Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

بن گویر نے فلسطینیوں کی بے دخلی اور گھروں کی مسماری کو اپنی کامیابی قرار دے دیا

مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کا انتہا پسند اور مجرم وزیر برائے قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر مقبوضہ نقب میں ڈیڑھ برس کے دوران 10,000 مکانات مسمار کرنے پر فخر کر رہا ہے اور فلسطینیوں کے مسکنوں کی تباہی کو ایک ایسا سیاسی کارنامہ قرار دے رہا ہے جس پر جشن منایا جانا چاہیے۔ یہ ایک ایسا خطاب ہے جس میں بلڈوزر کا استعمال زمین پر تسلط جمانے کے ساتھ گڈمڈ ہو جاتا ہے۔

ہزاروں فلسطینی مکانات کی مسماری پر اس کا یہ فخر ایک ایسے منصوبے کے ایک حصے کو واضح کرتا ہے جو مقبوضہ اندرونی علاقوں میں فلسطینیوں کو نشانہ بناتا ہے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ان کے حقوق اور وجود کے خلاف اس کی اشتعال انگیز کارروائیوں سے ہم آہنگ ہے۔

بن گویر نے گذشتہ اگست میں نقب میں خاص طور پر توجہ مرکوز کرنے والی متعدد مہمات کے دوران مسماری کی اس تعداد تک پہنچنے پر جشن منایا تھا اور مسماری کا سلسلہ جاری رکھنے کی دھمکی دیتے ہوئے عمارات کے مالکان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بلڈوزرز کے پہنچنے سے پہلے خود ہی اپنے گھر مسمار کر لیں۔

اس بیان کی معنویت مسماری کے اعداد و شمار پر فخر کرنے سے آگے بڑھ کر فلسطینیوں کے مسکنوں سے محروم ہونے کو اس انتہا پسند وزیر کی کامیابی کے معیار میں تبدیل کرنے تک جاتی ہے۔ تباہی کا دائرہ جتنا وسیع ہوتا ہے، بن گویر اسے اپنے حامیوں کے سامنے کنٹرول بحال کرنے کی دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے اور اس بات کو نظر انداز کرتا ہے کہ یہ پالیسی کتنی بڑی بے دخلی کو جنم دیتی ہے۔ مکینوں کو اپنی بستیوں کو تسلیم کروانے، منصوبہ بندی اور تعمیرات کے حوالے سے پہلے ہی کن مشکلات کا سامنا ہے۔

مسماری ایک اعلانیہ پالیسی ہے

کنیسٹ کے اندر وزارت برائے قومی سکیورٹی نے گذشتہ جولائی میں ایسے اعداد و شمار پیش کیے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران اس سے پہلے کے تین برسوں کے مقابلے میں نقب میں مسماری کی کارروائیوں کے دائرہ کار میں 81 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اسی اجلاس میں بن گویر نے اس طریقے کے خاتمے کا اعلان کیا جو مکینوں کے رد عمل کے خوف سے آباد گھروں کو مسمار کرنے سے گریز کرتا تھا اور اس نے نقب میں ان تمام گھروں کو مسمار کرنے کا مطالبہ کیا جنہیں حکام ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہیں۔

یہ موقف ظاہر کرتا ہے کہ آباد گھروں کو نشانہ بنانا اس مہم کا کوئی ضمنی اثر نہیں ہے، بلکہ ایک ایسا انتخاب ہے جس کا وزیر کھل کر دفاع کرتا ہے۔ اسی طرح مسماری کو قانون کا نفاذ قرار دینا اس بنیادی سوال کو چھپا لیتا ہے کہ ایک فلسطینی قانونی طور پر کیسے تعمیرات کر سکتا ہے جب حکام اس کی بستی کو تسلیم ہی نہیں کرتے، یا اسے ایسی منصوبہ بندی سے محروم رکھتے ہیں جو لائسنس کے اجراء کو ممکن بناتی ہے؟

اقوام متحدہ کی آزاد بین الاقوامی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے سنہ 2025ء میں جاری کردہ ایک رپورٹ میں بڑے پیمانے پر مسماری اور تعمیراتی لائسنس حاصل کرنے کی تقریبا ناممکن حد تک کٹھن صورتحال کی وجہ سے رہائشی بحران کے شدت اختیار کرنے کی دستاویزی تصدیق کی ہے۔ رپورٹ میں اس پالیسی کے تیز ہونے کو اگست سنہ 2024ء میں پلاننگ اور کنسٹرکشن لاز انفورسمنٹ یونٹ بن گویر کی وزارت کو منتقل کرنے سے جوڑا اور ایسی رپورٹس کا بھی ذکر کیا جن میں اس نے پولیس کو ان خاندانوں کے گھر مسمار کرنے کو ترجیح دینے کی ہدایت کی تھی جن میں خاندان رہائش پذیر ہیں۔

ام الحیران کی بستی سرکاری بیانیے کے تضاد کو واضح طور پر بے نقاب کرتی ہے۔ اسی اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق نئی یہودی بستی کے لیے جگہ بنانے کی غرض سے اس بستی کی تباہی نومبر سنہ 2024ء میں مکمل ہو گئی تھی حالانکہ صہیونی حکام نے ہی اس کے مکینوں کو سنہ 2023ء میں اس مقام پر آباد ہونے کی ہدایت کی تھی اور اس طرح بعد میں ان کے وجود کو اس زمین پر تجاوزات کے طور پر لیا گیا جہاں انہیں سرکاری فیصلے کے تحت منتقل کیا گیا تھا۔

فلسطینی پروپیگنڈے کا نشانہ ہیں

یہ پالیسی انتظامی فائلوں تک محدود نہیں رہی۔ چھے اکتوبر رواں سال کو بن گویر نے مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے طور محلے میں پانچ منزلہ عمارت کی مسماری میں حصہ لیا۔ کیمرے کے سامنے مسماری جاری رکھنے کی تصدیق کی۔ اس کے بعد اس نے رہط کے قریب درجنوں گھروں کی مسماری پر جشن منایا۔

چھ ماہ کے دوران اس کے شائع ہونے والے بیانات کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ فلسطینیوں اور عربوں کو متاثر کرنے والے ٹویٹس کی شرح کنیسٹ کی تحلیل سے پہلے کے 37 فیصد سے بڑھ کر انتخابی مہم کے دوران 56 فیصد ہو گئی۔ اس شدت میں مقبوضہ اندرونی علاقوں میں فلسطینیوں کی سیاسی نمائندگی کو نشانہ بنانا بھی شامل تھا۔ اس نے فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرنے والے عرب ارکان اسمبلی اور جماعتوں کو ’پانچواں کالم‘ قرار دیا۔

یہ حقائق اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ مسماری کا عمل سیاسی اخراج سے جڑا ہوا ہے۔ فلسطینی کو اس کے گھر میں اپنی زمین پر رہنے کے حق میں، اس کی سیاسی نمائندگی کی قانونی حیثیت میں نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، نقب میں غیر تسلیم شدہ دیہات کی علاقائی کونسل اس بات پر زور دیتی ہے کہ بحران کا حل دیہات کو تسلیم کرنے اور ان کی ترقی سے شروع ہوتا ہے، اس نے پورے محلوں اور بستیوں کو نشانہ بنانے اور مسماری کو پروپیگنڈے کا آلہ کار بنانے کے خلاف خبردار کیا ہے۔

نقب سے مغربی کنارے تک

مغربی کنارے میں بن گویر نے شروع ہی سے اسی منطق کا اظہار کیا تھا۔ چنانچہ اگست سنہ 2023ء میں ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران اس نے مغربی کنارے کی سڑکوں پر نقل و حرکت کے معاملے میں اپنے اور اپنے خاندان کے حق کو فلسطینیوں کے نقل و حرکت کے حق پر فوقیت دی، جو ایک ایسا بیان تھا جس نے ایک ایسے نظریے کو بے نقاب کیا جو قابض آباد کار کو زمین کے مالک پر فوقیت دیتا ہے اور اس امتیازی سلوک کے تحفظ کے لیے فلسطینیوں کی زندگیوں پر پابندیوں کو قابل قبول بناتا ہے۔

اس کے خطابات کے نتائج صرف مذمت تک محدود نہیں رہے۔ چنانچہ 10 جون سنہ 2025ء کو برطانیہ نے آسٹریلیا، کینیڈا، نیوزی لینڈ اور ناروے کے ساتھ مل کر فلسطینیوں کے خلاف بار بار تشدد پر اکسانے کی پاداش میں اس پر اور بزلئیل سموٹریچ پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔ برطانوی بیان نے اس فیصلے کو خاص طور پر مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف حملوں اور تشدد کی کارروائیوں سے جوڑا۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار اس ماحول کے حجم کو ظاہر کرتے ہیں جس میں یہ اشتعال انگیزی بڑھ رہی ہے۔ امور انسانی کو مربوط کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے دفتر نے 15 اکتوبر رواں سال کو جاری کردہ اپنی رپورٹ میں سال کے آغاز سے لے کر اب تک آباد کاروں کے دو ہزار سے زائد ایسے حملوں کی دستاویزی تصدیق کی ہے جن کے نتیجے میں زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے یا املاک کو نقصان پہنچا۔ اس نے یہ بھی ریکارڈ کیا کہ جنوری سنہ 2023ء سے اب تک آباد کاروں کے حملوں اور اس سے جڑی پابندیوں کی وجہ سے 49 فلسطینی بستیاں مکمل طور پر خالی ہو چکی ہیں، جن میں سنہ 2026ء کے دوران خالی ہونے والی 13 بستیاں بھی شامل ہیں۔

نقب سے لے کر مغربی کنارے تک دباؤ کے اوزار اور اس پر عمل درآمد کرنے والے ادارے مختلف ہیں، لیکن حقائق جو نتیجہ ظاہر کرتے ہیں وہ ایک دوسرے کے قریب تر ہے۔ یہ نتیجہ فلسطینیوں کی رہائش، نقل و حرکت اور بقا کی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔ جب مسمار ہونے والی عمارات کی تعداد فخر کا سامان بن جائے، تو ان کے مالکان کو بے گھر کرنا اس کامیابی کا حصہ بن جاتا ہے جسے وزیر اپنے حامیوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan