غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جدید ترین فضائی تصاویر نے اس ہولناک اور وسیع پیمانے پر مچائی گئی تباہی کے مناظر کو طشت از بام کر دیا ہے جو غاصب و ظالم قابض اسرائیلی افواج نے سرانجام دی ہے، جس کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع رفح اور خان یونس کے شہروں میں پورے کے پورے رہائشی محلے ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔
گوگل ارتھ پرو کے ذریعے لی گئی ان تصاویر نے میلوں پر پھیلے ہوئے ان علاقوں کو بے نقاب کیا ہے جنہیں پوری طرح خاک میں ملا کر سطح زمین کے برابر کر دیا گیا ہے، جبکہ سویلین بنیادی ڈھانچے کے تمام معالم و نشانات مٹ چکے ہیں جن میں مظلوم فلسطینیوں کے مکانات، سکول اور دیگر عوامی خدمات کی تنصیبات شامل ہیں۔
فضائی مناظر مکمل تباہی کے ایک ایسے تسلسل کو ظاہر کرتے ہیں جو بار بار دہرایا گیا ہے، جس سے گنجان آباد شہری علاقوں کو سوچی سمجھی اور باقاعدہ منظم پالیسی کے تحت نشانہ بنانے اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے واضح ثبوت فراہم ہوتے ہیں۔
یہ لرزہ خیز مناظر قابض اسرائیل کی طرف سے استعمال کی جانے والی ہولناک تدمیری طاقت کی عکاسی کرتے ہیں، کیونکہ یہ سفاکیت صرف مخصوص مقامات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا دائرہ کار پورے محلوں اور رفح جیسے پورے کے پورے شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔
بین الاقوامی انسانی قانون کے ماہرین کا ماننا ہے کہ بڑے پیمانے پر مچائی جانے والی تباہی کا یہ بھیانک انداز ان سنگین ترین خلاف ورزیوں کے زمرے میں آتا ہے جن پر بین الاقوامی قوانین کے تحت سخت ترین پابندی عائد ہے، بشمول سویلین املاک کو دانستہ طور پر نشانہ بنانا یا انہیں حد سے زیادہ طاقت کا بے رحمانہ استعمال کر کے برباد کرنا۔
ماہرین اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ ایک سے زیادہ مقامات پر اس سفاکانہ نمونے کا بار بار دہرایا جانا اس مفروضے کو تقویت دیتا ہے کہ اس مہم کا مقصد دانستہ طور پر مجموعی شہری ماحول اور سماجی تانے بانے کو مکمل طور پر نیست و نابود کرنا ہے۔
یہ فضائی تصاویر دستاویزی حوالے سے خاصی اہمیت اختیار کر گئی ہیں، کیونکہ یہ صہیونی ریاست کی وحشیانہ جبلت اور اس کے ہولناک اثرات کے براہ راست بصری شواہد اور ثبوت فراہم کرتی ہیں، جس سے آزادانہ و شفاف تحقیقات کرانے، فلسطینیوں کے خلاف برپا کی جانے والی اس ہولناک نسل کشی کے جرائم کے ذمہ داران کا کڑا محاسبہ کرنے اور بین الاقوامی قانونی معیارات کے مطابق ستم زدہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اٹھنے والی عالمی آوازوں کو مزید طاقت ملے گی۔
