غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں ’بیکریز ایسوسی ایشن‘ نے ایک ہولناک اور سنگین وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غاصب صہیونی دشمن کی طرف سے عائد کردہ وحشیانہ ناکہ بندی کے نتیجے میں انجن آئل اور پٹرولیم مصنوعات کی شدید ترین قلت پیدا ہو چکی ہے۔ اس بحران کی وجہ سے جنریٹرز اور پاور جنریشن مشینیں ناکارہ ہو رہے ہیں جبکہ پانی اور روٹی کی سپلائی کرنے والے ٹرکوں اور گاڑیوں کی نقل و حرکت شدید متاثر ہوئی ہے جس کے باعث مارکیٹ میں انجن آئل کی قیمتوں میں ناقابلِ یقین اور ہوشربا اضافہ ہو گیا ہے اور اب تمام بیکریاں کسی بھی وقت مکمل طور پر بند ہو سکتی ہیں۔
ایسوسی ایشن کے عہدیدار العجرمی نے پریس بریفنگ کے دوران انکشاف کیا کہ غاصب قابض اسرائیل کی جانب سے جنریٹرز اور ٹرانسپورٹ کی گاڑیوں کے لیے مخصوص انجن آئل کی غزہ میں داخلے پر گذشتہ تین ماہ سے زائد عرصے سے عائد ظالمانہ پابندی کے باعث قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ یہ قیمتیں بڑھ کر تقریباً 2000 شیکل فی لیٹر تک پہنچ چکی ہیں جو بیکریوں کی آپریشنل صلاحیت پر براہِ راست اور مہلک وار ہے اور اس نے پورے تعلیمی اور غذائی ڈھانچے کو مکمل طور پر مفلوج ہونے کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
اسی خوفناک صورتحال کے تسلسل میں انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی امدادی تنظیم “ورلڈ سینٹرل کچن” کے ساتھ معاہدے کے تحت چلنے والی بیکریاں گذشتہ دو ماہ سے مکمل طور پر بند پڑی ہیں اور یہ بندش تنظیم کی جانب سے غزہ میں اپنے امدادی آپریشنز کو محدود کرنے کے باقاعدہ اعلان سے بھی پہلے عمل میں آ چکی تھی۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ معاہدے کے تحت کام کرنے والی بعض بیکریوں کو بغیر کسی معقول وجہ اور وضاحت کے بند کر دیا گیا اور اس کے لیے بجٹ کی کمی یا قابض دشمن کی جانب سے گزرگاہوں اور کراسنگز پر سامان کی ترسیل میں پیدا کی جانے والی رکاوٹوں کے بہانے تراشے گئے۔ غاصب دشمن کی اس سفاکیت نے غزہ کے سب سے زیادہ مجبور اور پسماندہ طبقات کو براہِ راست متاثر کیا ہے جہاں پہلے ہی قابض اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کی وجہ سے بے روزگاری اور غربت کی شرح 85 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔
غزہ میں روٹی کی قیمتوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے العجرمی نے واضع کیا کہ ملنے والی امداد کی نوعیت کے لحاظ سے روٹی کے دو کلو گرام کے تھیلے (ربطہ) کی قیمتوں کے تین مختلف درجے موجود ہیں۔ پہلا وہ تھیلا جسے “عالمی غذائی پروگرام” کی جانب سے آٹے اور ڈیزل (سولار) کی مد میں مکمل طور پر سبسڈائز اور سپورٹ کیا جاتا ہے وہ 3 شیکل میں فروخت ہوتا ہے اور یہ غزہ کے مظلوم محصورین کی کل ضروریات کے تقریباً نصف حصے کو پورا کرتا ہے۔ دوسرا وہ تھیلا جسے صرف ڈیزل کی مد میں جزوی امداد حاصل ہے وہ 8 شیکل میں فروخت ہوتا ہے جبکہ وہ تھیلا جسے کسی قسم کی کوئی سرکاری یا بین الاقوامی امداد حاصل نہیں ہے اس کی قیمت 14 شیکل تک پہنچ چکی ہے جو فاشسٹ دشمن کے مظالم کی چکی میں پستے ہوئے معصوم شہریوں کی جیبوں پر ایک انتہائی بھاری بوجھ ہے۔
دوسری جانب العجرمی نے عوام کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ میں آٹا اور دیگر بنیادی اشیاء جیسے چینی، خمیر، نمک اور پیکنگ کے لیے نائلون کے لفافے فی الحال دستایاب ہیں اور ان کی کوئی شدید قلت نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ کوآرڈینیشن کے نتیجے میں تاجروں کے مقررہ کوٹے سے ہٹ کر بھی کمرشل آٹے اور دیگر خام مال کو گزرگاہوں کے ذریعے اندر لانے کی اجازت ملی ہے۔
انہوں نے اپنی گفتگو کا اختتام اس تاکید کے ساتھ کیا کہ غزہ کی پٹی میں بیکریوں کا شعبہ یہاں زندگی کی جنگ لڑنے والے لگ بھگ 2.3 ملین (تئیس لاکھ) محصور اور مظلوم انسانوں کی غذائی سکیورٹی کا ایک بنیادی اور مضبوط ترین ستون ہے۔ انہوں نے دنیا کی توجہ اس المیے کی طرف مبذول کروائی کہ قابض دشمن کی بمباری سے شہری انفراسٹرکچر کی مکمل تباہی اور لاکھوں گھروں کے ملبے کا ڈھیر بن جانے کے بعد اب یہ آٹومیٹک بیکریاں (خواہ وہ امدادی ہوں یا کمرشل) پناہ گزینوں اور مراکزی پناہ گاہوں میں مقیم لاکھوں بے گھر فلسطینیوں کے لیے تیار کھانے اور روٹی کی فراہمی کا واحد اور آخری سہارا بن چکی ہیں جنہیں اب صہیونی دشمن انجن آئل روک کر بند کرنے کے درپے ہے۔
