Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

مغربی کنارے میں جبری بے دخلی کا نیا منصوبہ، رأس الأحمر کے مکین نشانے پر

وادیٔ اردن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) انتہا پسند یہودی آباد کاروں کے غنڈہ گرد ٹولوں نے شمالی وادیٔ اردن میں عاطوف قصبے کے مشرق میں واقع “الرأس الأحمر” نامی بستی پر ایک بار پھر دھاوا بول دیا ہے اور وہاں کے مکینوں کو دھمکی دی ہے کہ وہ دس دن کے اندر اندر اپنے گھروں اور بستی کو خالی کر دیں تاکہ اس سٹریٹجک خطے کو فلسطینی باشندوں سے خالی کرانے کے مذموم منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

قابض صہیونی فوج کی وردی میں ملبوس یہودی آباد کاروں نے گذشتہ رات مقامی شہریوں کے گھروں پر دھاوا بول دیا اور خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کرنے کے لیے بستی کے مشرقی حصوں کی بجلی منقطع کر دی جبکہ اس کے ساتھ ہی محاصرے کو مزید سخت کرتے ہوئے بستی کی طرف جانے والے تمام راستوں کو بند کر دیا گیا اور صرف ایک ایسا مشکل راستہ کھلا رکھا گیا جس پر چلنا انتہائی دشوار ہے۔

مقامی ذرائع نے اس نئی سڑک کی تعمیر کے خطرناک نتائج سے خبردار کیا ہے جس کے نتیجے میں الرأس الأحمر کا یہ اجتماع اپنے گردونواح سے بالکل کٹ کر رہ جائے گا، بالخصوص اس صورتحال میں جب قابض فوج کی مشینری نے خربۃ عاطوف اور اسی بستی میں پانی کے تین ارٹیزین کنوؤں کو مسمار کر ڈالا ہے جو کہ پانی کی ایک ایسی جاری جنگ کا حصہ ہے جس کا مقصد ان لوگوں کو بقا کی بنیادی سہولیات سے محروم کرنا ہے۔

میدانی صورتحال کا یہ نیا رخ اس وسیع تر کھدائی اور جبری اکھاڑ پچھاڑ کے منصوبے سے جڑا ہوا ہے جو رواں سال کے آغاز سے ہی سہل البقیعہ اور عاطوف کے علاقوں میں جاری ہے تاکہ “پروجیکٹ ریڈ تھریڈ” یا نام نہاد “سرخ دھاگے کے منصوبے” کو نافذ کیا جا سکے جو کہ ایک استعمار پسند منصوبہ ہے اور اس کا مقصد فوجی راستے تعمیر کرنا اور ایک ایسی فصیل کھڑی کرنا ہے جو طوباس اور شمالی وادی اردن کی زمینوں کے بہت بڑے رقبے کو ہڑپ لے۔

ان کھدائی اور زمین کو ہموار کرنے کے آپریشنز کے نتیجے میں پانی کے مرکزی نیٹ ورک تباہ ہو چکے ہیں اور درخت جڑ سے اکھاڑ دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے تقریباً 30 ہزار دونم رقبہ یعنی سہل البقیعہ کے کل رقبے کا ایک تہائی حصہ پانی سے محروم ہو چکا ہے اور اس طرح علاقے کی زرعی بنیاد کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا ہے۔

قابض فوج اور یہودی آباد کاروں کے درمیان گٹھ جوڑ سے ہونے والے یہ متصلہ حملے بنیادی ڈھانچے کو نیست و نابود کرنے اور قابض بستیوں کو پھیلانے کی ایک منظم پالیسی کا حصہ ہیں تاکہ مغربی کنارے کے سب سے بڑے غذائی اور آبی ذخیرے کے علاقے میں رہنے والے باسیوں کی زندگی کو اتنا اجیرن بنا دیا جائے کہ وہ جبری ہجرت کرنے پر مجبور ہو جائیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan