Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

مقبوضہ بیت المقدس میں شپرڈ ہوٹل کے قریب 122 نئے آبادکاری یونٹ تعمیر کرنے کا اسرائیلی منصوبہ

مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی حکام مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع الشيخ جراح میں 122 نئی یہودی آباد کاروں کی رہائشی اکائیاں قائم کرنے کے لیے ایک نئے استعماری منصوبے پر عمل درآمد کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ منصوبہ تقریباً 5.8 کنال کے رقبے پر محیط تاریخی شپرڈ ہوٹل کی سائٹ کو نشانہ بناتا ہے، جو کہ یہودی آبادی کی توسیع کو مضبوط بنانے اور اس علاقے کے فلسطینی تشخص کو مسخ کرنے کی ایک اور مذموم کوشش ہے۔

منصوبے کا نمبر 1602689 ہے، جس میں 12 منزلہ رہائشی عمارتوں کی تعمیر شامل ہے۔ منصوبے کی موصولہ ابتدائی معلومات کے مطابق، اسے 11 نومبر سنہ 2026ء کو پہلی بار مقبوضہ بیت المقدس کی لوکل پلاننگ اینڈ بلڈنگ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

اس منصوبے کے پیچھے ’امانا‘ تحریک کا ہاتھ ہے، جو مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادیوں اور بؤر استیطانیہ کی تعمیر میں متحرک ترین استعماری تنظیموں میں سے ایک ہے، اور جس کی سربراہی زیئف حیفر کر رہا ہے، جو ’زمبیش‘ کے لقب سے معروف ہے۔

تاریخی شپرڈ ہوٹل فلسطینی حسینی خاندان کی ملکیت تھا۔قابض حکام نے نام نہاد ’ متروکہ املاک قانون‘ کے تحت اس پر ناجائز قبضہ کر لیا، بعد میں اس کی ملکیت استعماری تنظیموں بشمول ’عتیرت کوہنیم‘ کو منتقل کر دی گئی۔

ہوٹل کی عمارت کے ساتھ پہلے بھی ایک استعماری رہائشی کمپلیکس قائم کیا گیا تھا، جس میں درجنوں رہائشی یونٹس شامل تھیں جو کہ اپنی تعمیر کے بعد سے اب تک خالی پڑی تھیں۔ نیا منصوبہ موجودہ رہائشی عمارتوں کو مسمار کرنے کا تقاضا کرتا ہے تاکہ وسیع تر منصوبے کے لیے جگہ بنائی جا سکے، جبکہ ہوٹل کی اس تاریخی عمارت کو برقرار رکھا جائے گا جو مقبوضہ بیت المقدس کے سابق مفتی اعظم سے وابستہ ہے۔

یہ منصوبہ گذشتہ سالوں کے دوران اس مقام پر زمینوں کی ملکیت کی تصفیہ اور رجسٹریشن کے اقدامات کے بعد سامنے لایا گیا ہے، جس کے تحت زمین کے کچھ حصوں کو غائبانہ املاک کے نگراں کے نام اور دیگر حصوں کو ایک غیر ملکی کمپنی کے نام رجسٹرڈ کیا گیا تھا جس کے بارے میں گمان ہے کہ وہ استعماری تنظیموں سے جڑی ہوئی ہے۔

یہ قدم حی الشيخ جراح میں فلسطینی املاک پر قبضے کی مسلسل کوششوں کے ضمن میں آتا ہے، جہاں کے رہائشیوں کو جبر پر مبنی بے دخلی اور مکانات کی ضبطی کے شدید خطرات کا سامنا ہے، تاکہ جغرافیائی اور ڈیموگرافک تناسب کو بدلا جا سکے اور مقبوضہ بیت المقدس کے پرانے شہر کے گرد و نواح میں یہودی آباد کاری کو تقویت دی جا سکے۔

غیر قانونی استعماری کالونی کو پانی اور بجلی سے جوڑنے کی سہولیات

ایک اور تناظر میں قابض فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں پلاننگ اینڈ بلڈنگ قانون میں ایک ایسی ترمیم کی منظوری دی ہے جو غیر قانونی استعماری کالونی میں بغیر اجازت کے تعمیر کی گئی عمارتوں کو پانی اور بجلی کے نیٹ ورک سے جوڑنے کی اجازت دیتی ہے، حتیٰ کہ ان کو باقاعدہ بنانے کے لیے ضروری منصوبوں کی منظوری سے پہلے بھی۔

قابض فوج کی سنٹرل کمانڈ کے کمانڈر نے 23 ستمبر سنہ 2026ء کو اس ترمیم پر دستخط کیے تھے، جس سے منصوبہ بندی اور منظوری کے طریقہ کار کی تکمیل سے قبل غیر ترخص شدہ عمارتوں کو بنیادی خدمات فراہم کی جا سکیں گی۔

یہ ترمیم استعماری کالونی کو زمین پر اپنے وجود کو مضبوط کرنے اور توسیع دینے کے لیے اضافی سہولیات فراہم کرتی ہے، ایسے وقت میں جب فلسطینیوں کو تعمیر اور منصوبہ بندی پر شدید پابندیوں، مسماری کے نوٹسز اور زمین کی ضبطی کا سامنا ہے، جو فلسطینیوں اور یہودی آباد کاروں کے درمیان پرمٹ اور خدمات کے حصول میں عدم مساوات کو مزید گہرا کرتا ہے۔

یہ تمام اقدامات مقبوضہ بیت المقدس اور مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی رہائشی اکائیاں قائم کر کے اور استعماری بؤر کو بنیادی ڈھانچہ فراہم کر کے استعمار کو وسعت دینے کے ایک مسلسل عمل کو بے نقاب کرتے ہیں، جس سے فلسطینی سرزمین پر قابض دشمن کے کنٹرول کو تقویت ملتی ہے اور وہاں فلسطینیوں کے وجود کے لیے شدید خطرات پیدا ہوتے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan