غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی مٹی آج بھی کہتی ہے کہ تاریخ کسی ایک صبح یا کسی ایک تاریخ سے جنم نہیں لیتی۔ قابض صہیونی بیانیے نے جب سات اکتوبر سنہ 2023ء کو دنیا کی آنکھ میں دھول جھونکنے کے لیے جنگ کا واحد نقطۂ آغاز قرار دینا چاہا، تو وہ بھول گیا کہ مظلومیت کی یہ داستان کسی ایک دن کی محتاج نہیں۔ اس منحوس تاریخ سے بہت پہلے، غزہ کے باسی طویل برسوں سے قابض صہیونی عقوبت خانے کی تاریکیوں میں سانس لے رہے تھے۔ یہ وہ خطہ تھا جو لگ بھگ 20 برسوں سے محاصرے کی آہنی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا، جہاں پے در پے آنے والے جنگی طوفانوں نے ہزاروں معصوم پھولوں کو مسلا، گھروں کو کھنڈر بنایا اور ایسی کتنی ہی نسلوں کو پروان چڑھایا جن کا بچپن گذرگاہوں کے قفل ٹوٹنے کے انتظار، بمباری کے اگلے سائے اور زندگی کی سانسوں جتنی بنیادی ضرورتوں کی تلاش میں ہی گزر گیا۔
چھ اکتوبر کی شام تک بھی غزہ کوئی دارالامن یا گل و لالہ کی بستی نہیں تھا کہ اچانک سات اکتوبر کی صبح نے اس کا سکون چھین لیا ہو۔ اس کی روح پر لگے زخم تو برسوں پرانے تھے، جن کی گواہی بین الاقوامی اداروں کی وہ دھندلی رپورٹس دیتی چلی آ رہی تھیں جن میں یہ تلخ نوید دی جا چکی تھی کہ قابض ریاست کے مجرمانہ ہتھکنڈوں کے سبب یہ خطہ بہت جلد انسانوں کے بسنے کے لائق بھی نہیں رہے گا۔
نسل کشی کی اس سیاہ جنگ کو پورے تین برس بیت جانے کے بعد جب آج پھر سے یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کیا اس خونچکاں تنازعے کو تمام پس منظر سے کاٹ کر دیکھا جائے، یا پھر اسے قبضے، جلاوطنی اور محاصرے کی صدیوں پر پھیلی دردناک زنجیر کا ایک تسلسل مانا جائے؟ تو دل سے آواز آتی ہے کہ یہ فرق ہی اصل سچائی کا محافظ ہے۔ کیونکہ آغاز کی غلط سمت کا انتخاب ہی یہ طے کرتا ہے کہ کس کے آنسوؤں کو گنتی میں لایا جائے گا اور کس کی چیخوں کو ہوا میں تحلیل کر دیا جائے گا۔
وہ شامیں جو خلا میں نہیں ڈوبیں
اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے ہمیشہ اس سچ کو اجاگر کیا کہ سات اکتوبر کا یہ طوفان محض ایک اتفاق نہیں تھا، بلکہ یہ مقبوضہ بیت المقدس، مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی، زمینوں پر غاصبانہ قبضے اور قابض صہیونی عقوبت خانے میں سسکتے ہزاروں فلسطینی اسیران کی آہِ سحرگاہی کا ناگزیر ردعمل تھا۔ القسام بریگیڈز کے نڈر کمانڈروں نے اسی سچائی کو اپنے لہو کی سیاہی سے لکھا تھا۔
یہی وہ درد تھا جسے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے بھی اعتراف کیا تھا جب انہوں نے سلامتی کونسل کے ایوانوں میں یہ صدا لگائی تھی کہ حماس کے یہ حملے کسی خلا میں جنم نہیں لے چکے تھے، بلکہ ان کے پس پردے چھپن برسوں کا گھٹن زدہ قبضہ، بستیوں کا زہر اور اجڑے ہوئے گھروں کی آہیں بول رہی تھیں۔ عرب دنیا کی باوقار آواز ملکہ رانیا العبداللہ نے بھی ’سی این این‘ کے اسکرین پر اس مکروہ کوشش کو رد کیا تھا جو اس جنگ کو محض ایک دن کے دائرے میں سمیٹنا چاہتی تھی، اور اس کا رشتہ پچھتر برسوں کے اس مسلسل ماتم سے جوڑا تھا جہاں سے روزانہ لاشیں اٹھتی ہیں۔
سسکتی روحیں اور محاصرے کے آہنی قفل
غزہ کا گلا گھونٹنے کا یہ کھیل کوئی سنہ 2023ء کی پیداوار نہیں تھا۔ اقوام متحدہ کے دفاتر گواہی دیتے ہیں کہ اس خطے کی رگوں میں خناس کی طرح اترنے والی پابندیوں کی ابتدا تو نوگ کی دہائی ہی سے ہو گئی تھی، جنہیں جون سنہ 2007ء کے بعد ان گنت قفل لگا دیے گئے۔ جب سے غزہ کی زمینی، بحری اور فضائی حدود پر قابض شکنجہ کسا گیا، یہاں کے مکینوں کے لیے ایک وقت کی روٹی، دوا کی ایک گولی اور علم کی ایک کرن تک رسائی محال کر دی گئی۔
’اوچا‘ کی پرانی فائلیں بتاتی ہیں کہ جنگ سے بہت پہلے بھی یہاں کے تیرہ لاکھ انسان غذائی امداد کے محتاج تھے، بے روزگاری کے سائے جوانیوں کو نگل رہے تھے، بجلی کی آنکھ مچولی نے زندگی کو مفلوج کر رکھا تھا اور پینے کا پانی تک زہرِ قاتل بن چکا تھا۔ بیماروں کو جب علاج کے لیے ان قفل زدہ سرحدوں سے باہر جانے کی اجازت مانگنی پڑتی تھی، تو انتظامی فائلوں کی گرد میں ان کی کتنی ہی سانسیں ٹوٹ جایا کرتی تھیں۔
وہ خون جو ریت میں جذب نہیں ہوا
تاریخ کو مٹانے والے شاید بھول جاتے ہیں کہ غزہ کی پٹی پر برسنے والے بارود کا حساب صرف سنہ 2023ء تک محدود نہیں۔ وہ دسمبر سنہ 2008ء اور جنوری سنہ 2009ء کی پہلی سفاک جنگ کون بھلا سکتا ہے جس میں ایک ہزار تین سو تراسی معصوموں کا لہو بہایا گیا تھا؟ یا پھر سنہ 2012ء اور سنہ 2014ء کی وہ قیامت خیز راتیں جب ہنستے بستے گھروں کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا اور ہزاروں ماؤں کی گودیں اجاڑ دی گئیں؟
’سيف القدس‘ کے معرکے ہوں یا واپسی کے پرامن جلوسوں پر کی جانے والی سفاکیت ہو، جہاں احتجاج کرنے والے نہتے انسانوں کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا، ہر موڑ پر قابض ریاست کی درندگی کے نقوش تازہ ملتے ہیں۔ یہاں تک کہ جنگ کے نام نہاد ’وقفوں‘ میں بھی فلسطینیوں کا لہو ارزاں ہی رہا۔ مغربی کنارے سے لے کر غزہ کے ساحلوں تک، جبر کا یہ سلسلہ ایک لمحے کے لیے بھی نہیں تھما تھا۔
یادداشت کی جنگ
آج جب دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی باری آتی ہے تو اصل سوال یہ نہیں رہتا کہ آخری بار بارود کا یہ طوفان کب برسا تھا؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے مظلوموں کے جنازوں کی گنتی کس دن سے چھپانی شروع کی؟ قابض اسرائیل کے ایجنڈے کے تحت اگر تاریخ کو صرف سات اکتوبر سے لکھا جائے گا، تو یہ ایک ادھوری، جھوٹی اور ظالم داستان ہوگی۔
حقیقت یہ ہے کہ سات اکتوبر اس داستانِ الم کا کوئی نقطۂ آغاز نہیں بلکہ وہ چیخ ہے جو دہائیوں سے دبی ہوئی تھی۔ جب تک اس مکروہ قبضے اور ظالمانہ محاصرے کو کہانی کا مرکزی کردار نہیں بنایا جاتا، سچائی ادھوری رہے گی۔ یادداشت کا یہ معرکہ اب صرف زمین کا نہیں، ضمیر کا معرکہ بن چکا ہے جہاں یا تو ہم تاریخ کے اس پورے سچ کو گلے لگائیں گے، یا پھر قابضوں اور غاصبوں کی مرضی کے مطابق اپنے ہی لہو کو فراموش کر دیں گے۔
