غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی اسیران میڈیا کے دفتر نے الرملہ کے بدنام زمانہ عقوبت خانے”راکیفیت“ میں قید غزہ کی پٹی کے اسیران پر ہونے والے مسلسل پرتشدد حملوں کو بے نقاب کیا ہے، جن میں لاٹھیوں سے تشدد، زہریلی گیس اور مرچوں کے سپرے کا چھڑکاؤ، ربڑ کی گولیوں اور صوتی بموں کا استعمال شامل ہے۔ ان مظالم کے نتیجے میں متعدد اسیران کے ہاتھوں اور پاؤں پر شدید زخم اور جھلسنے کے نشانات آئے ہیں، جبکہ خاص طور پر بیمار اور زخمی اسیران کی زندگیوں کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
میڈیا دفتر نے منگل کے روز ایک بیان میں بتایا کہ تشدد کے یہ واقعات ہر ہفتے جمعے اور ہفتے کے دن جیل انچارج کی عدم موجودگی میں دہرائے جاتے ہیں اور اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ جیل کے اہلکار بغیر کسی روک ٹوک یا سزا کے خوف کے یہ مظالم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ گذشتہ جمعے کے روز تازہ ترین حملہ کمرہ نمبر 15 پر کیا گیا، جہاں اسیران کو لاٹھیوں سے پیٹا گیا اور شکاری کتوں کو ان کے اندر چھوڑ دیا گیا، جو کہ کمروں پر چھاپوں اور قیدیوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے مسلسل سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
دفتر نے مزید کہا کہ جیل کے اہلکار اسیران کو ایسے کمروں میں منتقل کرتے ہیں جہاں سی سی ٹی وی کیمرے موجود نہیں ہوتے تاکہ ان پر وحشیانہ تشدد کیا جا سکے، جس سے ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کی دستاویز سازی انتہائی دشوار ہو جاتی ہے اور مسلسل تشدد کے سایے میں ان کی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں شدید اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ نیا انکشاف انہی شہادتوں کا تسلسل ہے جو میڈیا دفتر نے گذشتہ ہفتوں کے دوران اسی شعبے میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں شائع کی تھیں۔ گذشتہ 14 ستمبر کو یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ غزہ کے اسیران کو بغیر کیمروں والے سیلوں میں منتقل کر کے شدید زدوکوب کیا گیا، جس میں ان کے ہاتھ، پاؤں اور آنکھیں پٹیاں باندھ کر ان کے حساس اعضا کو نشانہ بنانا بھی شامل تھا، اور دفتر نے ان افعال کو ”جسمانی اور جنسی تشدد“ قرار دیا تھا۔
گذشتہ 19 ستمبر کو دفتر نے انکشاف بھی کیا تھا کہ اس حراستی کیمپ کی انتظامیہ ایک ایسے طریقے پر عمل پیرا ہے جس میں ہر کمرے سے ایک اسیر کو الگ کر کے اسے لاٹھیوں سے پیٹا اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ باقی اسیران کو دبانے کے لیے زہریلی گیس اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا جاتا ہے، جو اس جیل کے اندر تشدد کے یکساں طریقوں کے دہرائے جانے کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ تمام پرتشدد کارروائیاں ایک انتہائی سخت قید کی صورتحال کا حصہ ہیں، جہاں مار پیٹ اور تشدد کے ساتھ بنیادی ضروریات سے محرومی کے اقدامات کو باہم ملا دیا گیا ہے۔
کلب برائے اسیران نے گذشتہ فروری میں اسیران کو منظم بھوک اور تعذیب وتشدد کی پالیسیوں کا نشانہ بنائے جانے پر خبردار کرتے ہوئے ان کے قید کے حالات کو اسیران تحریک کی تاریخ کے خطرناک ترین حالات قرار دیا تھا۔
صحت کے حوالے سے بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا تھا؛ جہاں اسیران کی تنظیموں نے گذشتہ جون میں عالمی ادارہ صحت سے اپیل کی تھی کہ وہ اسیران میں خارش کی بیماری پھیلنے کے بعد فوری مداخلت کرے، جو کہ جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ عقوبت خانوں کے اندر مصائب کے وسیع تر دائرے کا واضح ثبوت ہے۔
اسیران میڈیا کے دفتر نے حقوقِ انسانی کے اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ”راکیفیت“ حراستی کیمپ میں جاری تشدد کو رکوانے، قیدیوں کو تحفظ فراہم کرنے، آزاد مبصرین کی ٹیموں کو جیل کے دورے اور مظالم کی دستاویز سازی کی اجازت دینے، اور زخمیوں کے علاج کے ساتھ ساتھ تعذیب کے ذمہ داروں کے محاسبے کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
