مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ بیت المقدس میں ایک جنونی اسرائیلی آباد کار کی جانب سے فرانسیسی راہبہ پر وحشیانہ حملے کی ویڈیو وائرل ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی فرانس کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر غم و غصے کی ایک شدید لہر دوڑ گئی ہے۔
یہ واقعہ دیکھتے ہی دیکھتے عوامی رائے عامہ کا بڑا مسئلہ بن گیا اور فرانس سمیت پورے یورپ میں اس پر بحث چھڑ گئی ہے۔ اس حملے کی شدید مذمت کے ساتھ ساتھ حملے کے پیچھے کارفرما محرکات اور احتساب کی حدود پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور یہ پوچھا جا رہا ہے کہ کیا یہ تشدد کوئی انفرادی واقعہ ہے یا اس منظم سفاکیت کا حصہ ہے جس کا نشانہ غیر یہودی بن رہے ہیں۔
مقبوضہ بیت المقدس میں فرانسیسی سکول برائے بائبل و آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر فادر اولیویہ بوکیون نے تصدیق کی ہے کہ ادارے سے وابستہ ایک محقق راہبہ کو شہر کے علاقے العلیہ کے قریب بلا اشتعال حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے اس فرقہ وارانہ تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کریں تاکہ ان کا احتساب ہو سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نفرت کا مقابلہ کرنا ایک مشترکہ چیلنج ہے جس کے لیے اجتماعی ردعمل کی ضرورت ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس میں فرانسیسی قونصل خانے نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے متاثرہ راہبہ کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔ قونصل خانے نے یقین دلایا کہ وہ ان کی حالت اور معاملے کی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس بات پر زور دیا کہ حملہ آور کو قانون کے کٹہرے میں لا کر اسے کیفر کردار تک پہنچانا ضروری ہے۔
اسی تناظر میں اسرائیلی صحافی یائیر نافوت نے اعتراف کیا کہ یہ واقعہ مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم شہر میں مسیحی مذہبی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے اس وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتا ہے جس میں بار بار ہراساں کرنا اور تشدد کے مختلف واقعات شامل ہیں۔ انہوں نے ویڈیو میں دکھائی دینے والے تشدد پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایک راہبہ پر حملہ کرنے، اسے زمین پر گرانے اور پھر ٹھوکریں مارنے کے پیچھے کیا محرکات ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب صحافی یوسی ایلی نے اس واقعے کو مسیحیوں کے خلاف نفرت کا گھناؤنا اظہار قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ خاتون فرانسیسی سکول برائے بائبل و آثار قدیمہ میں لیکچرار ہیں اور مقبوضہ بیت المقدس کی عبرانی یونیورسٹی میں ریسرچ فیلو بھی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ مشتبہ شخص کی گرفتاری صرف اس وقت عمل میں آئی جب میڈیا کوریج بڑھ گئی اور ان حملوں کی سنگینی اجاگر ہوئی۔
فرانس میں یورپی رکن پارلیمنٹ ناتالی لوازو نے اس حملے کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ راہبہ پر پیچھے سے حملہ کیا گیا، انہیں زمین پر پٹخا گیا اور پھر ٹھوکریں ماری گئیں۔ انہوں نے اس انسانی اور اخلاقی پہلو پر سوال اٹھایا کہ ایک ایسی مذہبی شخصیت کو کیوں نشانہ بنایا گیا جس سے کسی کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔
صحافی شارل ائندرلان نے اس واقعے کو مسیحی مخالف حملوں میں اضافے کے وسیع تر تناظر سے جوڑا اور بتایا کہ متاثرہ راہبہ کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ایک فرانسیسی سماجی کارکن نے تبصرہ کیا کہ اس واقعے کو کوئی الگ تھلگ واقعہ قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ ایک گہرے مسئلے کی علامت ہے۔ انہوں نے حملہ آور کی شناخت کے حوالے سے ردعمل میں برتے جانے والے دوہرے معیارات پر بھی سوالات اٹھائے۔
اسی طرح محققہ لوریان لافون گراف نے رائے دی کہ جو کچھ ہوا وہ ان انتہا پسند مذہبی گروہوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا نتیجہ ہے جو مسیحیوں اور مسلمانوں کو یکساں طور پر نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے تاکید کی کہ یہ واقعہ کوئی استثنیٰ نہیں بلکہ اس روزمرہ کی تلخ حقیقت کا حصہ ہے جس کا سامنا مقبوضہ بیت المقدس کے باسیوں کو ہے۔
ان تمام موقف کا اشتراک یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح اخلاقی مذمت سیاسی پس منظر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، جہاں اس واقعے کو محض ایک حملہ نہیں بلکہ تشدد، انتہا پسندی اور قانونی احتساب کے فقدان کے ایک بڑے اشاریے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
