Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

قابض فوج کی کارروائی، طولکرم میں شہریوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں

طولکرم – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے طولکرم کیمپ پر مسلسل 460 ویں روز اور نور شمس کیمپ پر مسلسل 448 ویں روز بھی اپنی وحشیانہ جارحیت اور سفاکیت کا سلسلہ برقرار ہے۔

مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ آج ہفتے کے روز نماز فجر کے وقت قابض اسرائیلی دشمن کے مسلح دستوں نے طولکرم شہر کے مشرق میں واقع نور شمس کیمپ کے گردونواح میں ابو سمن نامی رہائشی عمارت کے متعدد اپارٹمنٹس پر دھاوا بولا اور تلاشی کے دوران سابق اسیر حازم العجوز کو اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

اسی طرح قابض اسرائیل کے اہلکاروں نے نور شمس کیمپ کے ہی قریب ایک اور کارروائی کے دوران نوعمر شہید جہاد جابر کے والد نیاز جابر کے گھر پر دھاوا بول کر انہیں حراست میں لے لیا۔

یہ گرفتاریوں اور چھاپوں کی مہم طولکرم کے شمال میں واقع شویکہ کے علاقے میں الاقصیٰ محلے اور شہر کے مشرق میں واقع عنبتا قصبے میں قابض افواج کی پیش قدمی کے ساتھ ساتھ جاری رہی۔

طولکرم پر قابض اسرائیل کی مسلسل جارحیت کے باعث طولکرم اور نور شمس کیمپوں سے جبری طور پر بے گھر ہونے والے ہزاروں فلسطینیوں کے مصائب بدستور جاری ہیں، جو در بدر ہونے کی کڑی دھوپ اور اپنے گھروں کو واپسی کی تڑپ کے بیچ انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

گذشتہ مارچ کے آخر میں قابض اسرائیلی فوج نے طولکرم اور نور شمس کیمپوں کے خلاف اپنی ظالمانہ کارروائیوں میں 31 مئی سنہ 2026ء تک توسیع کا فیصلہ کیا تھا، جو درحقیقت فلسطینی عوام کے خلاف قابض دشمن کی نسل کشی، جبری بے دخلی اور منظم تباہی کی مجرمانہ پالیسی کا ایک تسلسل ہے۔

یاد رہے کہ مغربی کنارے کے کیمپوں پر اس وسیع پیمانے کی جارحیت کا آغاز 27 جنوری سنہ 2025ء کو ہوا تھا، جس کے دوران قابض اسرائیل نے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر کے طولکرم اور نور شمس کیمپوں کو انسانوں سے خالی علاقوں میں بدل دیا ہے اور ہزاروں خاندانوں پر انسانی تباہی مسلط کر دی ہے۔

اس مدت کے دوران قابض دشمن نے دونوں کیمپوں میں بڑے پیمانے پر مسماری کی کارروائیاں کیں، جس میں سینکڑوں رہائشی عمارتوں کو مکمل طور پر زمین بوس کر دیا گیا اور ہزاروں دیگر کو جزوی نقصان پہنچایا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سڑکوں کی توڑ پھوڑ، پانی، بجلی اور سیوریج کے نیٹ ورکس کی تباہی بھی شامل ہے تاکہ کیمپوں کے جغرافیائی اور عمرانی نقشے کو مٹا کر فلسطینیوں کی جڑیں کاٹ دی جائیں۔

اس اسرائیلی سفاکیت کے نتیجے میں 5 ہزار سے زائد خاندانوں کو جبری ہجرت پر مجبور کیا گیا، جن کے افراد کی تعداد 25 ہزار سے زائد ہے اور ان میں 38 فیصد بچے شامل ہیں۔ یہ بے گھر فلسطینی اب قریبی دیہاتوں، قصبوں، مساجد، سماجی اداروں اور شادی ہالوں میں انتہائی سخت حالات میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

جارحیت کے اس طویل عرصے کے دوران قابض فوج نے گھروں کو بمباری، دھماکوں اور آگ کا نشانہ بنایا، جبکہ مسلسل فائرنگ، صوتی بموں، آنسو گیس اور ڈرونز کی گھن گرج نے شہریوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ قابض دشمن نے درجنوں گھروں کو فوجی بیرکوں اور تفتیشی مراکز میں تبدیل کر دیا ہے جہاں شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور ان پر بدترین تشدد کے ساتھ ساتھ ان کے مال و متاع کی لوٹ مار اور تخریب کاری کی جاتی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan