غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے سلامتی کونسل میں پیش کی گئی پیس کونسل کی رپورٹ کے مندرجات کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس میں ایسی متعدد غلط بیانیاں شامل کی گئی ہیں جو قابض اسرائیلی حکومت کو غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کی روزانہ کی بنیاد پر کی جانے والی خلاف ورزیوں کی ذمہ داری سے بری الذمہ کرتی ہیں۔ رپورٹ میں اس بات کو بھی نظرانداز کیا گیا ہے کہ غاصب دشمن اپنے وعدوں پر عمل کرنے سے انکار اور ان کی صریح خلاف ورزیوں پر اصرار کرتے ہوئے معاہدے کی شرائط کو سبوتاژ کر رہا ہے جبکہ رپورٹ کا تمام تر زور صرف غیر مسلح کرنے کے معاملے پر ہے۔
حماس نے اپنے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ یہ دعویٰ بالکل باطل اور حقیقت کو مسخ کرنے کے مترادف ہے کہ تحریک غزہ کی پٹی میں تعمیرِ نو کے آغاز کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ یہ دعویٰ اس سچائی کو جان بوجھ کر نظرانداز کرتا ہے کہ قابض اسرائیل اپنے اکثریتی وعدوں کی پاسداری نہیں کر رہا، وہ گزرگاہوں پر مسلسل پابندیاں عائد کیے ہوئے ہے اور غزہ کی پٹی میں زندگی کی بحالی کو روکنے کے لیے بنیادی انفراسٹرکچر کی مرمت کے لیے درکار ضروری سامان اور پناہ گاہوں کے مٹیریل کی آمد کو مسلسل روک رہا ہے۔
حماس نے کہا کہ رپورٹ کے اس دعوے کے برعکس کہ حماس غزہ کی پٹی کا کنٹرول چھوڑنے سے انکار کر رہی ہے۔ تحریک نے بارہا اور مسلسل اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی کا انتظامی امور قومی کمیٹی کے سپرد کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور حماس نے اس کمیٹی کو غزہ آنے اور اپنے فرائض سنبھالنے کے لیے بااختیار بنانے کی دعوت بھی دی ہے، جبکہ دوسری طرف قابض اسرائیل اس کمیٹی کو اپنے فرائض سنبھالنے کے لیے غزہ آنے سے مسلسل روک رہا ہے۔
حماس نے واضح کیا کہ غیر مسلح کرنے کے معاملے پر رپورٹ کی جانب سے قابض دشمن کی شرائط کو تسلیم کر لینا حقائق کو خلط ملط کرنے کی ایک مشکوک کوشش ہے تاکہ جنگ بندی کے اس معاہدے کو معطل کیا جا سکے جس کے مراحل اور پورا راستہ بالکل واضح ہے۔
جماعت نے پیس کونسل اور اس کے نمائندے نکولے ملادی نوف سے مطالبہ کیا کہ وہ غاصب قابض دشمن کے جھوٹے بیانیے کی جانبداری بند کریں اور اسے معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت اپنے وعدوں کو پورا کرنے پر مجبور کریں، جن میں سب سے پہلے غزہ کی پٹی میں ہمارے مظلوم فلسطینی عوام کے خلاف روزانہ کی جارحیت اور سفاکیت کو روکنا شامل ہے۔
