Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

اسرائیلی اقدامات سے غزہ میں آمد و رفت مزید محدود

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) سرکاری میڈیا آفس نے بتایا ہے کہ قابض اسرائیل بنیادی ضرورت کی اشیاء کی غزہ آمد پر مسلسل سخت ترین پابندیاں عائد کر رہا ہے اور ان کی سپلائی میں ظالمانہ کٹوتیاں کر رہا ہے جس سے غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کا گلا گھونٹنے اور ان کا معاشی و انسانی محاصرہ شدید کرنے کی صہیونی سازش گہری ہوتی جا رہی ہے۔

یہ تشویشناک انکشافات اس ہفتہ وار رپورٹ میں سامنے آئے ہیں جو سرکاری میڈیا آفس نے غزہ کی پٹی میں تجارتی گزرگاہوں اور راستوں کی صورتحال کے بارے میں جاری کی ہے، یہ رپورٹ پندرہ مئی سے لے کر اکیس مئی سنہ 2026ء تک کے عرصے پر محیط ہے۔

رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ گذشتہ ہفتے کے دوران رفح گزرگاہ پر سفر کرنے اور واپس لوٹنے والوں کی نقل و حرکت انتہائی محدود رہی، جہاں مسافروں اور آنے والوں کی کل تعداد صرف (403) رہی، جن میں سے (249) مسافر غزہ کی پٹی سے باہر جانے والے تھے اور (154) افراد پٹی میں واپس لوٹنے والے تھے۔

سرکاری میڈیا آفس نے وضاحت کی کہ یہ قلیل ترین تعداد سفر کے ان (1400) ممکنہ کیسز میں سے ہے جنہیں طے شدہ معاہدے کے تحت سفر کی اجازت دی جانی تھی، میڈیا آفس نے اشارہ کیا کہ قابض اسرائیل کی طرف سے معاہدے پر عمل درآمد کی شرح اٹھائیس فیصد (28%) سے زیادہ نہیں رہی، جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ قابض دشمن فلسطینیوں کی نقل و حرکت کی آزادی پر قدغن لگانے کی ایک باقاعدہ اور منظم سفاکانہ پالیسی کے تحت یہ سخت ترین بندشیں برقرار رکھے ہوئے ہے۔

تجارتی اور انسانی بنیادوں پر ہونے والی سپلائی کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں داخل ہونے والے ٹرکوں کی کل تعداد محض (1287) رہی، جبکہ عالمی وعدوں اور ضمانتوں کے مطابق (4200) ٹرکوں کا داخلہ ہونا تھا، اس طرح قابض دشمن کی جانب سے عمل درآمد کی شرح صرف تیس فیصد (30%) رہی۔

غزہ پہنچنے والے ان ٹرکوں کی تفصیل درج ذیل ہے: (559) ٹرک تجارتی شعبے سے متعلق تھے، (693) ٹرک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھیجی جانے والی امداد سے لادے گئے تھے اور (35) ٹرک ایندھن اور توانائی کی درآمدات پر مشتمل تھے۔

جہاں تک ایندھن کے ٹرکوں کا تعلق ہے تو ان کی تفصیل اس طرح ہے: (7) ٹرک تجارتی گیس سے لادے ہوئے تھے اور (28) ٹرک اداروں کے لیے مخصوص ڈیزل (سولار) سے لادے گئے تھے۔

سرکاری میڈیا آفس نے اس بات پر زور دیا کہ زندگی بچانے والے ان اہم ترین ٹرکوں اور ایندھن کی کھیپوں کو روکنے اور ان میں کمی لانے کی یہ ہٹ دھرمی پر مبنی مستقل صہیونی پالیسی کا براہ راست مقصد انسانی بحران کو سنگین بنانا اور غزہ کی پٹی اور وہاں کے محصور و ستم زدہ فلسطینی عوام کا گلا گھونٹ کر انہیں نسل کشی کا نشانہ بنانا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan