Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

مسجد اقصیٰ میں یہودی آباد کاروں کی یلغار، تہواروں کے سیزن کے آغاز پر 300 افراد داخل

مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج اور اس کے زیرِ اثر مسلح اسپیشل فورسز کی سخت سکیورٹی میں آج اتوار کی صبح تقریباً 300 انتہا پسند یہودی آباد کاروں نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصی کے صحنوں میں دھاوا بول دیا، یہ مذموم کارروائی نام نہاد نئےعبرانی سال اور یہودی تہواروں کے سیزن کے آغاز کے ساتھ ہی عمل میں آئی ہے۔

اسلامی اقاف کے ایک ذمے دار نے اخباری بیانات میں بتایا کہ یہودی آباد کاروں نے قابض فوج کی جانب سے سخت سکیورٹی فراہم کیے جانے کے دوران یہودی گروہوں کی شکل میں مسجد کے صحنوں پر دھاوا بولا اور وہاں تلمودی رسومات ادا کیں۔

بیت المقدس کے ذرائع نے بتایا کہ یہودی آباد کار باب المغاربہ(مراکشی گیٹ) کے راستے مسجد اقصی میں داخل ہوئے اور اس کے صحنوں میں اشتعال انگیز چکر لگائے، جبکہ انتہا پسند یہودیوں کی ایک تعداد نے مسجد کے مشرقی حصے میں قبہ الصخرہ کے بالکل سامنے تلمودی رسومات اور دعائیں کیں۔

یہ دھاوا ’نام نہاد ہیکل‘ کے گروہوں کی طرف سے اس جارحانہ اکسانے کی کارروائی کے ساتھ بیک وقت پیش آیا جس میں انہوں نے یہودی آباد کاروں سے کہا تھا کہ وہ آج اتوار کو، جو کہ ’راس السنہ العبریہ‘ کے مترادف ہے، مسجد اقصی کے صحنوں میں ’شوفار‘ (بوق) پھونکیں۔

’ہیکل‘ کے یہ گروہ یہودی تہواروں کے اس سیزن کے دوران مسجد میں وسیع پیمانے پر دھاوے بولنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ اس کے اندر مزید خلاف ورزیوں اور تلمودی رسومات کا ارتکاب کرنے کے درپے ہیں تاکہ مسجد اقصی پر نئے حقائق مسلط کیے جا سکیں۔

یہ پیش رفت مقبوضہ بیت المقدس میں اسلامی مقدس مقامات کے خلاف جاری اسرائیلی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جو کہ فلسطینیوں کی طرف سے شدید مخالفت اور مذمت کے ماحول میں ہو رہی ہے، ایسے میں فلسطینی فریقوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ خلاف ورزیاں بیت المقدس اور مسجد اقصی میں موجود تاریخی اور قانونی حیثیت کی کھلم کھلا پامالی ہیں۔

مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی اقدامات میں نمایاں تیزی دیکھی جا رہی ہے، جن میں سے ایک بڑا حصہ پرانے شہر اور مسجد اقصی کے گردونواح پر مرکوز ہے، اور یہ سب یہودی تہواروں کے سیزن کے ساتھ ساتھ ہو رہا ہے۔

یہ قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ آنے والے دو ہفتوں کے دوران یہودی آباد کاروں کی طرف سے مسجد کے صحنوں میں بڑے پیمانے پر دھاوے بولے جانے کا سلسلہ دیکھا جائے گا، کیونکہ ’ہیکل‘ کے گروہوں کی جانب سے تہواروں کے اس دورانیے میں مسجد کے اندر مذہبی رسومات کی ادائیگی اور خلاف ورزیوں کی سطح کو بلند کرنے کے لیے مسلسل اشتعال دلایا جا رہا ہے۔

مسجد اقصی کے خطیب شیخ عکرمہ صبرہ نے اس امر سے خبردار کیا تھا کہ قابض حکام مسجد اقصی کو نشانہ بنانے اور سیاسی و مذہبی مقاصد کے حصول کی خاطر بیت المقدس کے حالات کو کشیدہ رکھنے کے لیے یہودی تہواروں کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔

یہودی تہواروں کا سیزن شروع ہونے سے پہلے ہی، مسجد اقصی میں دھاوا بولنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جیسا کہ القدس گورنری کی گزشتہ اگست کے مہینے کی ماہانہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مہینے کے دوران 5 ہزار 9 یہودی آباد کاروں نے مسجد کے صحنوں پر دھاوا بولا۔

القدس گورنری نے یہ بھی واضح کیا کہ رواں سال کے آغاز سے لے کر اگست کے آخر تک مسجد اقصی پر دھاوا بولنے والے یہودی آباد کاروں کی تعداد 40 ہزار 661 تک پہنچ چکی ہے۔

یہودی آباد کاروں کی جانب سے جمعہ اور ہفتے کے روز کے علاوہ، جو کہ قابض دشمن کے ہاں باضابطہ چھٹی کے دن ہوتے ہیں، باقی ہفتے کے ایام میں صبح اور شام کے دو اوقات میں مسلسل روزانہ کی بنیاد پر مسجد اقصی کے صحنوں پر دھاوے بولے جا رہے ہیں، جبکہ بیت المقدس اور مسجد اقصی میں سال 2026ء کے آغاز سے ہی دھاووں اور خلاف ورزیوں کی پے در پے لہریں دیکھی جا رہی ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan