الخلیل – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں قابض اسرائیلی افواج نے فلسطینیوں کے خلاف اپنے مظالم میں شدت پیدا کر دی ہے، جہاں منگل کے روز شہر پر پانچویں دن بھی جاری عسکری کارروائی اور مسلط کردہ محاصرے کے سایے میں چار بچوں اور دو معمر افراد سمیت سات شہریوں پر تشدد کیا گیا، جبکہ دوسری طرف اقوام متحدہ نے جبری بے دخلی، اجتماعی سزا اور نسلی تطہیر کے خطرات سے پیدا ہونے والے نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی نے رپورٹ دیا کہ اس کے عملے نے الخلیل کے جنوبی علاقے الفحص میں قابض افواج کے تشدد کے بعد دو عمر رسیدہ افراد سمیت تین شہریوں کو ہسپتال منتقل کیا، جبکہ ان کے زخموں کی نوعیت یا ان کی طبی حالت کے بارے میں واضح نہیں ہو سکا۔
ایک دوسرے واقعے میں انسانی حقوق کے کارکن عارف جابر نے بتایا کہ قابض افواج نے پرانے شہر کے حارہ السلایمہ میں چار فلسطینی بچوں کو حراست میں لیا اور انہیں شہر کے ایک پولیس سٹیشن لے گئیں۔ جہاں رہائی سے قبل انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
یہ مظالم اس فوجی کارروائی کے تسلسل میں سامنے آئے ہیں جسے قابض فوج نے گذشتہ جمعہ کے دن الخلیل میں شروع کیا تھا۔ اس دوران شہر کا محاصرہ کیا گیا اور اس کے راستوں کو بند کر دیا گیا، جبکہ شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں سخت کرنے کے ساتھ بنیادی سہولیات تک ان کی رسائی کو معطل کیا گیا۔
فوجی کارروائی کے انسانی اور قانونی نتائج سے خبردار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے حقوق انسانی فولکر ترک نے کہا کہ اسرائیلی عسکری اقدامات کے نتیجے میں 2000 سے زائد فلسطینیوں کی جبری بے دخلی ہوئی ہے، اس کے علاوہ مکانات اور تجارتی املاک کو تباہ کیا گیا اور رہائشیوں کو نقل و حرکت کی آزادی سے محروم رکھا گیا۔
جنیوا میں جاری ایک بیان میں ترک نے اس بات پر زور دیا کہ وسیع پیمانے پر کیے جانے والے اسرائیلی اقدامات بلا ضرورت اور غیر متناسب طاقت کے استعمال کے بارے میں سنگین خدشات پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ عسکری ناکہ بندی شہریوں کی بڑی تعداد کو ان کے گھروں اور رہائشی علاقوں کے اندر محصور کر دیتی ہے۔
اقوام متحدہ کے عہدیدار نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ سینئر اسرائیلی حکام کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ اٹھائے گئے اقدامات انتقامی نوعیت کے ہیں اور ان کا مقصد شہریوں میں خوف پیدا کرنا ہے، جس کو انہوں نے ناقابل قبول قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بے دخل کیے گئے فلسطینیوں کو ان کے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دینا لازمی ہے ، غیر قانونی طور پر نکالے جانے اور مسمار کرنے کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے ازالے اور معاوضے کو یقینی بنایا جائے۔
ترک نے خبردار کیا کہ اجتماعی سزا بین الاقوامی قانون کی شدید خلاف ورزی ہے اور پورے کے پورے علاقوں کو خالی کرانے اور مٹانے کی دھمکیاں نسلی تطہیر کے سنگین خدشات کو جنم دیتی ہیں۔
دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے میں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی ’انروا‘ کے ڈائریکٹر رولینڈ فریڈرک نے الخلیل میں سکیورٹی اور انسانی صورتحال کی ابتری پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ موجودہ پیش رفت سنہ 2025ء کے اوائل میں شمالی مغربی کنارے میں دیکھی جانے والی جبری بے دخلی کی وسیع لہر کی یاد تازہ کرتی ہے۔
فریڈرک نے وضاحت کی کہ جنین، طولکرم اور نور شمس کیمپوں کے 34 ہزار سے زائد پناہ گزین ایک سال سے زائد عرصے سے جبری طور پر بے دخل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اجتماعی سزا بین الاقوامی قانون کے منافی ہے،یہ کہ بے دخل افراد کی واپسی، ان کی عزت اور حقوق کے احترام اور انہیں بنیادی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا لازم ہے۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ “انروا” نے اپنے شرکاء، القدس گورنری، الخلیل گورنری اور اس کی بلدیہ کے ساتھ مل کر متاثرہ خاندانوں کی فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے قدم اٹھایا ہے، اور امدادی سامان تقسیم کیا ہے جس میں کمبل، گدے اور تکیے شامل ہیں۔
الخلیل میں اسرائیلی فوجی کارروائی 23 اکتوبر سنہ 2026ء سے جاری ہے، جس کے دوران 3000 سے زائد شہریوں کے ان کے گھروں سے جبری بے دخل کیے جانے، ذاتی مکانات اور املاک کی مسماری، اور شہریوں کی نقل و حرکت اور بنیادی خدمات تک رسائی پر شدید پابندیاں عائد کرنے کی اطلاعات ہیں۔ یہ وہ پیش رفت ہے جس نے بین الاقوامی سطح پر خلاف ورزیوں کے دائرے کے وسیع ہونے اور شہر میں انسانی بحران کے ابتر ہونے سے متعلق شدید انتباہات کو جنم دیا ہے۔
