو مقامی اور عالمی میڈیا کی سکرینوں پر چھائی رہتی تھی اور کہاں یہ نڈھال جسم اور دھیمی آواز؟ ان کی حالت کسی بڑے ریاستی عہدیدار جیسی ہوا کرتی تھی لیکن اب سب کچھ بدل چکا تھا۔

یہ وہ لرزہ خیز فرق ہے جو قابض اسرائیل کے ٹارچر سیلوں میں فلسطینی مردوں کی حالت زار کے بارے میں سب کچھ بیان کر دیتا ہے، جہاں دشمن صرف جسموں کو توڑنے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ ان کی شناخت اور ملامح کو مٹانے یعنی شناخت کے قتل کی کوشش کرتا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق قابض اسرائیل کی فوج نے ڈاکٹر ابو صفیہ کو 27 دسمبر سنہ 2024ء کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب انہوں نے غزہ کی پٹی کے شمالی محافظہ میں واقع کمال عدوان ہسپتال پر دھاوا بولا تھا۔

گذشتہ اکتوبر میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک وکیل کے حوالے سے جنہوں نے ڈاکٹر ابو صفیہ اور دیگر اسیران سے ملاقات کی تھی، بتایا تھا کہ انہیں بدترین بدسلوکی اور سفاکانہ سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔

بجھتا ہوا جسم اور ساتھیوں کی بے بسی

حال ہی میں رہا ہونے والے قداس نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر حسام کی حالت انتہائی تشویشناک تھی۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت مسلسل تشدد کی وجہ سے ہونے والی تھکن اور نقاہت کے باعث بے حسی کی کیفیت میں گزارتے تھے۔

سابق اسیر نے بڑے دکھ کے ساتھ بتایا کہ کمال عدوان ہسپتال کا وہ مایہ ناز ڈائریکٹر اب ایک ایسا انسان بن چکا تھا جو دھیمی آواز میں کچھ دعائیں مانگتا رہتا تھا اور اس کے الفاظ بار بار دہرانے کے باوجود سمجھ نہیں آتے تھے۔ یہ منظر اس جسمانی ٹوٹ پھوٹ کی عکاسی کر رہا تھا جس کا وہ شکار ہو چکے تھے۔

قداس نے اس نفسیاتی تشدد کا بھی ذکر کیا جو تمام اسیران کو جھیلنا پڑتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ہم ڈاکٹر ابو صفیہ پر ہونے والے تشدد کے دوران ان کی چیخیں سنتے تھے لیکن مداخلت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔

فوری اپیل

رہا ہونے والے اسیر نے بتایا کہ وہ خود بھی ڈاکٹر صاحب کے قریب جانے سے کتراتے تھے حالانکہ وہ ان کی مدد کرنا چاہتے تھے، کیونکہ ایسی صورت میں قابض دشمن دیگر اسیران کو اجتماعی سزا دیتا تھا، جس میں کمروں پر دھاوا بولنا اور گیس بم پھینکنا شامل تھا جس سے اسیران کا دم گھٹنے لگتا تھا۔

قداس کے مطابق ڈاکٹر ابو صفیہ شدید کمزوری اور لاغری کا شکار ہیں اور ان کے کپڑے انتہائی بوسیدہ حالت میں تھے جو ان پر ڈھائے جانے والے مظالم اور مسلسل بدسلوکی کا منہ بولتا ثبوت تھے۔

رہا ہونے والے فلسطینی نے اپنی گواہی کے آخر میں ڈاکٹر ابو صفیہ کی جان بچانے اور ان کی قید ختم کرانے کے لیے ایک فوری اپیل کی اور خبردار کیا کہ اگر انہیں ان حالات میں مزید رکھا گیا تو وہ کسی بھی لمحے زندگی کی بازی ہار سکتے ہیں۔

تشدد کی اضافی خوراک

دوسری جانب رہا ہونے والے اسیر حمزہ ابو عمیرہ نے ڈاکٹر ابو صفیہ کو نشانہ بنانے کے حوالے سے مزید ہولناک تفصیلات فراہم کیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ دیگر اسیران کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت سلوک کیا جاتا تھا۔ ان پر ہونے والا تشدد اپنی شدت اور نتائج کے لحاظ سے بالکل مختلف تھا۔

ابو عمیرہ کی ملاقات اکتوبر سنہ 2025ء میں جیل کے اندر ڈاکٹر صاحب سے ہوئی تھی، اس وقت وہ واضح طور پر بیمار اور شدید تھکن کا شکار نظر آ رہے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جیل کے اندر ان کے ساتھ ہونے والا سلوک انتہائی سفاکانہ تھا، جہاں انہیں بار بار تشدد کا نشانہ بنایا جاتا اور براہ راست توہین کی جاتی۔ ڈاکٹر صاحب کی جسمانی حالت اس قدر بگڑ چکی تھی کہ وہ انتہائی نحیف ہو گئے تھے، ان کے کپڑے گندے تھے اور وہ مسلسل نقاہت کا شکار نظر آتے تھے۔

تشدد کے دوران قے آنا

ابو عمیرہ نے بتایا کہ اسیر ابو صفیہ کو کثرت سے تفتیش کے لیے لے جایا جاتا تھا اور اکثر انہیں تنہا ہی لے جایا جاتا، جہاں ان پر تشدد کیا جاتا اور گالیاں دی جاتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ بعض اوقات خصوصی دستے انہیں لے کر جاتے اور ان پر جسمانی حملے کرتے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ہونے والا امتیازی سلوک ان کی توہین اور تذلیل پر مبنی تھا۔

رہا ہونے والے اسیر ابو عمیرہ نے بھی قداس کی اس بات سے اتفاق کیا کہ شدید تشدد اور قابض دشمن کی دانستہ نشانہ سازی کی وجہ سے ڈاکٹر ابو صفیہ کی زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

ابو عمیرہ نے انکشاف کیا کہ ڈاکٹر صاحب کی صحت اس قدر گر چکی تھی کہ وہ مسلسل قے کرتے تھے اور کھانا ہضم کرنے کی سکت کھو چکے تھے، جبکہ انہیں طبی امداد سے بھی مکمل محروم رکھا گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ کھانا غیر صحت بخش ہوتا تھا، وہ جو لقمہ بھی کھاتے اسے فوراً قے کر دیتے۔

انہوں نے ایک اور دردناک واقعہ سنایا کہ ایک بار ڈاکٹر صاحب کے ساتھ دیگر اسیران کو مسلسل 7 دن تک ہاتھ اور پاؤں سے باندھ کر رکھا گیا، جس سے کھانا پینا اور قضائے حاجت جیسے بنیادی انسانی تقاضے بھی ناقابل بیان اذیت بن گئے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ تقریباً 15 دن رہے اور اس دوران ان کی جسمانی و نفسیاتی حالت کو مسلسل گرتے ہوئے دیکھا۔

اپنی ہی توہین پر مجبور کرنا

ابو عمیرہ نے اشارہ کیا کہ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ روا رکھا جانے والا امتیازی سلوک ان کی تذلیل کی انتہا تھا۔ بعض صورتوں میں انہیں ایسے جملے دہرانے پر مجبور کیا جاتا جن میں ان کی اپنی توہین ہوتی تھی۔ شدید تشدد کے زیر اثر وہ یہ الفاظ دہرانے پر مجبور ہو جاتے تھے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دیگر طبی عملہ بھی وہاں قید ہے، جن میں خان یونس کے ناصر ہسپتال کے ڈاکٹرز بھی شامل ہیں، ان کے ساتھ بھی سخت سلوک کیا گیا لیکن ابو صفیہ کی صورتحال سب سے زیادہ ابتر تھی۔

ابو عمیرہ کے مطابق ڈاکٹر ابو صفیہ اس کڑے وقت میں اللہ سے لو لگائے ہوئے تھے، وہ مسلسل اللہ سے آسانی اور مخلصی کی دعائیں کرتے اور اپنے ارد گرد موجود لوگوں سے بھی دعا کی درخواست کرتے تھے۔

شکاری کتوں کے ذریعے تشدد

تیسری گواہی رہا ہونے والے اسیر رامی ابو عمیرہ نے دی، جنہوں نے اپنی رہائی سے ڈیڑھ ماہ قبل کے مناظر بیان کیے۔ انہوں نے ڈاکٹر ابو صفیہ کو تفتیش سے واپسی پر بدترین تشدد کا نشانہ بنتے دیکھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ تفتیشی کمروں میں انہیں ڈرانے دھمکانے اور ان پر حملہ کرنے کے لیے شکاری کتوں کا استعمال کیا گیا، جس سے ان کے پورے جسم پر زخموں اور خراشوں کے نشانات پڑ گئے۔

رامی نے بتایا کہ وہ ڈاکٹر صاحب کے کپڑے اتار دیتے اور کتے ان پر چھوڑ دیتے جو انہیں کاٹتے اور زمین پر گرا دیتے۔ جیل کی انتظامیہ دانستہ طور پر ڈاکٹر صاحب کے سونے کی جگہ پر دھاوا بولتی اور زبردستی منتقلی سے قبل ان کے پاس صوتی اور گیس بم پھینکتی تاکہ ان کے نفسیاتی حوصلے کو توڑا جا سکے۔

اسیر رامی ابو عمیرہ کے مطابق ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کے جسم پر تشدد کے نشانات واضح تھے اور وہ کسی بھی وقت تشدد کی وجہ سے شہید ہو سکتے ہیں، اس لیے ان کی زندگی بچانے کے لیے سنجیدہ کوششیں ناگزیر ہیں۔

ڈاکٹر ابو صفیہ اپنے بچوں کی نظر میں ایک ایسی مضبوط شخصیت ہیں جنہوں نے اپنے بیٹے ابراہیم کی شہادت کے باوجود اپنا کام جاری رکھا۔ اپنی ٹانگ میں لگنے والی گولی کے زخم کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری اور گرفتاری کے وقت وہ قابض دشمن کے ٹینک کے سامنے انتہائی استقامت کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔ کمال عدوان ہسپتال کے ساتھی انہیں مریضوں کا ہمدرد کہہ کر پکارتے ہیں۔

الجزیرہ نیٹ کے مطابق ڈاکٹر ابو صفیہ ان 737 طبی کارکنوں میں سے ایک ہیں جنہیں قابض اسرائیل نے غزہ پر حالیہ جنگ کے آغاز سے اب تک گرفتار کیا ہے، جن میں ڈاکٹرز، پیرامیڈیکس اور نرسیں شامل ہیں اور ان میں سے بڑی تعداد کو بدترین تشدد اور تذلیل کا سامنا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan