غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جنوبی غزہ کی پٹی میں واقع مواصی خان یونس کے ریگزاروں میں مقیم ہزاروں بے گھر فلسطینی ایک بار پھر ان دہلا دینے والے خدشات کے سائے میں ایک نئے موسم سرما کا استقبال کر رہے ہیں، جہاں اب بوسیدہ اور چیتھڑا بنے خیمے تیز ہواؤں، موصلادھار بارشوں اور خون جما دینے والی سردی کے سامنے ڈھال بننے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ دوسری جانب امدادی سامان کی نایابی اور نئے خیموں یا پناہ گاہوں کی مرمت کے لیے معمولی ترپال کا حصول بھی ناممکنات میں شامل ہو چکا ہے۔
موسم سرما کا آفت بن کر ٹوٹنے کا وقت جیسے جیسے قریب آ رہا ہے، ان خاندانوں کے زخم ایک بار پھر ہرے ہو رہے ہیں جنہیں جنگ کی ہولناکیوں اور بار بار کے اجاڑو نے نڈھال کر رکھا ہے۔ معاشی ابتری اور روزگار کے تمام ذرائع ختم ہو جانے کے باعث، یہ بے بس لوگ اب خوف کے عالم میں اس منظرنامے کو دیکھ رہے ہیں کہ کب بارش کا پانی ان کے خیموں کو ڈبوئے گا اور ان کے پاس بچ جانے والے گنے چنے بستر اور اوڑھنا بچھونا بھی تباہ کر ڈالے گا۔
بے گھر محمد عبد السلام کسی نئے خیمے یا محض چند ترپالوں کی تلاش میں مختلف فلاحی اداروں اور تنظیموں کی چوکھٹیں ناپ رہے ہیں، تاکہ وہ اپنے خاندان کو چھت فراہم کر سکیں یا اپنے اس خیمے کے پیوند لگا سکیں جو اب انہیں موسم کی سختیوں سے بچانے کے قابل نہیں رہا۔
عبد السلام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک خیمے یا مرمتی سامان کی آس میں کئی دروازے کھٹکھٹائے، لیکن اب تک ان کی فریاد پر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ اور ان کا پورا کنبہ ایک ایسے خیمے میں پڑے سسک رہے ہیں جسے بے رحم موسم نے تار تار کر دیا ہے اور جو اب انسانی رہائش کے قابل بالکل نہیں رہا۔
انیس برس کے عبد السلام جو سات نفوس پر مشتمل کنبے کے واحد کفیل ہیں بتاتے ہیں کہ ان کے پاس روزگار کا کوئی ذریعہ ہے نہ ایک پائی کی آمدنی، ان کے بچوں کا پیٹ صرف فلاحی اداروں سے ملنے والے ٹکڑوں پر پل رہا ہے۔
انہوں نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ ان دردناک حالات میں موسم سرما کا سورج طلوع ہونا ان کے اہل خانہ کے لیے کسی بڑی قیامت سے کم نہیں ہوگا، کیونکہ ان کا بوسیدہ خیمہ سردی کی لہر اور بارش کے طوفان کو روکنے کے قابل ہی نہیں رہا۔
عبد السلام کے مصائب کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اس سفاکانہ جنگ کے دوران شدید زخمی بھی ہوئے تھے۔ کواڈ کاپٹر ڈرون سے گرائے گئے بم کے چھرا ان کی سانس کی نالی کے قریب لگا، جس سے ان کی ریڑھ کی ہڈی متاثر ہوئی۔ اس زخم کے نتیجے میں وہ آج بھی اپنے بائیں ہاتھ اور بائیں ٹانگ میں شدید معذوری اور کمزوری کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے دل گرفتہ انداز میں بتایا کہ ان کے جسمانی زخموں کو مسلسل علاج اور دیکھ بھال کی ضرورت ہے، مگر مسلسل فاقہ کشی اور معذوری نے انہیں اپنے بچوں کے لیے روٹی کا ایک نوالہ فراہم کرنے سے بھی لاچار کر دیا ہے۔
خیمے جو بارش کی پہلی بوند بھی نہیں سہہ سکتے
ایک اور بے گھر شہری ابو احمد ابو موسی کی داستانِ غم بھی عبد السلام سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ وہ بھی اپنے پانچ افراد پر مشتمل خاندان کے ساتھ ایک ایسے لٹکے ہوئے اور بوسیدہ خیمے میں سسک رہے ہیں جو اب خیمہ کم اور پھٹے ہوئے کپڑوں اور پرانے کمبلوں کا ڈھیر زیادہ معلوم ہوتا ہے۔
ابو موسی نے بتایا کہ کیمپ کی انتظامیہ نے ان کے ٹوٹے ہوئے خیمے کو دیکھ کر اور ان کی کسمپرسی کا جائزہ لے کر ایک نیا خیمہ دینے کا وعدہ تو کیا تھا مگر شاطر موسم کی آمد سے پہلے اس وعدے کا وفا نہ ہونا ان کی راتوں کی نیندیں اڑا رہا ہے۔ انہیں خوف ہے کہ پچھلے سالوں کی طرح اس بار بھی ان کی کٹیا پانی میں غرق ہو جائے گی۔
انہوں نے غمزدہ لہجے میں کہا کہ جب آسمان سے آفت برسے گی تو ان کا پورا گھرانہ پانی میں ڈوب جائے گا، کیونکہ ان کے پاس آمدنی کا کوئی وسیلہ ہے اور نہ ہی اتنی سکندرانہ استطاعت کہ وہ خود سے کوئی نیا خیمہ خرید سکیں۔
وہ اپنی مالی حالت کو مکمل تباہی قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب ان کے جینے کی واحد تمنا صرف ایک ایسا خیمہ حاصل کرنا ہے جو ان کے ناتواں بچوں کو خون جما دینے والی سردی اور بارش کے بے رحم تھپیڑوں سے پناہ دے سکے۔
انہوں نے بتایا کہ مواصی کی اس سنگلاخ وادی میں بے گھر افراد کے لیے ایک صحیح سلامت خیمے کا حصول کسی حسرتِ ناکام یا لامتناہی خواب کی مانند بن چکا ہے، خاص طور پر جب موسم سرما اپنے تمام تر خطرات اور آفتوں کے ساتھ ان بے آسرا خاندانوں کے سر پر آن پہنچا ہے۔
دوسری جانب پچپن سالہ امین العقاد کا قصہ یہ ہے کہ وہ تقریباً ایک سال قبل سات سو شیکل کی بھاری رقم کا انتظام کر کے خیمہ خریدنے پر مجبور ہوئے تھے، کیونکہ متعلقہ اداروں سے کوئی آس باقی نہیں رہی تھی۔
پانچ نفوس کا پیٹ پالنے والے العقاد بتاتے ہیں کہ ایک سال کی سخت دھوپ اور ہواؤں کے بعد اب ان کا خیمہ بھی تار تار ہو چکا ہے اور اسے فوری بدلنے کی ضرورت ہے، لیکن روزگار کے خاتمے اور بدترین معاشی بدحالی کے باعث ان کے پاس اتنا پیسہ نہیں کہ وہ دوسرا خیمہ خرید سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ محکمہ موسمیات کی جانب سے آنے والے دنوں میں طوفانی بارشوں کی خبروں نے ان کا چین چھین لیا ہے۔ انہیں ڈر ہے کہ خیمے کی چھت سے پانی ٹپکنے سے ان کا رہا سہا سامان اور بستر بھی گل سڑ جائیں گے، جنہیں دوبارہ خریدنا ان کے بس سے باہر ہے۔
بار بار کی مصیبتیں اور امداد کی حتمی دہائی
اسی کیمپ کے ایک اور بے گھر رہائشی پینتالیس سالہ عصام الاسطل نے گذشتہ تین سال کے ان بھیانک دنوں کو یاد کیا جب بارش کا پانی ان کے خیموں میں داخل ہو کر تباہی مچایا کرتا تھا اور سردیوں کے دن ان کے لیے کسی عذاب کی طرح گزرتے تھے۔
الاسطل نے حسرت بھری امید ظاہر کی کہ کاش یہ موسم سرما پچھلے خوفناک سالوں جیسا نہ ہو! انہوں نے پُردرد لہجے میں اپیل کی کہ بے گھروں کو کم از کم نئے خیمے یا ترپال فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنے سر چھپانے کی جگہوں کو بارش کے تھپیڑوں سے بچا سکیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موسمِ سرما کی مکمل کڑک سے پہلے تمام متعلقہ عالمی اداروں اور فلاحی تنظیموں کو فوراً حرکت میں آنا چاہیے اور خیمے، ترپال اور بنیادی ضروریات فراہم کرنی چاہئیں، تاکہ ہزاروں بے گھر خاندانوں کی مسلسل سسکتی زندگیوں کو مزید بڑی آفتوں سے بچایا جا سکے۔
اگرچہ گیارہ اکتوبر سنہ 2025ء سے جنگ بندی کا معاہدہ نافذ العمل ہو چکا ہے مگر قابض صہیونی دشمن کی طرف سے امدادی سامان لے جانے والے ٹرکوں پر عائد کی گئی انتہائی سخت پابندیوں اور ناکہ بندی کے باعث غزہ کی پٹی میں انسانی سسکیوں کا سلسلہ تھم نہیں سکا اور صورتحال میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔
سفاکانہ جارحیت کے ان تقریباً تین برسوں کے دوران دسیوں ہزار خیمے قابض اسرائیل کی راست بمباری اور شدید گولہ باری کا نشانہ بن کر تباہ ہوئے، جبکہ بقیہ خیمے گرمیوں کی تپتی دھوپ اور سردیوں کی تیز ہواؤں جیسی قدرتی آفتوں کی نذر ہو کر چیتھڑوں میں تبدیل ہو گئے۔
رہائش کے بالکل ناقابل خیموں اور متبادل چھت سے محروم بے بس خاندانوں کے درمیان غزہ کے ہزاروں بے گھر فلسطینیوں کے سر پر سردی کا ساہوکار اور بارش کا خوف بن کر موسم سرما دستک دے رہا ہے، جبکہ ان کی پناہ، چھت اور تحفظ کی بنیادی انسانی ضروریات اب بھی برپا ہولناکیوں کے سامنے تشنہ لب ہیں۔
