مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی علاقے بیت لحم کے مغرب میں واقع بلدہ نحالين میں فلسطینی کسانوں کے ساتھ زیتون کی چنائی میں حصہ لینے کے دوران امریکی کانگریس کی رکنیت کے ڈیموکریٹک امیدوار براڈ لینڈر، درجنوں غیر ملکی ’یکجہتی کارکنوں‘ اور ایک معمر فلسطینی خاتون کو گرفتار کر لیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق قابض افواج نے ’بیار عیلیت‘ کالونی سے متصل الحبلہ کے علاقے میں کسانوں اور رضاکاروں پر حملہ کر دیا اور ’ربی برائے انسانی حقوق‘ تنظیم کے تقریباً 90 رضاکاروں کو حراست میں لے لیا، جن میں براڈ لینڈر اور قابض اسرائیل کے سابق نائب پراسیکیوٹر جنرل یہوشوا شوفمین بھی شامل تھے۔
حراست میں لیے گئے افراد کو پہلے عتصیون ریجنل بریگیڈ کے ہیڈ کوارٹر منتقل کیا گیا، جس کے بعد انہیں پولیس سٹیشن بھیج دیا گیا۔ بعد ازاں ان میں سے کچھ کو تنبیہ کر کے رہا کر دیا گیا، جبکہ قابض افواج نے تقریباً 70 سالہ معمر فلسطینی خاتون فہیمہ عیسیٰ غیاظہ کو گرفتار کر لیا اور کھیتوں میں کام کے دوران جمع کیے گئے زیتون کا پھل بھی ضبط کر لیا۔
یہ ستم ظریفی اور سفاکانہ حملے ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب ناظمین اور حقوق انسانی کی تنظیمیں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ اس علاقے کے فلسطینی کسانوں کو ملٹری پابندیوں اور یہودی آباد کاروں کے مسلسل حملوں کی وجہ سے گذشتہ تین سالوں سے اپنی زمینوں تک پہنچنے سے روکا گیا ہے۔
’ربی برائے انسانی حقوق‘ تنظیم کے مطابق رضاکار کسانوں کے ساتھ اس لیے آئے تھے تاکہ فصل کی کٹائی کے موسم میں انہیں تحفظ فراہم کیا جا سکے، تنظیم نے نشاندہی کی کہ قابض فوج نے کام شروع ہونے کے تقریباً دو گھنٹے بعد اس علاقے کو ’بند عسکری زون‘ قرار دے دیا، حالانکہ کارکنوں نے احکامات کی تعمیل کی اور حراست میں لیے جانے سے پہلے ہی اس جگہ سے روانہ ہو گئے تھے۔
اس واقعے نے یہودی حلقوں کے اندر بھی شدید تنقید کو جنم دیا، کیونکہ ’ترواہ‘ تنظیم کی چیف ایگزیکٹو، ربی جِل جیکبس نے اسے ’طاقت کا ننگا ناچ‘ قرار دیا اور قابض فوج پر الزام عائد کیا کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف تشدد کرنے والے انتہا پسند یہودی آباد کاروں کو روکنے کے بجائے ان ’یکجہتی کارکنوں‘ کو نشانہ بنا رہی ہے جو کسانوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
قابض اسرائیلی اخبار ’یروشلم پوسٹ‘ کے مطابق جیکبس نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تمام مذموم اقدامات ’ایک منظم نسلی صفائی کی مہم کے سیاق و سباق میں آتے ہیں جن کا مقصد فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنا ہے‘۔
ایک مشترکہ بیان میں قابض اسرائیل کی اصلاحی تحریک اور کونسل آف ریفارم ربیوں نے ان گرفتاریوں کو ’خوفناک‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ انسانی انصاف کی قدروں سے متاثر ہو کر حرکت کرنے والے کارکنوں کو حراست میں لینا ’اخلاقی کنٹرول کے خاتمے‘ کی نشاندہی کرتا ہے اور اس سے قابض اسرائیل اور تارکین وطن یہودیوں کے ساتھ اس کے تعلقات کو نقصان پہنچتا ہے۔
دونوں فریقوں نے تمام گرفتار شدگان کی فوری رہائی اور ان کی حفاظت کی کوشش کرنے والے ’یکجہتی کارکنوں‘ کا تعاقب کرنے کے بجائے فلسطینی کسانوں پر روزمرہ کے حملوں میں ملوث یہودی آباد کاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
یہ واقعہ مقبوضہ مغربی کنارے میں زیتون کی چنائی والے علاقوں پر قابض اسرائیل کے شدید ہوتے ہوئے مظالم کے سایہ میں سامنے آیا ہے، جہاں کسانوں کو سخت پابندیوں اور بار بار کے حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو انہیں ان کی زمینوں تک پہنچنے اور اپنی فصلوں کی کٹائی سے محروم کر دیتے ہیں، جبکہ یہ موسم ہزاروں فلسطینی خاندانوں کے لیے روزی روٹی کا ایک بنیادی ذریعہ ہے۔
زیتون کی چنائی کے موجودہ موسم میں کسانوں اور غیر ملکی ’یکجہتی کارکنوں‘ پر یہودی آباد کاروں اور قابض افواج کے سفاکانہ حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس میں مغربی کنارے کے متفرق علاقوں میں جسمانی تشدد، تخریب کاری اور املاک کو جلانے کے مناظر کا اعادہ ہوا ہے۔
گذشتہ دو ہفتوں کے دوران، بین الاقوامی تنظیموں نے حملوں کی ایک ایسی سیریز کو ریکارڈ کیا ہے جس میں گاڑیوں اور زیتون کے درختوں کو جلانا، کسانوں پر پتھراؤ کرنا اور غیر ملکی رضاکاروں اور صحافیوں پر تشدد شامل ہے، جبکہ قابض افواج کے حملوں کو روکنے کے لیے مداخلت نہ کرنے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، اور ان پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ یہودی آباد کاروں کو ان کارروائیوں کے دوران مکمل تحفظ فراہم کرتی ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق گذشتہ دنوں درج کیے گئے حملوں کی رفتار گذشتہ پورے سال کی کٹائی کے موسم میں ریکارڈ کیے گئے حملوں سے بھی تجاوز کر گئی ہے، جو کہ تشدد کے دائرہ کار میں وسعت اور اس کی شدت میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے، اور اس کے ساتھ ہی ان تمام افراد کو نشانہ بنانے کے خدشات بڑھ رہے ہیں جو فلسطینیوں کی ان کی زمینوں تک رسائی میں مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک ایسے واقعے میں جس نے عالمی سطح پر شدید مذمت کو جنم دیا، ’واشنگٹن پوسٹ‘ اخبار کے لیے کام کرنے والی امریکی فوٹو جرنلسٹ ہائیڈی لیون پر اس وقت درجنوں نقاب پوش یہودی آباد کاروں نے وحشیانہ حملہ کر دیا جب وہ رام اللہ کے قریب ابو فلاح گاؤں میں زیتون کی چنائی کرنے والوں کو نشانہ بنانے والے مظالم کی کوریج کر رہی تھیں۔
لیون پر حملہ آوروں نے تقریباً دس منٹ تک لاٹھیاں اور لاتیں برسائیں جس سے ان کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور وہ شدید زخمی ہو گئیں، باوجود اس کے کہ انہوں نے حفاظتی جیکٹ پہن رکھی تھی جس پر واضح طور پر ’PRESS‘ لکھا ہوا تھا، اس کے علاوہ ان کا سامان، فون اور پاسپورٹ بھی چھین لیا گیا۔ امریکی اور فرانسیسی حکام نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، اور قابض حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تشدد کو روکنے اور ملوث افراد کا محاسبہ کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
یہ تمام سفاکانہ حملے اس بات پر روشنی ڈالتے ہیں کہ نشانہ بنانے کا دائرہ اب صرف فلسطینی کسانوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس میں وہ صحافی، سفارت کار اور غیر ملکی ’یکجہتی کارکن‘ بھی شامل ہو چکے ہیں جو ان مظالم کو ریکارڈ کرتے ہیں یا شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں زیتون کی چنائی کا موسم عام طور پر اکتوبر کے آغاز سے لے کر دسمبر کے آخر تک جاری رہتا ہے، اور اسے اہم ترین زرعی موسموں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے جس پر ہزاروں فلسطینی کسان خصوصاً دیہی علاقوں میں اپنی آمدنی کے لیے انحصار کرتے ہیں۔
اس موسم کی اہمیت صرف اس کے معاشی فائدے تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ فلسطینی معاشرے میں گہری جڑیں رکھنے والا ایک سماجی اور ثقافتی موقع بھی ہے، جس کے دوران خاندان کھیتوں میں اکٹھے ہوتے ہیں، اور اپنے تجربات اور روایات کو ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کرتے ہیں، جبکہ زیتون کا درخت اپنی زرعی قیمت سے آگے بڑھ کر سرزمین سے وابستگی، قومی تشخص اور غصب و بے دخلی کے خلاف ثبات و صمود کی علامت بن چکا ہے۔
حملوں کے روز افزوں اضافے اور زمینوں تک پہنچنے پر عائد سخت پابندیوں کے فضا میں، بہت سے فلسطینیوں کے لیے زیتون کا موسم فصل کی کٹائی اور زمین کا جشن منانے سے بدل کر اپنے ذرائع معاش کو بچانے، اور اپنے کھیتوں تک پہنچنے اور اپنے درختوں کو اکھاڑ پھینکنے اور تباہی سے بچانے کی ایک روزمرہ کی سخت جنگ بن چکا ہے۔
