غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کی قابض اسرائیلی خلاف ورزیاں جاری رہیں، جہاں مختلف علاقوں میں تازہ بمباری اور فائرنگ کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی ہو گئے، جب کہ قابض فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا ایک بچہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گیا اور سابقہ بمباری میں شہید ہونے والے ایک شہری کی میت برآمد کر لی گئی۔
جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے مغرب میں واقع ‘المسلخ’ کے علاقے پر قابض اسرائیلی ڈرون طیارے کے حملے میں متعدد شہری زخمی ہو گئے، جب کہ شہرِ غزہ کے جنوب مشرق میں واقع محلہ زیتون کو نشانہ بنا کر کی جانے والی بمباری کے نتیجے میں ایک شہری شدید زخمی ہو گیا۔
خان یونس میں آٹھ سالہ بچہ یامن ہشام یحییٰ صقر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا، جو گذشتہ بدھ کو قیضان رشوان کے علاقے میں قابض فورسز کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوا تھا۔
اسی تناظر میں، امدادی ٹیموں اور شہری دفاع کے اہلکاروں نے 47 سالہ شہید محمد مسلم عطوان اقعیس کی میت کو شہرِ غزہ کے شمال میں واقع الواحہ کے علاقے سے برآمد کر لیا، جو تین دن پہلے اس علاقے پر قابض طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں شہید ہو گئے تھے۔
علاوہ ازیں قابض دشمن کے ڈرون طیاروں نے خان یونس شہر کے جنوب میں بم گرائے، جب کہ شہر کے شمال میں واقع حمد ٹاؤن کے مشرق میں عسکری گاڑیوں کی جانب سے اندھا دھند اور شدید فائرنگ کی گئی۔
یہ پیش رفت جنگ بندی کے معاہدے کی مسلسل اسرائیلی خلاف ورزیوں کے سلسلے میں سامنے آئی ہے، جو ہوائی و توپ خانے کی بمباری، فائرنگ، شہریوں کو نشانہ بنانے، نیز ٹارگٹ کلنگ کے آپریشنز اور نام نہاد ‘پیلی لائن’ کو آگے بڑھا کر عسکری کنٹرول کا دائرہ وسیع کرنے کی شکل میں جاری ہیں۔
یلولائن کی اس توسیع کے باعث فلسطینیوں کے لیے دستیاب جگہ مزید محدود ہوتی جا رہی ہے اور جنگ بندی کا معاہدہ نافذ العمل ہونے کے باوجود وسیع علاقے مسلسل عسکری خطرات کی زد میں ہیں۔
اس سلسلے میں غزہ میں فلسطینی وزارتِ صحت نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ 11 اکتوبر سنہ 2025ء کو جنگ بندی کا معاہدہ نافذ العمل ہونے کے بعد سے اب تک شہداء کی تعداد بڑھ کر 1,574 ہو چکی ہے، جب کہ 5,687 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اس طرح سات اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ پٹی پر جاری اسرائیلی جارحیت کے متاثرین کی کل تعداد بڑھ کر 74,570 شہداء اور 175,808 زخمیوں تک پہنچ گئی ہے۔
