مقبوضہ نقب – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض صیہونی حکام نے مقبوضہ نقب کے علاقے میں فلسطینیوں کے گھروں اور تنصیبات کو مسمار کرنے کے ہولناک عملیات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے، جو کہ فلسطینیوں کا گھیراؤ تنگ کرنے اور انہیں ان کی آبائی زمینوں سے جلاوطن کرنے کی ایک مجرمانہ پالیسی کا حصہ ہے۔ ان مسماری کارروائیوں نے ‘رہط’ شہر اور اس کے ملحقہ دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جبکہ مقامی عرب قیادت نے اس صیہونی یلغار کے خلاف اور اس کے انسانی تباہ کن اثرات کو روکنے کے لیے ہنگامی تحرک کا آغاز کر دیا ہے۔
منگل کے روز صیہونی بلڈوزروں نے رہط شہر کے جنوبی علاقے میں ‘ابو قرشين’ خاندان سے تعلق رکھنے والے گھروں اور زرعی تنصیبات کو مسمار کر دیا، جس سے پہلے صیہونی پولیس نے علاقے کا سخت محاصرہ کر کے گردونواح کی تمام سڑکوں کو بند کر دیا تھا اور پھر تمام عمارتوں کو زمین بوس کر کے مٹی کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔
یہ مسماری عملیات رہط کے شمال میں واقع گاؤں ‘الظحية’ کو مکمل طور پر تباہ و برباد کرنے کے صرف ایک دن بعد سامنے آئے ہیں، جہاں صیہونی فورسز نے 80 سے زائد گھروں اور گاؤں کی واحد مسجد کو مسمار کر دیا، جس کے نتیجے میں ‘ابو وادي’ خاندان کے تقریباً 300 افراد بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
یہ تیز ترین صیہونی کارروائیاں 1948ء کے مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی شہریوں کو درپیش منصوبہ بندی، زمین اور سائے کے شدید بحران کو بے نقاب کرتی ہیں، جہاں صیہونی پالیسیاں انہیں رہائش اور استقرار کے بنیادی انسانی حق سے محروم کر کے ان کی اپنی زمین پر موجودگی کو شدید تر خطرات سے دوچار کر رہی ہیں۔
جبری جلاوطنی کے خلاف عرب قیادت کا تحرک
اس صیہونی یلغار کے مقابلے میں اندرون فلسطین کے عرب لوکل اتھارٹیز کے فورم نے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد، جو متاثرہ خاندانوں پر مسماری کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے بلایا گیا تھا، احتجاجی اور تصادمی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
فورم نے اس بات پر زور دیا کہ متاثرہ خاندان بالخصوص معصوم بچے، خواتین اور عمر رسیدہ افراد، متبادل رہائش کی عدم دستیابی کے باعث انتہائی کٹھن اور ہولناک انسانی حالات کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے پیش نظر مقامی عرب حکام نے اپنے گھروں سے محروم ہونے والے خاندانوں کو پناہ دینے کے لیے سکولوں اور تعلیمی اداروں کے دروازے کھول دیے ہیں۔
فورم نے صیہونی مسماری اور جبری جلاوطنی کی پالیسیوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے نقب میں فلسطینی وجود پر ان کے ہولناک نتائج سے خبردار کیا، تاکید کی کہ یہ اقدامات شہریوں کے زمین اور عزت نفس کے ساتھ جینے کے حق پر سیدھا حملہ ہیں۔
فورم نے صیہونی حکومت کے دو متطرف وزراء، ایتمار بن گویر اور عميحائی شيكلی پر سنگین الزام عائد کیا کہ وہ گھروں کی مسماری اور خاندانوں کو بے گھر کرنے کے مظالم کو اپنے انتخابی اور اشتہاری مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور فلسطینیوں کے آلام و مصائب کو سیاسی مفادات حاصل کرنے کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔
مسماری کا سلسلہ روکنے اور احتجاج کو شدید کرنے کا مطالبہ
بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے فورم نے صیہونی حکومت کی لیگل ایڈوائزر کو ایک ہنگامی مراسلہ ارسال کرنے کی منظوری دی ہے، جس میں مسماری کی کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے باز رکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
نیز فورم نے مقبوضہ الداخل کی تمام فعال سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نقب کے مسائل، بالخصوص مکانات کی مسماری کے خاتمے اور زمین و مسکن کے بحران کے حل کو اپنی بنیادی ترجیحات میں شامل کریں، اور آئندہ کسی بھی صیہونی حکومتی ائتلاف یا سیفٹی نیٹ کی فراہم کاری کے مذاکرات میں اسے ایک بنیادی اور لازمی شرط بنائیں۔
فورم نے ابو وادی خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کی بنیاد ضروریات کی فراہمی کا تعہد کیا تاکہ ان کے گھروں کی تباہی کے بعد پیدا ہونے والے کٹھن حالات میں ان کے اپنی زمین پر ثبات و صمود کو مستحکم کیا جا سکے۔
مزید برآں فورم نے آنے والے جمعہ 16 اکتوبر سنہ 2026ء کو نقب کے مظلوم عوام کے ساتھ یومِ غضب اور یکجہتی کے طور پر منانے کی اپیل کی ہے، جس کے تحت تباہ شدہ گاؤں ‘الظحية’ کے ملبے پر ایک عظیم الشان اجتماع اور نمازِ جمعہ کا اہتمام کیا جائے گا۔
فورم نے اس بات پر زور دیا کہ صیہونی اکھاڑ پھینکنے اور جبری جلاوطنی کی پالیسیوں کے سامنے نقب کا دفاع کرنا ایک ملی اور اجتماعی ذمہ داری ہے، تاکہ فلسطینیوں کے اپنی زمین اور مسکن پر حقِ ملکیت کی حفاظت کی جا سکے۔
