دوحہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے غزہ کی پٹی میں نسل کشی کے ہولناک جرائم کے مرتکب صیہونی ذمہ داران کے سخت احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ مظلوم فلسطینیوں کے خلاف کیے جانے والے صیہونی جرائم کو قانونی جواب دہی کے بغیر کسی صورت نہیں چھوڑا جا سکتا۔
قطری دارالحکومت دوحہ میں قطری شوریٰ کونسل کے 55 ویں سالانہ اجلاس کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں امیر تمیم بن حمد نے زور دے کر کہا کہ ’’غزہ کی پٹی میں جو کچھ ہوا ہے وہ بغیر کسی شک و شبہ کے کھلی نسل کشی ہے، اس کے مرتکبین کو سزا اور قانون سے بچ نکلنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی‘‘۔
امیرِ قطر نے کہا کہ ان کے ملک نے گذشتہ عرصے کے دوران انتہائی غیر معمولی اور کٹھن حالات کا سامنا کیا ہے جس نے ریاستی اداروں کی مضبوطی اور قطری معاشرے کی یکجہتی اور بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو ثابت کیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس بحران کے دوران دوحہ نے بیک وقت تین اہم ذمہ داریاں نبھائیں، جن میں اپنے قومی و جغرافیائی تحفظ، عالمی معیشت و انرجی سیکیورٹی کے شعبے میں اپنے کردار کی پاسداری، اور سفارت کاری کے راستوں کو کھلا رکھنا شامل ہے۔
شیخ تمیم بن حمد نے قطر کے اس عزم کو دہرایا کہ ان کا ملک خطے کے امن و استحکام کی خاطر عرب ممالک اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر جدوجہد جاری رکھے گا، نیز انہوں نے واضح کیا کہ قطر کا مذاکرات اور پرامن حل پر یقین رکھنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے دفاع میں کسی قسم کی سستی یا غفلت برتے گا۔
امیرِ قطر کے یہ بیانات غزہ کی پٹی پر مسلسل جاری تین سالہ صیہونی نسل کشی کے ہولناک نتائج کے سائے میں سامنے آئے ہیں، جس کے نتیجے میں اب تک 74 ہزار سے زائد فلسطینی شہری جامِ شہادت نوش اور ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد شدید زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ خطے کا انفراسٹرکچر، گھر اور تمام بنیادی سہولیات صیہونی بمباری سے مکمل تباہ ہو چکی ہیں۔
