مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ کے شمالی قصبے ترمسعیا میں یہودی آباد کاروں کی جانب سے امریکی شہریت کے حامل ایک معمر فلسطینی پر وحشیانہ حملے کے پس منظر میں امریکی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں معروف میڈیا پرسنلٹی ٹکر کارلسن اور قابض اسرائیل کے لیے امریکی سفیر مائیک ہکابی کے درمیان شدید زبانی تکرار دیکھنے میں آئی ہے۔
کارلسن نے سفیر ہکابی پر مظلوم کے اہل خانہ کی جانب سے مدد کے لیے پکاری جانے والی دہائیوں کو مکمل نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی سفارت خانے کی اپنے ہی شہری کی حفاظت سے یہ مجرمانہ غفلت انتہائی شرمناک ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سفیر یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں سفاکانہ تشدد کا نشانہ بننے والے امریکی شہری کے معاملے میں اپنی ذمہ داری کا احساس کریں۔
ایک وحشیانہ حملہ جس نے بحث و مباحثے کو جنم دیا
اس تلخ کلامی کا آغاز کارلسن کی جانب سے ایک ویڈیو کلپ شائع کرنے کے بعد ہوا، جس میں نقاب پوش یہودی آباد کاروں کو لکڑی کے ڈنڈوں سے معمر فلسطینی پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ ویڈیو میں نظر آنے والے روح فرسا مناظر سے واضح تھا کہ معمر شہری پر اس قدر سفاکیت سے تشدد کیا گیا جو ان کی جان لے سکتا تھا، جب کہ اس کے ساتھ ان کے خاندان کی گاڑی کو بھی پوری طرح نذرِ آتش کر دیا گیا۔
اس ویڈیو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وسیع پیمانے پر بحث چھیڑ دی اور دیکھتے ہی دیکھتے کچھ ہی دیر میں اس کے ویوز 50 لاکھ سے تجاوز کر گئے۔ اس درندانہ حملے پر شدید صدمے اور غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے، جب کہ مبصرین کی جانب سے اپنے شہریوں کی حفاظت کے حوالے سے امریکی حکام کے کمزور اور معذرت خواہانہ موقف پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
ہکابی کا سفارت خانے کا دفاع
دوسری جانب امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کارلسن کے الزامات کو رد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا اور اینکر پر حقیقت کی تلاش کے بجائے پہلے سے قائم شدہ تعصبات کے تحت فیصلے صادر کرنے کا الزام لگایا۔
ہکابی نے مقبوضہ بیت المقدس میں قائم امریکی سفارت خانے کے شعبہ برائے امریکی شہری خدمات کی جانب سے زخمی معمر شہری کے کیس کی پیروی کے لیے کی جانے والی کارروائیوں کا ایک پورا ٹائم فریم شائع کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سفارت خانے کے اہلکار متاثرہ شخص سے براہ راست رابطہ قائم کرنے میں ناکام رہے اور ان کا رابطہ صرف شکاگو میں مقیم ان کے بیٹے تک محدود رہا۔ انہوں نے کہا کہ سفارت خانے نے مغربی کنارے میں موجود والد یا ان کے رشتہ داروں کے براہ راست رابطہ نمبرز حاصل کرنے کی بارہا کوششیں کیں لیکن سب بے سود رہیں۔
سفارت خانے کا موقف: رابطے کی متعدد کوششیں
سفیر کی جانب سے پیش کردہ ٹائم فریم کے مطابق اس کیس کی دیکھ بھال 19 اکتوبر سے شروع ہوئی، جب متاثرہ شخص کے بیٹے کا ایک خط موصول ہوا جس میں بتایا گیا کہ ان کے والد کو رام اللہ کے ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہکابی نے نشاندہی کی کہ سفارت خانے نے اسی دن والد سے رابطے کی معلومات مانگیں، لیکن بیٹے نے اس مرحلے پر وہ فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔
20 اکتوبر کو سفارت خانے نے زخمی کے بیٹے کو بار بار ای میلز اور ٹیلیفون کالز کے ذریعے کوششیں جاری رکھیں، نیز سفارت خانے نے دعویٰ کیا کہ اس نے متاثرہ شخص تک پہنچنے کے لیے رام اللہ کے ہسپتال سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر کامیا بی نہ مل سکی۔
21 اکتوبر کو بیٹے نے سفارت خانے کو مطلع کیا کہ حملے میں شدید زخمی ہونے کے باعث ان کے والد کا آپریشن ہو رہا ہے، جب کہ سفارت خانے کا کہنا ہے کہ اسے مغربی کنارے کے رشتہ داروں کے وہ نمبرز نہیں ملے جن کا بیٹے نے دینے کا وعدہ کیا تھا۔
ہکابی نے مزید کہا کہ 22 اکتوبر کو سفارت خانے کو میڈیکل رپورٹس اور تصاویر موصول ہوئیں جن سے معمر شخص کو پہنچنے والے شدید زخموں کی تصدیق ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران بیٹے نے سفارت خانے کی کوششوں پر اس کا شکریہ بھی ادا کیا۔
اس کے باوجود سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی فون نمبرز کی عدم دستیابی نے براہ راست رابطے کے عمل کو آگے بڑھانے میں رکاوٹ ڈالی۔
ان کے بیان کے مطابق سفارت خانے نے 23 اکتوبر کو بھی ہسپتال کے اندر والد تک پہنچنے کی ناکام کوشش کی اور 26 اکتوبر کو بیٹے سے دوبارہ رابطہ کرنے کی کوشش کی۔
ہکابی نے کارلسن سے مطالبہ کیا کہ وہ معافی مانگیں اور سفارت خانے کے اقدامات سے متعلق ان تصدیق شدہ حقائق کو تسلیم کریں۔
ایک تنازع جو محض حملے تک محدود نہیں
اس زبانی جنگ پر عوام اور مبصرین کا ملا جلا رد عمل سامنے آرہا ہے۔ایک طبقہ کارلسن کے موقف کی حمایت کر رہا ہے جس کا ماننا ہے کہ یہ صورتحال اپنے امریکی شہریوں کے تحفظ کی قیمت پر قابض ریاست کے لیے امریکی سفارت کاری کے جانبدارانہ رویے کو بے نقاب کرتی ہے، جب کہ دوسرا طبقہ سفارت خانے کی وضاحتوں کو سچا مان رہا ہے۔
اس گرما گرمی نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کے مظالم پر امریکی انتظامیہ کے رویے اور اس کے سفارتی اداروں کی سنجیدگی پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے، خصوصاً جب ایسے سفاکانہ حملوں کا نشانہ خود امریکی شہریت رکھنے والے افراد بنتے ہیں۔
یہ واقعہ مقبوضہ مغربی کنارے کے تمام علاقوں میں یہودی آباد کاروں کی غنڈہ گردی میں بے تحاشا اضافے کے دوران سامنے آیا ہے، جس سے غیر ملکی شہری بھی محفوظ نہیں رہے۔ دوسری طرف فلسطینیوں کی جانب سے یہ مسلسل الزامات لگائے جاتے رہے ہیں کہ قابض صہیونی افواج عام شہریوں اور ان کی املاک پر حملوں کے دوران یہودی آباد کاروں کو مکمل تحفظ فراہم کرتی ہیں۔
اس تناظر میں یہ تنازع بیرون ملک اپنے شہریوں کی حفاظت سے متعلق امریکی انتظامیہ کے بلند بانگ دعووں اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں امریکی شہریت رکھنے والے فلسطینیوں کو درپیش تلخ حقائق کے درمیان موجود واضح تضاد کو طشت از بام کرتا ہے۔
