رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے رہنما محمود مرداوی نے کہا ہے کہ قابض صہیونی عقوبت خانوں بالخصوص الدامون جیل میں اسیران اور ہماری مظلوم و غیور اسیر بہنوں کو جس بدترین صورتحال کا سامنا ہے وہ قابض دشمن کی جانب سے ایک سنگین اور خطرناک مہم کا حصہ ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اسیرات کے بیرکوں پر متواتر وحشیانہ چھاپے مارے جا رہے ہیں اور ان پر سفاکانہ تشدد کیا جا رہا ہے جس میں اخلاقی حدود کو پار کرتے ہوئے زبانی طور پر ہراساں کرنا بھی شامل ہے۔ محمود مرداوی نے غاصب دشمن کی ان گھناؤنی حرکات کو شدید ترین اخلاقی گراوٹ اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی پامالی قرار دیا ہے۔
محمود مرداوی نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ شرمناک اور غیر انسانی ہتھکنڈے دراصل ایک طے شدہ اور منظم فاشسٹ پالیسی کا حصہ ہیں جس کا واحد مقصد ہماری شیر دل اسیرات کے عزم و استقلال کو توڑنا اور ان کی عزت و تکریم پر حملہ کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ مظالم قابض اسرائیل کے عقوبت خانوں کے اندر تمام فلسطینی اسیران پر ڈھائی جانے والی بدترین نسل کشی اور منظم تشدد کے اس وسیع تر سیاق و سباق کا حصہ ہیں جو ایک عرصے سے جاری ہے۔
حماس کے رہنما نے اس بات پر سخت زور دیا کہ ان پے در پے وحشیانہ حملوں کا تسلسل صرف معصوم اسیرات کو ہی نشانہ بنانا نہیں ہے بلکہ یہ پورے غیرت مند فلسطینی عوام کی قومی غیرت اور کرامت پر حملہ ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے دعویداروں پر زور دیا کہ وہ اب زبانی جمع خرچ اور محض کاغذی مذمتوں کے خول سے باہر نکلیں اور قابض دشمن کو لگام دینے کے لیے ایسے عملی اور سخت اقدامات اٹھائیں جو جیلوں کے اندر ہونے والی اس سنگین سفاکیت کے خاتمے کا سبب بن سکیں۔
حماس کے رہنما نے تمام فلسطینی عوام اور مزاحمتی دھڑوں سے پرزور اپیل کی کہ وہ مظلوم اسیران اور اسیرات کی پشت پناہی کے لیے ایک وسیع عوامی تحریک کا آغاز کریں اور قابض دشمن کی وحشیانہ قید و بند کی پالیسیوں کے خلاف اپنی تمام تر حمایتی کوششوں کو تیز تر کر دیں۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ اسیران کا مقدمہ ہمیشہ ہماری مرکزی اور اولین قومی ترجیح رہے گا۔
محمود مرداوی نے تمام فلسطینی و عرب قوتوں اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اب بیدار ہوں اور اس سنگین انسانی المیے پر فوری متحرک ہو کر غاصب قابض اسرائیل کے حکام پر شدید دباؤ ڈالیں تاکہ ان منظم خلاف ورزیوں کو فوری روکا جا سکے اور اسیران کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان مہیب اور خطرناک مظالم کا سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
