رام اللہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی محکمہ امور اسیران نے انکشاف کیا ہے کہ الدامون جیل میں قید دو فلسطینی اسیرات بسملہ سعد اور إسراء أحمد ہوجی جلدی مرض ”اسکیبوس“ (خارش) میں مبتلا ہو چکی ہیں، جہاں صفائی ستھرائی کی بنیادی اشیاء کا شدید قحط اور حبس زدہ ماحول (نمی کی زیادتی) پایا جاتا ہے، جبکہ جیل انتظامیہ نے بسملہ سعد کو رواں ماہ کی سات تاریخ کو ان کے کمرے پر صیہونی چھاپے کے بعد سے بدستور قیدِ تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔
کمیشن نے اپنی اس رپورٹ میں جو ان دونوں اسیرات کی طرف سے اپنے وکیل کو دیے گئے بیانات پر مبنی ہے، واضح کیا کہ 20 سالہ بسملہ سعد گزشتہ 13 مارچ سے قابض صیہونی زندانوں میں قید ہیں، وہ مرض کی شدت کے باعث اپنی ٹانگوں پر پھوڑوں اور سوجن کا شکار ہیں اور انہیں دی جانے والی ادویات ان کی صحت میں بہتری لانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہیں۔
اسیر سعد نے بتایا کہ وہ سات اکتوبر کو اپنے کمرے پر صیہونی جلادوں کے وحشیانہ دھاوے اور کریک ڈاؤن کے بعد سے مسلسل قیدِ تنہائی میں زندگی گزار رہی ہیں، اور رپورٹ کی تیاری کے وقت تک ان کی تنہائی کا یہ ظالمانہ سلسلہ جاری تھا۔
جہاں تک 31 سالہ إسراء ہوجی کا تعلق ہے، جو کہ گزشتہ 27 فروری سے پابندِ سلاسل ہیں، وہ اپنی ٹانگوں میں مسلسل خارش کا شکار ہیں، جو رات کے اوقات میں شدت اختیار کر جاتی ہے اور انہیں سونے سے محروم رکھتی ہے۔
دونوں اسیرات نے انکشاف کیا کہ جیل کے کمرے بار بار صیہونی کریک ڈاؤن اور پرتشدد کارروائیوں کا نشانہ بنتے ہیں، جن میں کمروں کے اندر گیس کے گولے چھوڑنا اور صوتی بموں کا استعمال کرنا شامل ہے،ساتھ ناقص اور انتہائی کم خوراک نے اس بیماری کے عالم میں ان کی تکلیف کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔
یہ بیانات صیہونی زندانوں کے اندر اسیران کی ابتر ہوتی ہوئی صحت اور رہائشی حالات کے حوالے سے سامنے آنے والی متواتر رپورٹوں کا حصہ ہیں۔ اس سے قبل 11 اکتوبر کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کمیشن نے ایک اور اسیر کے جلدی مرض (خارش) میں مبتلا ہونے کی توثیق کی تھی جسے کوئی علاج فراہم نہیں کیا گیا، نیز اسیروں کو ضروری طبی معائنوں اور ادویات سے محروم رکھنے اور خوراک کی اس قدر کمی کا انکشاف کیا گیا تھا کہ ایک اسیر کے بیان کے مطابق غزہ پر جنگ کے آغاز سے اب تک ان کا وزن 17 کلوگرام تک کم ہو چکا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے انسدادِ تشدد (UN Committee against Torture) بھی ان اطلاعات پر شدید گہری تشویش کا اظہار کر چکی ہے جن کے مطابق 7 اکتوبر 2023ء کے بعد سے بڑے پیمانے پر منظم تشدد اور بدسلوکی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، اور حراستی مراکز میں ہونے والی اموات کی بنیادی وجوہات طبی دیکھ بھال سے محرومی اور شدید غذائی قلت ہیں۔
