رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسیران کے میڈیا آفس نے بتایا ہے کہ مقبوضہ النقب عقوبت خانے میں زخمی اسیران درد کش ادویات کی عدم دستیابی کے باعث مسلسل شدید تکالیف کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے سردیوں کی شدید ٹھٹھرتی سردی میں اور اسیران کی مصائب میں مزید اضافے سے قبل عاجلانہ بنیادوں پر ضروری علاج اور ادویات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
میڈیا آفس نے جمعرات کے روز جاری کردہ ایک بیان میں وضاحت کی کہ زخمی اسیران مسلسل درد اور علاج سے محرومی کے سائے میں اپنی ضروری طبی دیکھ بھال کی فراہم کا مطالبہ کر رہے ہیں، جب کہ آفس نے ان کے مطالبات کو فوری طور پر پورا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
بیان میں اس بات پر شدید زور دیا گیا کہ زخمی اسیران کو علاج سے محروم رکھنا چوتھے جنیوا کنونشن میں طے شدہ طبی دیکھ بھال کی ضمانتوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
یہ تنبیہات مقبوضہ النقب عقوبت خانے کے اندر صحت اور معیشت کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی مسلسل موصول ہونے والی شہادتوں کے سائے میں سامنے آئی ہیں۔ چنانچہ کمیشن برائے امور اسیران نے اس سے قبل اپنے وکیل کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے قطاع غزہ سے تعلق رکھنے والے اسیران کی وہ شہادتیں نقل کی تھیں جن میں مسلسل تشدد، علاج اور بنیادی ضروریات سے محرومی کا ذکر کیا گیا تھا۔
کمیشن نے بتایا کہ متعدد اسیران کے وزن میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے، اور وہ مسلسل بیماریوں اور درد میں مبتلا ہیں، جب کہ ان کی علاج کی درخواستوں کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کمیشن نے عقوبت خانے پر دھاووں، سرکوبی، مار پیٹ، تذلیل، اور کپڑوں و صفائی کے سامان کی شدید قلت کو بھی دستاویز کیا ہے، جو اسیران کی جسمانی اور نفسیاتی اذیتوں کو دوچند کر دیتی ہے۔
طبی علاج سے محرومی کی یہ شکایات صرف مقبوضہ النقب عقوبت خانے تک محدود نہیں ہیں؛ کیونکہ کمیشن نے اسی جاری ماہ کی 11 تاریخ کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں ان اسیران کے کیسز کو بھی دستاویز کیا ہے جو ایسے زخموں اور بیماریوں کا شکار ہیں جن کے لیے طبی معائنہ اور مسلسل دیکھ بھال درکار ہے، لیکن انہیں یہ سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔
ان کیسز میں اسیر عدی عنبص بھی شامل ہے، جو اپنے پھیپھڑوں میں گولی کا چھرا (شظیہ) موجود ہونے کی وجہ سے شدید درد میں مبتلا ہے اور اسے ایکسرے و طبی معائنوں کی اشد ضرورت ہے، نیز کمیشن نے بتایا کہ اس کا اسیر بھائی عمار عنبص بھی گھٹنے اور کمر کے درد حصے میں شدید درد کا شکار ہے جو سردی کے ساتھ مزید بڑھ جاتا ہے، جب کہ اس کی تجویز کردہ ادویات یا متبادل مسکنات کی فراہمی سے مسلسل انکار کیا جا رہا ہے۔
حقوقی سطح پر، اسرائیلی حقوقی تنظیم “بتسیلم” نے جاری سال کے آغاز میں شائع ہونے والی اپنی رپورٹ “زندہ جہنم” میں اس بات کا نتیجہ اخذ کیا ہے کہ فلسطینی اسیران کے ساتھ بدسلوکی کے منظم اور طے شدہ طریقوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جن میں جسمانی و نفسیاتی تشدد، عمدہ طور پر بھوکا رکھنا اور طبی دیکھ بھال سے محروم رکھنا شامل ہے۔
یہ رپورٹ رہائی پانے والے 21 فلسطینیوں کی شہادتوں کے ساتھ ساتھ دیگر حقوقی تنظیموں کے اعداد و شمار پر مبنی تھی۔
شکنجه اور تشدد سے متعلق اقوامِ متحدہ کی خصوصی رپورٹر ایلس جِل ایڈورڈز نے گذشتہ مئی میں شدید مار پیٹ، بھوکا رکھنے، علاج سے محرومی اور توہین آمیز حالاتِ قید سے متعلق شہادتوں کی سنگینی سے خبردار کرتے ہوئے آزادانہ و شفاف تحقیقات کرنے اور ان تجاوزات کے ذمہ دار عناصر کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔
مقبوضہ النقب کے زخمی اسیران کی یہ عاجلانہ اپیل ایک ایسے وقت میں حقیقی علاج اور باقاعدہ طبی دیکھ بھال کی شدید ترین ضرورت کو دوبارہ نمایاں کرتی ہے، جب مسلسل سرکوبی اور بنیادی ضروریات کی قلت شدید سردی کے موسم کو ان جسموں کے لیے ایک اضافی بوجھ بنا دیتی ہے جو زخموں اور قید و بند کی صعوبتوں سے پہلے ہی نڈھال ہو چکے ہیں۔
