غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) بین الاقوامی تنظیم ‘سیو دی چلڈرن’ کے اعلان کے مطابق جنگ کے پہلے سال کے مقابلے میں باہر علاج کی غرض سے غز ہ کی پٹی سے بچوں کے طبی انخلا کے عمل میں 75 فیصد کی نمایاں کمی آئی ہے، جب کہ اس وقت بھی تقریباً 21 ہزار مریض اور زخمی جن میں سے ایک چوتھائی بچے ہیں لازمی طبی دیکھ بھال حاصل کرنے کے لیے باہر جانے کی اجازت کے منتظر ہیں۔
تنظیم نے ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ طبی انخلا کی مسلسل رکاوٹوں کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی بچے بڑھتے ہوئے شدید خطرات سے دوچار ہیں، کیونکہ انہیں ایسے علاج کی اشد ضرورت ہے جو پٹی کے اندر دستیاب نہیں ہے۔
تنظیم نے اشارہ کیا کہ وہ مصر کے دار الحکومت قاہرہ میں فلسطینی بچوں کے لیے ایک محفوظ جگہ کی دیکھ بھال کر رہی ہے جسے ‘چھوٹا غزہ’ کے نام سے جانا جاتا ہے، تاہم مالی معاونت کی کمی کے خطرے کے باعث اگلے سال اسے بند کرنا پڑ سکتا ہے، حالانکہ اس کی ضرورت بدستور موجود ہے۔
تنظیم کے مطابق اس جگہ کی خدمات سے استفادہ کرنے کے لیے انتظار کی فہرست میں شامل افراد کی تعداد تقریباً پانچ ہزار تک پہنچ چکی ہے۔
جنگ کے آغاز سے لے کر اب تاثر ‘سیو دی چلڈرن’ نے مصر میں تقریباً 18 ہزار فلسطینیوں کو امداد فراہم کی ہے، جو ان بچوں اور ان کے خاندانوں کو سہارا دینے کی کوششوں کا حصہ ہے جنہیں مجبوری میں غزہ پٹی چھوڑنا پڑا۔
تنظیم نے وضاحت کی کہ اس کی ہیلپ لائن سے رابطہ کرنے والے 93 فیصد افراد اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں، جب کہ 75 فیصد خاندان امدنی کے مکمل خاتمے کا شکار ہیں اور 90 فیصد کے پاس کسی قسم کی بچت موجود نہیں ہے۔
یہ اعداد و شمار اس انسانی المیے کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہیں جس کا سامنا فلسطینی مریضوں اور بچوں کو ہے، چاہے وہ غزہ پٹی کے اندر ہوں جہاں طبی انخلا کا عمل مفلوج ہو چکا ہے، یا اس کے باہر ہوں جہاں خاندان آمدنی کے ذرائع کے خاتمے اور زندگی کی بنیادی ضروریات کی فراہمی میں کمی کے باعث اپنے وجود کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
