بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) لبنانی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے جنوبی حصوں پر قابض اسرائیل کی فضائی غارت گری کے نتیجے میں 8 افراد شہید اور 8 دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔
اس سے قبل جمعہ ہی کے روز قابض اسرائیل کے طیاروں نے جنوبی لبنان کے قصبوں کو نشانہ بناتے ہوئے وحشیانہ بمباری کی جس کے نتیجے میں تین لبنانی شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے، جبکہ سرحدی علاقوں کو شدید توپ خانے کی گولہ باری کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
وزارت صحت کے مطابق النبطیہ الفوقا نامی بستی پر ہونے والے اسرائیلی حملے میں دو افراد شہید اور دس دیگر مختلف نوعیت کے زخموں سے چور ہوئے۔
بعد ازاں جاری ہونے والے ایک بیان میں وزارت نے بتایا کہ ضلع النبطیہ کے قصبے حاروف پر ہونے والے ایک اور حملے میں ایک خاتون شہید اور ایک بچے سمیت تین افراد زخمی ہوئے، جس سے مجموعی طور پر شہداء کی تعداد تین اور زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا۔
اسی اثناء میں وادی الحجیر اور فرون، الغندوریہ اور تولین کے مضافات کو 155 ملی میٹر کے گولوں سے قابض اسرائیل کے شدید توپ خانے نے نشانہ بنایا، جبکہ الصوانہ اور قلاویہ کی بستیوں پر بھی وقفے وقفے سے گولہ باری کی گئی۔
قابض اسرائیل کی توپوں نے مغربی سیکٹر میں تلال مجدل زون اور المنصوری کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ جنگی طیاروں نے حاریص اور الطیری کی بستیوں پر رات گئے شدید بمباری کی۔
جنوبی لبنان کی بستیوں پر اسرائیلی افواج کے حملوں کی تعداد 34 تک پہنچ گئی ہے، جن میں سب سے نمایاں ضلع النبطیہ پر ہونے والے 10 حملے تھے جن میں فرون، الغندوریہ، تولین، الصوانہ، قلاویہ، بریقع، الزراریہ، یحمر الشقیف اور حبوش کی بستیوں کو نشانہ بنایا گیا۔
قابض اسرائیل کے ان حملوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 11 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے، جو کہ گذشتہ 17 اپریل سنہ 2026ء سے جاری جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی عسکری جارحیت کے تسلسل کا حصہ ہے۔
لبنانی وزارت صحت نے جمعہ کے روز بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 32 افراد شہید اور 74 زخمی ہوئے ہیں، جس سے اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ہونے والے کل جانی نقصانات کی تعداد 2618 شہداء اور 8094 زخمیوں تک جا پہنچی ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں قابض اسرائیل کے فوجی ٹھکانوں اور گاڑیوں پر 12 حملوں کا اعلان کیا ہے، جن میں چار ٹینک، ایک خودکار توپ اور ہیمر نامی فوجی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، اس کے علاوہ فوجیوں کے پانچ اجتماعات کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ایک ڈرون طیارہ بھی مار گرایا گیا ہے۔
