رامون – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی حکام نےعالمی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے گلوبل صمود فلوٹیلا اور فریڈم فلوٹیلا اتحاد میں شامل تمام یکجہتی کارکنوں کو رہا کر دیا ہے، جنہیں صحرائے نقب کی بدنامِ زمانہ کتصيعوت جیل میں محبوس رکھا گیا تھا۔ رہائی کے فوراً بعد ان تمام افراد کو رامون ہوائی اڈے پر منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے تاکہ انہیں زبردستی ان کے متعلقہ ممالک روانہ کیا جا سکے۔
مختلف انسانی حقوق کے اداروں بشمول عدالہ سینٹر کی جانب سے فراہم کردہ اعداو و شمار کے مطابق، رہا ہونے والے یکجہتی کارکنوں کی تعداد تقریباً 430 ہے، جنہیں اس وقت وحشیانہ طور پر حراست میں لیا گیا تھا جب قابض اسرائیل کی بحری افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں ان کے بحری جہازوں پر دھاوا بولا تھا، جو غزہ کی پٹی پر عائد ظالمانہ ناکہ بندی کو توڑنے کے لیے انسانی ہمدردی کے مشن پر روانہ تھے۔
عبرانی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق، ترکیہ کی فضائی کمپنی کے تین طیارے یکجہتی کارکنوں کو لے جانے کے لیے نقب کے رامون ہوائی اڈے پر پہنچ چکے ہیں تاکہ انخلا کے انتظامات کو مکمل کیا جا سکے، جبکہ ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انقرہ خصوصی پروازوں کے ذریعے اپنے شہریوں اور دیگر ممالک کے یکجہتی کارکنوں کو بحفاظت واپس لانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
عدالہ سینٹر نے بتایا کہ قابض حکام نے انہیں تمام زیرِ حراست افراد کی رہائی اور ان کی جبری بیدخلی کے عمل کے آغاز کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے، جبکہ سینٹر کی ماہرِ قانون ٹیم اس پورے عمل کی سخت نگرانی کر رہی ہے تاکہ یکجہتی کارکنوں کی محفوظ منتقلی کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔
عدالہ سینٹر نے اپنے ایک خصوصی بیان میں واضع کیا کہ بین الاقوامی پانیوں میں بحری جہازوں کو روکنے کے لمحے سے لے کر ان کی غیر قانونی حراست، منتقلی اور قابض صہیونی عقوبت خانے کے اندر تذلیل آمیز رویوں تک کا پورا عمل بین الاقوامی قوانین کی سنگین ترین پامالی ہے، جبکہ اس وحشیانہ مہم کے دوران کئی یکجہتی کارکنوں پر شدید جسمانی تشدد اور ان کی تذلیل کے واضح دستاویزی شواہد بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
سینٹر کی قانونی ٹیموں کی طرف سے جمع کی جانے والی لرزہ خیز شہادتوں سے معلوم ہوا ہے کہ گرفتاری کے دوران مظلوم مظاہرین کے خلاف بدترین تشدد، بجلی کے جھٹکوں اور ربڑ کی گولیوں کا بے دریغ استعمال کیا گیا، جبکہ بندرگاہ کے اندر اور فوجی کشتیوں پر منتقلی کے وقت ان نہتے انسانوں کو انتہائی تذلیل آمیز پوزیشنوں میں بیٹھنے پر مجبور کیا گیا۔
رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ اس صہیونی بربریت کے نتیجے میں کئی یکجہتی کارکن شدید زخمی ہوئے جنہیں ہسپتال منتقل کرنا پڑا، جبکہ حراست میں لی گئی غیور خواتین یکجہتی کارکنوں کے سروں سے زبردستی حجاب اتارے گئے اور انہیں جنسی و زبانی طور پر ہراساں کر کے شدید توہین کا نشانہ بنایا گیا۔
یاد رہے کہ قابض اسرائیل کے انتہا پسند وزیرِ قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر کی طرف سے فخر سے نشر کیے جانے والے ان مہیب مناظر نے دنیا بھر میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی، جس کے نتیجے میں کئی یورپی ممالک نے تل ابیب کے سفیروں کو طلب کر کے اس فاشسٹ برتاؤ پر شدید ترین سفارتی احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔
یکجہتی کارکنوں کی یہ رہائی ان کے جہازوں پر سفاکانہ حملے کے کئی روز بعد عمل میں آئی ہے، جو غزہ کی پٹی کے محصورین کے لیے بچاؤ کا سامان اور امداد لے کر جا رہے تھے تاکہ وہاں جاری غاصب صہیونی دشمن کی طرف سے فلسطینیوں کی نسل کشی اور برسوں سے مسلط کردہ ناکہ بندی کے حصار کو توڑا جا سکے۔
