Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج نے فلسطینی خاندان کا گھر مسمار کر دیا

مقبوضہ بیت المقدس (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض صہیونی دشمن فوج کی گاڑیوں نے جمعرات کی صبح بغیر پرمٹ کی تعمیر کو بہانہ بنا کر مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قصبے الرام میں شہری اشرف سلہب کی دو منزلہ رہائشی عمارت کو مسمار کر دیا، جو کہ القدس گورنری میں فلسطینی رہائش گاہوں اور تنصیبات کو ہدف بنانے والے مسماری کے کارروائیوں کا تسلسل ہے۔

یہ کارروائی مقبوضہ بیت المقدس اور اس کے اطراف میں رہائشی عمارتوں کی مسماری میں شدت کے سائے میں سامنے آئی ہے، جن میں متعدد اپارٹمنٹس پر مشتمل عمارتیں بھی شامل ہیں، جب کہ اس کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کی تعمیرات پر سخت پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں اور گھروں کے مالکان کا مسماری کے احکامات اور بھاری جرمانوں کے ذریعے پیچھا کیا جا رہا ہے۔

القدس گورنری کے اعداد و شمار کے مطابق قابض حکام نے سنہ 2026ء کے پہلے نو مہینوں کے دوران القدس گورنری میں 427 مسماری اور بلڈوزنگ کے اقدامات کیے ہیں، جن میں سے کچھ کارروائیاں قابض فوج کی گاڑیوں نے خود کیں اور کچھ دیگر ایسی تھیں جنہیں گھروں کے مالکان خود اپنے ہاتھوں مسمار کرنے پر مجبور ہوئے۔

چنانچہ جاری ماہ کی 21 اکتوبر کو قابض فورسز نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قلندیا کیمپ کے قریب الواد کے علاقے میں سات اپارٹمنٹس پر مشتمل ایک رہائشی عمارت کو مسمار کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں القدس گورنری کے مطابق 35 فلسطینی بے گھر ہو گئے تھے، جبکہ اس وقت گورنری نے بتایا تھا کہ کارروائی کے دوران قابض فورسز نے گھروں کے مالکان پر تشدد کیا اور ایک گاڑی کو بھی تباہ کر دیا تھا۔

اس سے قبل چھ اکتوبر کو اطور محلے میں پانچ منزلہ عمارت کو مسمار کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور “اوچا” کے مطابق 36 بچوں سمیت 69 فلسطینی بے گھر ہو گئے تھے۔ “اوچا” نے اس واقعے کو سنہ 2009ء میں ان کارروائیوں کو دستاویز کرنا شروع کرنے کے بعد سے مقبوضہ بیت المقدس میں مسماری کے ایک ہی واقعے میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد کے لحاظ سے سب سے بڑا واقعہ قرار دیا تھا۔

پرمٹ کی پابندیاں رہائش گاہوں کا تعاقب کر رہی ہیں

بغیر پرمٹ کے تعمیر کا بہانہ ان اہم ترین ہتھکنڈوں میں سے ایک ہے جنہیں قابض حکام فلسطینی تنصیبات کو مسمار کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، ایسے وقت میں جب فلسطینیوں کو ضروری پرمٹ حاصل کرنے کے لیے انتہائی دشوار گزار رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

“اوچا” کی رپورٹس میں پتا چلتا ہے کہ مشرقی بیت المقدس اور زون (C) کے علاقوں میں تعمیراتی پرمٹ حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے، متاثرہ خاندانوں نے اپنی عمارتوں کے پرمٹ حاصل کرنے یا ان کی مسماری کے خلاف سالوں پر محیط قانونی جنگیں لڑیں، لیکن کوئی کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ اس کے علاوہ خاندانوں کو خود اپنے ہاتھوں مسماری پر مجبور کیا جاتا ہے تاکہ وہ ان اضافی فیسوں اور بھاری جرمانوں سے بچ سکیں جو قابض حکام خود مسماری کی کارروائی انجام دیتے وقت عائد کرتے ہیں۔

تازہ ترین مثالوں میں قابض حکام نے جاری ماہ کی 25 اکتوبر کو شہری فواز الرجبی کو بیت حنینا میں اپنا مکان خود مسمار کرنے پر مجبور کر دیا، باوجود اس کے کہ اس پر پہلے 60 ہزار شیکل کے بھاری جرمانے عائد کیے جا چکے تھے، جیسا کہ وادی حلوہ اطلاعاتی مرکز نے رپورٹ کیا۔

یہ مکان جس کا رقبہ 60 مربع میٹر تھا تقریباً 15 سال سے قائم تھا اور الرجبی، ان کی اہلیہ اور ان کے پانچ بچوں کی پناہ گاہ تھا، جو ان مسلسل بوجھ کو بے نقاب کرتا ہے جن کا سامنا خاندانوں کو جرمانوں، مکان کی محرومی اور متبادل پناہ گاہ کی تلاش کے دوران کرنا پڑتا ہے۔

سینکڑوں بے گھر افراد

اقوامِ متحدہ کے ادارے “اوچا” کی 15 اکتوبر کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سال کے آغاز سے مغربی کنارے میں پرمٹ نہ ہونے کے بہانے تنصیبات کی مسماری کے نتیجے میں بے گھر ہونے کے واقعات میں سے ایک تہائی سے زیادہ کا تعلق مشرقی بیت المقدس کے علاقے سے تھا، جہاں رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق کل 1,755 بے گھر فلسطینیوں میں سے 636 کا تعلق اسی علاقے سے تھا۔

وسیع تر القدس گورنری کی سطح پر، گورنری نے روان سال کی تیسری سہ ماہی (جولائی سے ستمبر کے درمیان) 139 مسماری اور بلڈوزنگ کی کارروائیوں کو دستاویز کیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ مسماری، بیدخلی اور املاک کی ضبطگی سے متعلق 150 نوٹس اور فیصلے جاری کیے گئے، جن میں مسماری کے 140 نوٹس اور فیصلے شامل ہیں۔

الرام میں سلہب کے گھر کی مسماری اس سلسلے میں ایک اور نئے واقعے کا اضافہ کرتی ہے، جس کے اثرات صرف عمارتوں کے نقصان تک محدود نہیں رہتے، بلکہ خاندانوں کے وسائل کو نچوڑنے اور ان کے استحکام کو کمزور کرنے تک پھیل جاتے ہیں، جبکہ ایک محفوظ رہائش گاہ کا حصول تعمیراتی پابندیوں اور مسماری کے احکامات کے باعث مسلسل خطرے میں رہتا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan