غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے مسلسل 363 ویں دن بھی غزہ کی پٹی میں فائرنگ اور بمباری کے ذریعے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رکھیں، جن کے نتیجے میں مزید شہداء اور زخمیوں کی اطلاعات ہیں۔
ہمارے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ غزہ کے جنوب مغرب میں تل الہوا محلے میں شہریوں کے ایک گروپ پر اسرائیلی ڈرون کے حملے میں ایک شہری شہید اور دیگر زخمی ہو گئے۔
ادھر سترہ سالہ نوجوان حسن ریان جمیل أبو منسی وسطی غزہ کی پٹی میں واقع مغازی کیمپ میں قابض فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے کے بعد جامِ شہادت نوش کر گیا۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ شہر غزہ میں عمر المختار روڈ پر میونسپلٹی پارک کے سامنے شہریوں کو نشانہ بنانے والے ایک اسرائیلی ڈرون حملے کے نتیجے میں نوجوان معتصم صلاح شہید ہو گئے اور ایک اور شخص زخمی ہو گیا۔
اسی طرح جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس کے مغرب میں طیبہ ٹاورز پر قابض طیاروں کے حملے کے نتیجے میں کل زخمی ہونے والے شہری ابراہیم محمد علام زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ نسل کشی کی جنگ کے دوران اسرائیلی بمباری میں زخمی ہونے والے خان یونس شہر کے رہائشی نوجوان فتحی حمادہ فتحی بریکہ مصر میں انتقال کر گئے۔
ایک مقامی ذریعے نے بتایا کہ شہر غزہ کے شمال مغرب میں الکرامہ محلے میں قابض افواج کی گولی لگنے سے ایک شہری زخمی ہو گیا، جبکہ خان یونس شہر کے جنوب میں مواصی کے علاقے میں بئر 19 کے مقام پر مہاجرین کے خیموں کو نشانہ بنانے والی شدید اسرائیلی فائرنگ کے نتیجے میں ایک اور شخص زخمی ہو گیا۔
اسرائیلی ہیلی کاپٹرز نے خان یونس شہر کے مشرق میں فائرنگ کی، جبکہ شہر کے جنوب میں مواصی کے علاقے میں بئر 19 کے مقام پر مہاجرین کے خیموں کو نشانہ بناتے ہوئے شدید اسرائیلی فائرنگ کی گئی۔
اسی طرح اسرائیلی ہیلی کاپٹرز نے پٹی کے جنوب میں رفح شہر کے مغرب میں بھی فائرنگ کی۔
قابض افواج نے غزہ کی پٹی کے شمالی علاقوں کی طرف اپنے ٹینکوں سے شدید فائرنگ کی، اور پٹی کے شمال میں جبانیہ کیمپ کے مشرقی علاقوں کو بھی فائرنگ کا نشانہ بنایا۔
اسی ضمن میں قابض فوج کی توپ خانے نے جبالیہ کیمپ کے مشرقی علاقوں پر گولہ باری کی، جبکہ اس دوران علاقے میں عسکری گاڑیوں کی طرف سے فائرنگ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
شہر غزہ میں قابض افواج نے شہر کے مشرقی علاقوں میں دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کے دو آپریشن کیے۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال 10 اکتوبر کو جنگ بندی کے آغاز سے لے کر اب تک شہداء کی تعداد 1460 شہداء تک پہنچ گئی ہے، اس کے علاوہ 5116 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ لاشیں نکالنے کے 836 کیسز بھی درج کیے گئے ہیں۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی جارحیت میں شہداء کی مجموعی تعداد 74243 اور زخمیوں کی 175232 تک پہنچ چکی ہے، جو پٹی پر قابض فوج کی مسلسل جارحیت کی بھاری انسانی قیمت کی عکاسی کرتی ہے۔
