مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) سنہ 1967ء کے بعد پہلی بار ایک انتہائی خطرناک اور بے مثال واقعے میں یہودی آباد کار جمعہ کے دن مسجد اقصیٰ مبارک میں گھس گئے اور ان کے قبضے میں قربانی کی روٹی (قربان الخبز) تھی۔
بیت المقدس کے مقامی ذرائع نے بتایا کہ نو یہودی آباد کار عصر کی نماز کے بعد باب الغوانمہ سے مسجد اقصیٰ میں زبردستی گھس آئے اور انہوں نے مسجد اقصیٰ کے دو محافظوں پر وحشیانہ حملہ کیا اور صحنِ صخرہ کی طرف دوڑ لگا دی، ان کے پاس اپنے عبرانی تہوار “عید الاسابيع” (ہفتوں کا تہوار) سے مخصوص قربانی کی روٹی موجود تھی۔
یہ اشتعال انگیز واقعہ نام نہاد عبرانی تہوار “عید الاسابيع” کے موقع پر انتہا پسند “جماعاتِ ہیکل” کی طرف سے جمعہ کے دن مسجد اقصیٰ پر دھوا بولنے کی بڑے پیمانے پر کی جانے والی اکساہٹ اور سازشوں کے عین وقت پر سامنے آیا ہے۔
القدس گورنری نے اپنے ایک بیانیے میں کہا ہے کہ یہ خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی جارحیت مسجد اقصیٰ کے اندر زبردستی نئے حقائق مسلط کرنے کی ان مسلسل کوششوں کا حصہ ہے، جن کے ساتھ مسجد کے اندر نباتاتی اور حیوانی “قربانیاں” پیش کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ یہ سب کچھ “جماعاتِ ہیکل” کی ان مذموم کوششوں کے ضمن میں ہو رہا ہے جن کا مقصد توریاتی رسومات کو پختہ کرنا اور مسجد اقصیٰ مبارک کی اسلامی شناخت کو تبدیل کرنا ہے۔
القدس گورنری نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ اس عبرانی موقع کے دوران، جیسا کہ گذشتہ مواقع پر بھی ہوا جن میں سب سے نمایاں نام نہاد “یومِ توحیدِ القدس” تھا جو وہ بھی جمعہ کے دن ہی آیا تھا، غاصب اور کٹر یہودی آباد کاروں کی جماعتوں کی طرف سے جمعہ کے روز مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے کی ترغیبات اور اشتعال انگیزی میں شدید اضافہ دیکھا گیا ہے، حالانکہ جمعہ وہ دن ہے جس میں ہفتے کے دن کی طرح مسجد کو یہودی آباد کاروں کے گھسنے کے لیے بند رکھا جاتا ہے۔
