مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) گذشتہ رات اور اتوار کی صبح سویرے غرب اردن اور مقبوضہ بیت المقدس کے مختلف علاقوں میں یہودی آباد کاروں کی غنڈہ گردی اور دھاوا بولنے کا سلسلہ تیزی سے بڑھتا ہوا دیکھا گیا، جس کے دوران شہریوں کے گھروں، زرعی زمینوں اور راستوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ قابض اسرائیلی فوج کی طرف سے انہیں براہ راست تحفظ اور مدد بھی فراہم کی جا رہی تھی۔
سلفیت کے مشرق میں واقع قصبہ ياسوف میں دسیوں یہودی آباد کاروں نے شہریوں کے گھروں اور زرعی زمینوں پر حملے کیے اور براہ راست فائرنگ کرنے کے علاوہ گھروں پر پتھراؤ کیا، جس کی وجہ سے املاک کو مالی نقصان پہنچا اور اہل خانہ کے اندر خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی۔
نابلس کے جنوب میں واقع قصبہ بيتا میں یہودی آباد کاروں نے کئی محلوں اور مرکزی سڑکوں پر حملہ کیا، جبکہ قابض فوج کی گاڑیوں نے انہیں سخت پہرہ فراہم کیا، ادھر مقامی شہریوں نے حملہ آوروں کا بھرپور مقابلہ کیا، اسی دوران قابض فوج نے آنسو گیس کے گولوں اور گولیوں کی بڑی تعداد اندھا دھند برسائی۔
اسی طرح گذشتہ رات یہودی آباد کاروں نے شہر نابلس میں متعدد شہریوں کے گھروں پر حملے کیے، یہ غنڈہ گردی اس لہر کا حصہ ہے جس کے تحت قابض اسرائیل کے یہودی آباد کار اس گورنری میں فلسطینیوں اور ان کی املاک پر مسلسل حملے کر رہے ہیں۔
مسافر یطا میں کسانوں اور چرواہوں پر حملے
یہودی آباد کاروں کی سفاکیت کا دائرہ کار الخلیل گورنری تک پھیل گیا، جہاں مسلح یہودی آباد کاروں کے جتھوں نے مسافر یطا میں کسانوں اور مویشی پالنے والے چرواہوں پر حملے کیے، تاکہ انہیں ان کی زمینوں تک پہنچنے اور اپنی زرعی و مال مویشی سے متعلق سرگرمیاں انجام دینے سے روکا جا سکے۔
علاوہ ازیں یہودی آباد کاروں نے شہر الخلیل کے گردونواح میں بائی پاس سڑکوں سے گزرنے والی شہریوں کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا، جس کی وجہ سے راستوں پر فلسطینیوں کو درپیش خطرات اور کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا۔
مسجد اقصی کے تقدس کی پامالی
مقبوضہ بیت المقدس میں صبح سویرے ہی یہودی آباد کاروں کے گروہوں نے باب المغاربہ کی جانب سے مسجد اقصی کے صحنوں میں دھاوا بولا اور اس کے احاطے میں اشتعال انگیز چکر لگائے، جبکہ قابض اسرائیل نے فلسطینیوں کے مسجد میں داخل پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔
یہ حملے پرانے شہر کے دروازوں کے قریب نمازیوں پر زمین تنگ کرنے کے ساتھ ساتھ ہوئے، اس دوران قابض حکام کی طرف سے فلسطینیوں کی نقل و حرکت اور مسجد اقصی تک رسائی پر سخت ترین اقدامات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
