Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

نیتن یاہو کی غزہ معاہدے میں تاخیر، امریکی عوام میں اسرائیل کی حمایت کمزور پڑ گئی

واشنگٹن (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکہ کی سابق نائب صدر کاملا ہیرس کے سابق قومی سلامتی کے مشیر فل گورڈن  نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ میں قابض صیہونی ریاست کی حمایت میں انتہائی ڈرامائی اور شدید کمی آئی ہے جو کہ اب ایک دائمی نقصان کا روپ دھار چکی ہے، جسے بنیامن نتن یاھو اور ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سے رخصت ہونے کے بعد بھی بحال نہیں کیا جا سکے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے صیہونی وزیراعظم پر سنگین الزام عائد کیا کہ انہوں نے سنہ 2024ء کے ایام میں غاصبانہ شرائط مسلط کر کے غزہ میں جنگ بندی اور اسیران کے تبادلے کے معاہدے کو چھ ماہ تک معطل رکھا۔

عبرانی ویب سائٹ «واللا» پر منگل کے روز شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں گورڈن نے انکشاف کیا کہ امریکہ میں صیہونی ریاست کے بارے میں عوامی نقطہ نظر میں ایک انتہائی گہری اور تاریخی تبدیلی آئی ہے، بالخصوص نئی اور جوان نسل کے اندر یہ تبدیلی گہری ہے، صیہونی حکومت کی تبدیلی کے باوجود امریکہ میں صیہونی ریاست کی پرانی عوامی مقبولیت کی واپسی کا اب کوئی امکان باقی نہیں رہا۔

گورڈن کے مطابق صیہونی دشمن کو ہتھیاروں کی فروخت اور عسکری امداد پر پابندیاں عائد کرنے کے مطالبات اب صرف سیاسی دائرے کے حاشیے یا معمولی آوازوں تک محدود نہیں رہے بلکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ایک مرکزی اور غالب دھارے کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جبکہ اب اس سخت تنقید کی گونج ریپبلکن پارٹی کے حلقوں میں بھی سنائی دے رہی ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ بحران صیہونی حکومت اور کسی ایک امریکی انتظامیہ کے درمیان وقتی اختلافات سے کہیں زیادہ گہرا اور نا قابلِ تلافی ہے۔

یہ تجزیہ پیو ریسرچ سینٹر (Pew Research Center) کے مارچ سنہ 2026ء کے تازہ ترین سروے کے نتائج سے مکمل مطابقت رکھتا ہے، جس کے مطابق 60 فیصد امریکی صیہونی ریاست کو انتہائی منفی نظر سے دیکھتے ہیں، جبکہ یہ تناسب سنہ 2025ء میں 53 فیصد اور سنہ 2022ء میں 42 فیصد تھا۔

ڈیموکریٹس اور ان کے ہم خیال آزاد شہریوں کے درمیان یہ منفی تناسب 80 فیصد کی ہولناک سطح تک پہنچ چکا ہے، جبکہ 50 سال سے کم عمر کے 57 فیصد ریپبلکنز بھی صیہونی ریاست کے بارے میں شدید منفی خیالات رکھتے ہیں، باوجود اس کے کہ مجموعی طور پر اکثریت ریپبلکنز میں اب بھی صیہونی حامی ہے۔

شرائط جنہوں نے نسل کشی کی جنگ کو طویل کیا

غزہ کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات پر گواہی دیتے ہوئے گورڈن نے بتایا کہ جولائی سنہ 2024ء کے آغاز میں پیش رفت کا ایک شاندار موقع اس وقت پیدا ہوا تھا جب اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے معاہدے کے فریم ورک کو اصولی طور پر قبول کر لیا تھا اور اس سے قبل مستقل جنگ بندی کی پیشگی شرط کے مطالبے سے لچک کا مظاہرہ کیا تھا۔

اس فریم ورک کا اعلان سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے 31 مئی سنہ 2024ء کو کیا تھا، جو مرحلہ وار معاہدے کے نفاذ پر مبنی تھا جس کا آغاز جنگ بندی اور اسیران کے تبادلے سے ہونا تھا اور اس کے بعد جنگ کے حتمی خاتمے کی ترتیبات پر مذاکرات شامل تھے۔ گورڈن کی روایت کے مطابق واشنگٹن نے حماس کے اس مثبت اور لچکدار موقف کو مذاکرات کو آگے بڑھانے کے ایک سنہری موقع کے طور پر دیکھا تھا۔

لیکن گورڈن نے انکشاف کیا کہ نتن یاھو نے چار جولائی کو بائیڈن کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران یکایک نئی اور من مانی شرائط پیش کر دیں اور اس کے بعد مسلسل “وضاحتوں” کا لامتناہی سلسلہ شروع کر دیا، جن میں غزہ اور مصر کی سرحد پر واقع محورِ فلیڈلفیا میں صیہونی فوج کی مستقل موجودگی اور شمال کی طرف لوٹنے والے فلسطینیوں کی سخت تلاشی و معائنے کے لیے ایک صیہونی چیک پوسٹ میکانزم کا قیام شامل تھا۔

انہوں نے بتایا کہ نیتن یاھو کی طرف سے ان غاصبانہ مطالبات پر مسلسل ضداور ہٹ دھرمی کے باعث اس وقت معاہدے تک پہنچنا بالکل ناممکن ہو گیا، حالانکہ بعد میں جنوری سنہ 2025ء کے معاہدے سے ان دونوں شرائط کو بالکل حذف کر دیا گیا۔ گورڈن نے تخمینہ لگایا کہ ان چھ ضائع ہونے والے مہینوں کے دوران مزید 9,000 کے قریب مظلوم فلسطینی شہری صیہونی بمباری سے شہید ہوئے اور کئی صیہونی قیدی بھی ہلاک ہوئے، جس نے معاہدے کی اس مجرمانہ تاخیر کی ہولناک انسانی قیمت کو بے نقاب کر دیا ہے۔

اگرچہ گورڈن نے نتن یاھو کے تمام خفیہ ہتھکنڈوں پر حتمی حکم لگانے سے گریز کیا، لیکن انہوں نے اشارہ کیا کہ اس تصفیے اور معاہدے کو رد کرنا نیتن یاھو کے ذاتی سیاسی مفادات اور اپنی انتہائی دائیں بازو کی انتہا پسند حکومت کو گرنے سے بچانے کی ضرورت کے عین مطابق تھا، باوجود اس کے کہ صیہونی سکیورٹی حکام بشمول اس وقت کے جنگی وزیر یوآو گیلنٹ نے اس پر شدید اعتراضات اٹھائے تھے۔

امریکی انتظامیہ اور واشنگٹن کی ذمہ داری کا احتساب

گورڈن کی یہ گواہی معاہدے کو معطل کرنے کی ذمہ داری پر جاری شدید بحث کے درمیان سامنے آئی ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب نتن یاھو کے حامیوں نے سابق امریکی عہدیدار برٹ میک گرک کے تحریری بیانات اور کتاب کا سہارا لے کر نتن یاھو کے جنگی جرائم اور طرزِ عمل کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔ گورڈن نے واضح کیا کہ میک گرک کی تحریریں حقیقت کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتی ہیں اور نہ ہی بائیڈن انتظامیہ کے تمام سابق عہدیداروں کا یہ موقف تھا۔

گورڈن کا یہ جائزہ صرف صیہونی جانب تک محدود نہیں رہا، بلکہ انہوں نے اعتراف کیا کہ جس امریکی انتظامیہ میں وہ خود شامل تھے، اسے جنگ کے ابتدائی مرحلے میں ہی اس کے خاتمے کے لیے نیتن یاھو پر شدید ترین دباؤ ڈالنا چاہیے تھا، جس میں سفارتی تحرک کے ساتھ ساتھ صیہونی ریاست کو بارود اور ہتھیاروں کی فراہمی پر سخت شرائط کا عائد کرنا شامل تھا، بغیر اس کے کہ عسکری امداد کی مکمل معطلی کا تقاضا کیا جاتا۔

انہوں نے غزہ میں “ورلڈ سینٹرل کچن” (World Central Kitchen) کے غیر ملکی امدادی کارکنوں کی صیہونی فوج کےہاتھوں شہادت کے بعد مزید گزرگاہیں کھولنے کے لیے امریکی دباؤ پر صیہونی ریاست کے گھٹنے ٹیکنے کی مثال دیتے ہوئے ثابت کیا کہ واشنگٹن کے پاس انتہائی مؤثر صلاحیتیں اور دباؤ کے آلات موجود تھے، بشرطیکہ وہ اپنے مطالبات کو اپنی پالیسی کی تبدیلی سے جوڑتا۔

گورڈن کے یہ کھلے انکشافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ کے اندر صیہونی ریاست کا گھناؤنا چہرہ مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے اور امریکہ کے سیاسی اداروں کی جانب سے صیہونی ریاست کی اندھی حمایت اور امریکی عوام کے شدید تر ہوتے ہوئے صیہونی مخالف جذبات کے درمیان ایک وسیع اور نا قابلِ عبور خلیج پیدا ہو چکی ہے۔

صیہونی ریاست کی ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندیاں عائد کرنے کے عالمی مطالبات کے درمیان گورڈن کی اس شہادت کی اہمیت اس لیے اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ ایک ایسے امریکی عہدیدار کی طرف سے آئی ہے جو جنگ کے دوران امریکی پالیسی کا براہِ راست حصہ رہا ہے، اور جو اس بات کا کھلم کھلا اعتراف کر رہا ہے کہ واشنگٹن کے پاس صیہونی ریاست کو روکنے اور اس ہولناک نسل کشی کو قبل از وقت ختم کرنے کے تمام آلات اور ذرائع موجود تھے لیکن انہیں استعمال نہیں کیا گیا، جبکہ وہ متنبہ کر رہا ہے کہ اب محض قیادت کی تبدیلی سے بھی ان ہولناک اثرات اور امریکی عوامی ردِعمل کو مٹایا نہیں جا سکے گا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan