Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

غزہ میں طبی نظام کی مکمل تباہی، علاقہ ناقابلِ رہائش ہونے کے خطرے سے دوچار: انروا

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوامِ متحدہ کے امدادی ادارے برائے فلسطینی پناہ گزین (انروا) کے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر اکیکیرو سیتا نے غزہ میں انسانی و طبی حالات کی مسلسل ہولناک ابتری کے خلاف شدید خبردار کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قابض صیہونی فورسز کی عسکری کارروائیوں اور زندگی کے تمام شعبوں کو تباہ کرنے والی جنگ کے المناک اثرات کے باعث غزہ کی پٹی تیزی سے ایک ایسے علاقے میں تبدیل ہو رہی ہے جہاں انسان کا زندہ رہنا ناممکن ہو چکا ہے۔

جاپانی خبر رساں ایجنسی «جیجی پریس» کو انٹرنیٹ کے ذریعے دیے گئے ایک انٹرویو میں سیتا نے کہا کہ غزہ میں انسانی زندگی کا پورا ماحول مکمل طور پر تباہ و برباد ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ 10 اکتوبر سنہ 2025ء کو جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے باوجود جنگ کے ہولناک اثرات اور تباہ کاریوں کا خاتمہ نہیں ہو سکا ہے، جبکہ انسانی و طبی حالات کو اب بھی سنگین ترین چیلنجز کا سامنا ہے۔

رپورٹ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی صیہونی نسل کشی اور جنگ کے نتیجے میں 74 ہزار سے زائد فلسطینی شہری جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں، جبکہ غزہ کی پٹی کی دوبارہ تعمیر اور بحالی کی کوششیں صیہونی حملوں اور پٹی کے وسیع علاقوں پر قابض فورسز کے مسلسل غاصبانہ تسلط کے باعث انتہائی سست رفتاری کا شکار ہیں۔

قابض صیہونی تسلط نے شہریوں کا گھیراؤ کر رکھا ہے

رپورٹ میں پیش کیے گئے تخمینوں کے مطابق صیہونی فوج غزہ کی پٹی کے تقریباً 70 فیصد رقبے پر اپنا ناجائز عسکری قبضہ جمائے ہوئے ہے، جو جنگ بندی معاہدے میں طے شدہ حد بندیوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس غاصبانہ تسلط نے باقی ماندہ محدود رقبے میں تقریباً 20 لاکھ فلسطینیوں کو محصور کر کے رکھ دیا ہے، جن کی اکثریت بنیادی ضروریاتِ زندگی سے مکمل محروم خیموں میں انتہائی کٹھن زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

یہ سفاكانہ حالات بے گھر ہونے والے مظلوم فلسطینیوں کی مصائب و آلام میں بے پناہ اضافہ کر رہے ہیں، بالخصوص ایسے وقت میں جب بنیادی خدمات کی عدم دستیابی اور محفوظ و صحت مند معیشتی ماحول کی فراہمی میں شدید مشکلات درپیش ہیں، جس سے شہریوں کی زندگیوں کو درپیش خطرات دوچند ہو گئے ہیں اور خطے کا انسانی بحران انتہائی تشویشناک حد تک گہرا ہو گیا ہے۔

طبی نظام کی تباہی اور موذی بیماریوں کا پھیلاؤ

غزہ کے صحت کے شعبے میں ادویات و طبی سامان کی شدید قلت اور ان کی آمد پر صیہونی فورسز کی طرف سے عائد کردہ سخت پابندیوں کے باعث بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ان پابندیوں نے طبی مراکز کی صلاحیتوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے اور وہ شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں، جبکہ دوسری طرف معیشتی حالات کی ابتری کے باعث جلد کے امراض اور دیگر متعدی بیماریوں کے تیزی سے پھیلنے کے شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

یہ ہولناک اشاریے اس تباہی کے حجم کو بے نقاب کرتے ہیں جس کا سامنا اس وقت غزہ کو ہے۔ یہاں صیہونی جنگ کے اثرات، ادویات و طبی مستلزمات کا فقدان اور بنیادی سہولیات کی معدومی ایک ساتھ مل کر شہریوں کو انتہائی سفاکانہ حالات کا نشانہ بنا رہے ہیں جہاں انسانی زندگی کی کم سے کم تر سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔

جنگ بندی معاہدے کے باوجود غزہ میں انسانی و طبی صورت حال کو درپیش خطرات بدستور برقرار ہیں، کیونکہ صیہونی ریاست پٹی کے ایک بڑے حصے پر قابض ہے اور بحالی کے کاموں کو معطل رکھا گیا ہے، جس نے مظلوم فلسطینیوں کی زندگیوں کو معذوری اور کٹھن امتحان میں مبتلا کر رکھا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan