Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

علاج کے بعد غزہ واپس آنے والی ماں اور بیٹی کی گرفتاری، انسانی حقوق مرکز کی مذمت

رفح – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی مرکز برائے دفاعِ اسیران نے قابض اسرائیلی افواج کے ہاتھوں 60 سالہ خاتون آمال غازی محمد الريفی اور ان کی 33 سالہ بیٹی یاسمین رفعت محمد الريفی کی مصر میں علاج کے بعد رفح بری کراسنگ کے ذریعے غزہ واپسی کے دوران گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے اپنے گھر اور اہل خانہ کے پاس محفوظ واپسی کے ان کے بنیادی حق کی سنگین ورزی قرار دیا ہے۔

مرکز نے بدھ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ قابض دشمن کے حکام نے دونوں خواتین کی حراست میں تین دسمبر سنہ 2026ء تک توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی انہیں اپنے وکیل سے ملنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ اس صورت حال نے ان کی حراست کے حالات، صحت اور نفسیاتی سلامتی کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں، بالخصوص اس لیے کہ انہیں علاج کے سفر سے واپسی پر گرفتار کیا گیا اور ان کی خیریت کے لیے ضروری قانونی رابطے سے محروم کر دیا گیا۔

مرکز نے اس بات پر زور دیا کہ علاج سے واپسی پر 60 سالہ خاتون اور ان کی بیٹی کی گرفتاری نے وطن واپسی کے سفر کو ان بیماروں اور شہریوں کے لیے خوف اور مصائب کا ذریعہ بنا دیا ہے جو اپنے اہل خانہ کے درمیان اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں۔

مرکز نے نشاندہی کی کہ ان دونوں خواتین کی گرفتاری کے بعد رفح اور کرم ابو سالم کراسنگز کے ذریعے سفر یا غزہ واپسی کے دوران قابض افواج کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد سات ہو گئی ہے، جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ مرکز نے نقل و حرکت، سفر، علاج کے حصول اور محفوظ واپسی کی آزادی پر ان بار بار کے واقعات کے خطرناک اثرات سے خبردار کیا۔

مرکز نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں قیدیوں کو ان کے وکیل سے ملنے سے محروم رکھنا قانونی تحفظ کی ضمانتوں کو مجروح کرتا ہے اور تفتیش و حراست کے حالات کے حوالے سے خدشات کو دوچند کر دیتا ہے۔ مرکز نے اس امر کی ضرورت پر زور دیا کہ انہیں اپنے وکیل سے رابطہ کرنے اور ضروری طبی دیکھ بھال حاصل کرنے کی اجازت دی جائے اور حراست کے دوران ان کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔

مرکز نے رفح کراسنگ پر کام کرنے والے یورپی یونین کے مشن کے کردار اور کراسنگ کے دوران شہریوں کی گرفتاری کے واقعات کی نگرانی کی اس کی ذمہ داری پر سوال اٹھایا، نیز پٹی میں واپس آنے والے مسافروں اور مریضوں کے تحفظ کے لیے دستیاب ضمانتوں کی افادیت پر بھی سوال اٹھایا۔ مرکز نے اس بات پر زور دیا کہ کراسنگ پر بین الاقوامی موجودگی شہریوں کے حالات کی نگرانی کرنے اور ان کی سلامتی کی ضمانت دینے کا تقاضا کرتی ہے۔

مرکز نے خبردار کیا کہ ان جابرانہ اقدامات کا تسلسل غزہ سے باہر موجود فلسطینیوں، بالخصوص علاج کے لیے سفر کرنے پر مجبور ہونے والے مریضوں کے خدشات کو مزید گہرا کر سکتا ہے، اور وطن واپسی کو گرفتاری اور حراست کے خطرات سے بھرپور بنا دیتا ہے، جس سے ان کے نقل و حرکت اور اپنے اہل خانہ کے پاس واپس لوٹنے کے حق پر نئی پابندیاں عائد ہوتی ہیں۔

مرکز نے آمال الریفی اور ان کی بیٹی یاسمین کی فوری رہائی، ان کے وکیل سے ملاقات پر عائد پابندی کے خاتمے، ان کی جائے حراست اور تفتیش کے حالات کو بے نقاب کرنے، ان کی جسمانی و نفسیاتی سلامتی کی ضمانت دینے اور ان کے اہل خانہ کو بلا تاخیر ان کی خیریت کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔

مرکز نے یورپی یونین، ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی اور بین الاقوامی انسانی حقوق و انسانی اداروں سے بھی اپیل کی کہ وہ ان کے کیس کی پیروی کے لیے فوری مداخلت کریں، کراسنگز کے ذریعے فلسطینیوں کی گرفتاریوں کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالیں، اور علاج کے اسفار اور واپسی کے دوران مسافروں کو گرفتاری سے بچانے کے لیے واضح ضمانتیں فراہم کرنے کے لیے کام کریں۔

مرکز نے اپنے بیان کے اختتام میں اس بات کا اعادہ کیا کہ رفح کراسنگ کو زندگی، علاج اور محفوظ واپسی کا راستہ ہونا چاہیے، نہ کہ گرفتاری کے خوف کی آماجگاہ۔ مرکز نے ماں اور بیٹی کی رہائی اور اپنے اہل خانہ کے پاس ان کی صحیح سلامت واپسی کو یقینی بنانے کے لیے فوری بین الاقوامی تحرک کی ضرورت پر زور دیا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan