مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے کہا ہے کہ قابض صہیونی وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے الطور میں ایک رہائشی عمارت کی مسماری میں شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ قابض ریاست کے رہنما فلسطینیوں کے خلاف مسماری اور جبر کی کارروائیوں کو اپنے انتخابی پروپیگنڈے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ تحریک نے مسماری کے مقام پر ان کی موجودگی کو قابض حکومت کی طرف سے روا رکھے جانے والے منظم دہشت گردی کا عملی نمونہ قرار دیا ہے۔
حماس نے منگل کی صبح ایک بیان میں مزید کہا کہ پانچ منزلہ عمارت کی مسماری ایتمار بن گویر کی براہ راست نگرانی میں عمل میں آئی جو مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی گھروں کو نشانہ بنانے کے بڑھتے ہوئے سلسلے کا حصہ ہے۔ حماس نے اس بات پر زور دیا کہ قابض ریاست کے رہنما فلسطینیوں اور ان کی زمین پر جارحیت کے ذریعے انتخابی فوائد حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
’حماس‘ نے قابض حکومت کو اس کی جابرانہ پالیسیوں کے تسلسل اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے زمینی اثرات کی تمام تر ذمہ داری قابض صہیونی ریاست پر عائد کی اور اس بات پر زور دیا کہ مسماری اور سفاکیت کی یہ کارروائیاں فلسطینی عوام کے عزم کو ہرگز نہیں توڑ سکیں گی اور نہ ہی انہیں اپنے حقوق سے دستبردار ہونے پر مجبور کر سکیں گی۔
حماس نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گھروں کی مسماری اور ان کے مکینوں کی جبری بے دخلی کو روکنے کے لیے فوری مداخلت کریں اور مقبوضہ بیت المقدس، غرب اردن اور اندرونی علاقوں میں فلسطینیوں کی استقامت کو مضبوط بنانے اور مسماری کی کارروائیوں کا بھرپور مقابلہ کرنے پر زور دیا ہے۔
قابض فوج نے آج صبح مقبوضہ بیت المقدس کے مشرق میں واقع علاقے الطور میں ایتمار بن گویر کی موجودگی میں ایک رہائشی عمارت مسمار کر دی، جس عمارت میں 10 رہائشی اپارٹمنٹس شامل تھے اور جہاں لگ بھگ 70 شہری رہائش پذیر تھے جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔
القدس گورنری کے میڈیا نے بتایا کہ یہ عمارت مصطفى أبو سبيتان نامی شہری کی ملکیت تھی اور قابض حکام نے رہائشیوں کو گذشتہ روزکے نوٹس اور بھاری جرمانے عائد کرنے اور عمارت کا تعمیراتی لائسنس دینے سے انکار کے بعد مسماری کا حتمی نوٹس تھما دیا تھا۔ مسماری کے اس عمل سے پہلے عمارت کے گردونواح میں چھاپہ مارا گیا اور متعدد فوجی گاڑیوں کے ذریعے علاقے کا محاصرہ کیا گیا۔
یہ واقعہ مقبوضہ بیت المقدس گورنری میں مسماری کے جاری سلسلے کا حصہ ہے کیونکہ گورنری نے سنہ 2026ء کی تیسری سہ ماہی کے دوران جولائی سے گذشتہ ستمبر تک 139 مسماری اور بلڈوزنگ کی کارروائیوں کی دستاویزات تیار کی ہیں، اس کے علاوہ مسماری، انخلا اور املاک پر قبضے سے متعلق 150 نوٹس اور فیصلے جاری کیے گئے ہیں جن میں 140 نوٹس اور فیصلے صرف مسماری کے ہیں، جس کی وجہ سے مزید فلسطینی خاندان اپنے گھروں سے محروم ہونے کے خطرے کی زد میں ہیں۔
