Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

اقوام متحدہ کا فلوٹیلا کارکنان کی حفاظت یقینی بنانے پر زور

 

نیو یارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے ترجمان فرحان حق نے کہا ہے کہ عالمی تنظیم گلوبل صمود فلوٹیلا پر موجود ان تمام امدادی کارکنوں کی سلامتی یقینی بنانا چاہتی ہے جنہیں قابض اسرائیل نے بحیرہ روم کے بین الاقوامی پانیوں میں حراست میں لیا ہے۔

یہ بیان پیر کی شام منعقدہ ایک روزمرہ پریس کانفرنس کے دوران اناطولو کے نامہ نگار کے اس سوال کے جواب میں سامنے آیا جو غاصب دشمن کی طرف سے اس فلوٹیلا پر کیے گئے حملے کے متعلق تھا جو غزہ کی پٹی پر گذشتہ انیس سال سے مسلط کردہ ظالمانہ صیہونی محاصریں کو توڑنے کے لیے روانہ ہوا تھا۔

حق نے کہا کہ ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ فلوٹیلا پر سوار تمام افراد کو کوئی نقصان نہ پہنچا ہو اور ہم چاہتے ہیں کہ اس معاملے سے پرامن طریقے سے نمٹا جائے۔

واضح رہے کہ قابض افواج کی بحریہ نے گذشتہ روز پیر کو گلوبل صمود فلوٹیلا کی کشتیوں پر زبردستی قبضہ کرنا اور ان پر سوار انسانی حقوق کے کارکنوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا تھا۔

یہ فلوٹیلا چوبیس کشتیوں کی شمولیت کے ساتھ گذشتہ جمعرات کو ترکیہ کے شہر مرمریس سے روانہ ہوا تھا تاکہ سنہ 2007ء سے غزہ کی پٹی پر مسلط صیہونی محاصرے کو توڑنے کی ایک اور نئی اور مخلصانہ کوشش کی جا سکے۔

یاد رہے کہ انتیس اپریل کو قابض دشمن کی فوج نے جزیرہ کریٹ کے سامنے بین الاقوامی پانیوں میں فلوٹیلا کی کشتیوں پر ایک وحشیانہ حملہ کیا تھا، اس فلوٹیلا میں انتالیس ممالک کے 345 شرکاء شامل تھے جن میں ترکیہ کے شہری بھی موجود تھے۔

قابض اسرائیل نے اس وقت اکیس کشتیوں پر غاصبانہ قبضہ کر کے ان پر سوار لگ بھگ 175 امدادی کارکنوں کو یرغمال بنا لیا تھا جبکہ باقی کشتیوں نے یونان کے علاقائی پانیوں کی طرف اپنا سفر جاری رکھا۔

غزہ کی پٹی میں اس وقت لگ بھگ چوبیس لاکھ فلسطینی انتہائی ابتر اور ہولناک انسانی حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جن میں پندرہ لاکھ سے زائد بے گھر افراد شامل ہیں، ان کی یہ مشکلات قابض اسرائیل کی طرف سے جاری نسل کشی کی وحشیانہ جنگ کے باعث حد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں جس نے اب تک بہتر ہزار سے زائد شہداء اور ایک لاکھ بہتر ہزار سے زائد زخمیوں کا ملبہ چھوڑا ہے جن میں اکثریت معصوم بچوں اور مظلوم خواتین کی ہے۔

غزہ کی پٹی میں دس اکتوبر سنہ 2025ء سے نافذ العمل سیز فائر کے معاہدے کے باوجود قابض اسرائیل انسانی امداد کی آمد کو سخت ترین پابندیوں کے ذریعے روک کر اور روزانہ کی بمباری کے ذریعے اپنی مجرمانہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے نتیجے میں مقامی اعداد و شمار کے مطابق اب تک 877 فلسطینی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور 2602 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan