Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اقوام متحدہ

انروا نے نکبہ آرکائیو کو اسرائیلی قبضے سے بچا لیا

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد اور بحالی کے ذمہ دار اقوامِ متحدہ کے ادارے ’انروا‘ کے خلاف جاری قابض اسرائیل کی مسلسل جنگ کے سائے میں برطانوی اخبار “دی گارڈین” کے حالیہ سنسنی خیز انکشافات پر اسرائیلی سرکاری اور میڈیا حلقوں میں ایک گہری اور نمایاں خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ ’انروا‘ نے فلسطینی پناہ گزینوں کی لاکھوں آرکائیو دستاویزات کو بچانے کے لیے ایک انتہائی خفیہ آپریشن کامیابی سے مکمل کیا ہے، جس کے تحت ان تاریخی دستاویزات کو غزہ کی پٹی اور مقبوضہ بیت المقدس سے اردن کے دارالحکومت عمان منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ انہیں غاصب صہیونی دشمن کی طرف سے ضبط یا تلف کیے جانے سے محفوظ رکھا جا سکے۔

مذکورہ اخبار کی طرف سے چودہ مئی سنہ 2026ء کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ خفیہ آپریشن تقریباً دس ماہ تک جاری رہا۔ اس انتہائی حساس مشن میں کم از کم چار ممالک میں تعینات ’انروا‘ کے درجنوں ملازمین نے حصہ لیا اور قابض حکام کو اس کی کانوں کان خبر نہ ہونے دی، حالانکہ غزہ کی پٹی کی تمام گزرگاہوں اور آمد و رفت پر غاصب دشمن کا سخت ترین کنٹرول قائم ہے۔

یہ تاریخی آرکائیو سنہ 1948ء کے سانحہ نکبہ سے لے کر اب تک فلسطینیوں کی ہجرت اور پناہ گزینی کے ایک ایک لمحے کی دستاویزی گواہی ہے۔ ان دستاویزات کو پناہ گزینوں کے مسئلے اور ان کے حقِ واپسی کا سب سے بڑا تاریخی اور قانونی ثبوت مانا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس خفیہ آپریشن کی سیاسی اور علامتی اہمیت محض ریکارڈ کی حفاظت سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ان دستاویزات کو بحفاظت باہر نکالنے میں ’انروا‘ کی کامیابی نے جھوٹے اسرائیلی بیانیے کے منہ پر ایک زوردار طماچہ رسید کیا ہے، کیونکہ غاصب صیہونی دشمن کئی دہائیوں سے نکبہ کے تمام شواہد کو مٹانے اور فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق سے جڑی ہر چیز کو ملیا میٹ کرنے کی ناپاک کوششوں میں مصروف ہے۔

یہ خفیہ آپریشن ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قابض اسرائیل نے اس عالمی ادارے کے خلاف اپنی معاندانہ مہم کو انتہا تک پہنچا دیا ہے۔ ایک طرف غزہ کی پٹی میں انروا کی عمارتوں اور تنصیبات کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، تو دوسری طرف مقبوضہ بیت المقدس میں اس کے دفاتر اور زمینوں کو زبردستی ضبط کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی غاصب ریاست ایسے نسل پرستانہ قوانین وضع کر رہی ہے جن کا مقصد اس ادارے اور اس کے ملازمین کے کام کو روکنا، عالمی سطح پر اس کی قانونی حیثیت کو ختم کرنا اور اس کے فنڈز کے ذرائع کو خشک کرنا ہے۔

اگرچہ انروا پر قابض اسرائیل کے حملوں میں سات اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد سے غیر معمولی شدت آئی ہے، لیکن اس ادارے کے خلاف اسرائیلی عداوت دہائیوں پرانی ہے۔ اسرائیل کے سیاسی اور سکیورٹی ادارے شروع ہی سے انروا کو ایک ایسے بڑے خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں جو فلسطینی پناہ گزینوں کے مروجہ مسئلے اور ان کے حقِ واپسی کو نسل در نسل زندہ رکھنے کا بنیادی سبب ہے۔

اسرائیلی جارحیت اور دشمنی کے تازہ ترین اقدام کے طور پر، قابض حکومت نے اتوار کے روز مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے شیخ جراح میں واقع انروا کے ہیڈ کوارٹر کے ملبے پر وزارتِ امن کا ایک نیا سکیورٹی کمپلیکس قائم کرنے کی منظوری دی ہے۔ اس مجوزہ کمپلیکس میں اسرائیلی فوج کا ایک میوزیم، ایک بھرتی دفتر اور خود وزیرِ امن کا ذاتی دفتر شامل ہوگا۔

قابض اسرائیل کے وزیرِ امن یسرائيل کاٹز نے اس شرمناک فیصلے کو “خودمختاری، صیہونیت اور سکیورٹی” سے تعبیر کرتے ہوئے انروا پر یہ مضحکہ خیز الزام لگایا ہے کہ یہ “دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والی تنظیم” ہے۔

یہ اقدام انروا کے مکمل خاتمے کے لیے قابض اسرائیل کے اس طویل ترین منصوبے کا حصہ ہے جس کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں اس وقت واضح شہ ملی تھی جب واشنگٹن نے سنہ 2018ء میں اس عالمی ادارے کی فنڈنگ مکمل طور پر بند کر دی تھی۔

فلسطینی حلقوں کا پختہ مؤقف ہے کہ ’انروا‘ کو نشانہ بنانا فلسطینی نصب العین کو مستقل طور پر دفن کرنے کے ایک بہت بڑے اور بھیانک منصوبے کا حصہ ہے۔ اس سازش کا مقصد پناہ گزینوں کے فائل کو ہمیشہ کے لیے بند کرنا، یہودی بستیوں کی تعمیر میں جارحانہ توسیع کرنا اور مسلسل امریکی سرپرستی میں زمین پر نئے سیاسی و جغرافیائی حقائق مسلط کرنا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan