Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

مغربی کنارے میں تعلیمی سال کا آغاز، اسرائیلی قبضے کے سائے میں تعلیم کا بحران جاری

مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اتوار کی صبح مقبوضہ مغربی کنارے کے طول و عرض میں دو ہزار پانچ سو سینتیس (2,537) سکولوں نے آٹھ لاکھ چھیالیس ہزار (846,000) طلبہ و طالبات کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں، جو سنہ 2026ء-2027ء کے نئے تعلیمی سال کے باقاعدہ آغاز کا غماز ہے، تاہم طلبہ کا اپنے تعلیمی اداروں میں واپس لوٹنا اس بات کا ہرگز ضامن نہیں ہے کہ سکول کا یہ سفر محفوظ ہو چکا ہے یا تعلیمی نظام اب خطرات کے اس گھیرے سے باہر نکل آیا ہے۔

ایسے عالم میں جب مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس کے بیشتر اضلاع میں تعلیمی سال کا آغاز ہو چکا ہے، طوباس کے شمال میں واقع قصبہ عقابا کے طلبہ کو ان کے سکولوں میں واپسی سے محروم رکھا گیا کیونکہ اس قصبے پر مسلط کردہ تازہ ترین جارحیت کی وجہ سے وہاں تعلیمی عمل کو فی الحال ملتوی کرنا پڑا ہے۔

اسی طرح نابلس میں قابض صہیونی فوج نے حوارہ اور برقا کے دونوں سکولوں پر دھاوا بول دیا، جس کے نتیجے میں کئی گھنٹوں تک پڑھائی کا سلسلہ معطل رہا، جو اس تلخ حقیقت کو ایک بار پھر دہراتا ہے کہ فلسطینی تعلیمی سال اس بار بھی فوجی چھاپوں، کرفیو اور پابندیوں کی شدید یلغار تلے شروع ہو رہا ہے۔

تقریباً آٹھ لاکھ چھیالیس ہزار (846,000) طلبہ و طالبات حکومتی، نجی اور ‘انروا’ کے سکولوں میں اپنی تعلیم کا سلسلہ جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ سب ایسے خطرناک تعلیمی ماحول میں ہو رہا ہے جہاں خطرات دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں، بالخصوص ان علاقوں میں جہاں سکولوں کو مسمار کرنے یا تالے لگائے جانے کے تسلسل سے خطرات لاحق ہیں یا جو صیہونی کالونیوں اور فوجی چوکیوں کے بالکل قریب واقع ہیں۔

مسماری کے خطرات کی زد میں سکول

پسماندہ اور قابض دشمن کے غاصبانہ تسلط میں آنے والے علاقوں میں سکول محض تعلیم حاصل کرنے کی کوئی عمارت نہیں رہتا، بلکہ وہ اس استعماری پالیسی کے خلاف ڈٹ جانے کا ایک روشن استعارہ بن جاتا ہے جس کا بنیادی ہدف مقامی آبادی کو جبری ہجرت پر مجبور کرنا ہے۔

مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف حصوں میں فلسطینی سکول بالخصوص ‘سی’ زمرے کے علاقوں میں آنے والے تعلیمی ادارے قابض انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ مسماری کے نوٹسز یا انہدام کے خوف کی زد میں ہیں کیونکہ ان علاقوں میں صیہونی حکام کی طرف سے تعمیراتی اجازت نامے حاصل کرنا محال بنادیا گیا ہے۔

بدوی اور دیہی بستیوں میں اس مسئلے کی سنگین نوعیت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب سکول بچوں کے لیے تعلیم کا سب سے قریب ترین مرکز ہوتا ہے، جبکہ اس کا گرایا جانا یا بند کیا جانا اس المیے کو جنم دیتا ہے کہ معصوم بچوں کو دوسرے دور دراز سکولوں تک پہنچنے کے لیے طویل مسافت طے کرنا پڑتی ہے، جو باقاعدگی سے ان کی تعلیمی حاضری کو کمزور کر دیتا ہے، بالخصوص کم عمر بچوں کے لیے یہ سفر انتہائی جان جوکھوں کا کام بن جاتا ہے۔

طوباس اور شمالی وادیٔ اردن کے علاقے میں وزارتِ تعلیم و تربیت نے عاطوف کے بنیادی اختلاطی سکول کا انتخاب نئے تعلیمی سال کے افتتاح کے لیے کیا، جس کے پیچھے ایک گہرا پیغام پوشیدہ ہے جو صرف تعلیمی تقریب تک محدود نہیں ہے، کیونکہ یہ سکول ایک ایسے خطے میں واقع ہے جو مسلسل صیہونی جارحیت اور مکینوں کو اپنی دھرتی چھوڑنے پر مجبور کرنے کی مکروہ سازشوں کا نشانہ بنا رہتا ہے۔

طوباس کے محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر عزمی بلاونہ کا کہنا ہے کہ عاطوف سکول کا یہ انتخاب اس بات کی علامت کے طور پر کیا گیا ہے کہ یہ ایک ‘مزاحمتی سکول’ ہے، جو اس عزم کا غماز ہے کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود اس خطے میں تعلیمی عمل ہر حال میں جاری و ساری رہے گا۔

طوباس اور شمالی وادیٔ اردن میں پندرہ ہزار سے زائد طلبہ و طالبات اس نئے تعلیمی سال کے آغاز پر اپنے سکولوں سے وابستہ ہو چکے ہیں۔

فوجی دھاووں کے نرغے میں تعلیم

تعلیمی اداروں کے مسمار ہونے کا خطرہ ہی واحد چیلنج نہیں ہے، بلکہ فوجی چھاپے اور طلبہ و اساتذہ پر ہونے والے وحشیانہ حملے ایک ایسا اضافی اور خطرناک عنصر ہیں جو تعلیمی عمل کے تسلسل کو براہِ راست نگل رہا ہے۔

تعلیمی سال کے پہلے ہی روز نابلس گورنری میں واقع حوارہ اور برقا کے سکولوں پر قابض فوج کا دھاوا بولنا اور چند گھنٹوں کے لیے پڑھائی کا تعطل اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ مغربی کنارے کے مختلف خطوں میں طلبہ اور اساتذہ کو کس نوعیت کے کٹھن حالات کا سامنا ہے، جہاں فوجی چوکیاں، چھاپے اور راستوں کی بندشیں سکولوں تک پہنچنے کی راہ میں روزمرہ کے عذاب بن جاتی ہیں۔

صرف طلبہ ہی اس قیمت کو چکانے پر مجبور نہیں ہیں؛ بلکہ اساتذہ بھی بند راستوں، رکاوٹوں اور اپنے کام کی جگہوں پر پہنچنے میں ہونے والی تاخیر جیسے عذابوں سے دوچار ہوتے ہیں، جبکہ حساس اور تناؤ زدہ علاقوں میں قائم سکولوں کو مسلسل اس بات کا سامنا رہتا ہے کہ کسی بھی وقت انہیں خالی کرانا پڑ سکتا ہے یا پڑھائی معطل کرنا پڑ سکتی ہے۔

وزارتِ تعلیم کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں تعلیمی عمل کی نگرانی تقریباً 54 ہزار اساتذہ کر رہے ہیں، جن میں سے40 ہزار سات سو سینتالیس حکومتی سکولوں میں، 11 ہزار 578 نجی سکولوں میں اور ایک ہزار871 ‘انروا’ کے سکولوں میں فرائض انجام دے رہے ہیں، اس طرح کل اساتذہ کی تعداد 54,196 بنتی ہے۔

حکومتی سکولوں میں طلبہ کی تعداد چھ لاکھ 34ہزار دو سو چورانوے ہے جو 1,967 سکولوں میں تقسیم ہیں، جبکہ نجی سکولوں میں ایک لاکھ63ہزار 787 طلبہ 480 سکولوں میں زیرِ تعلیم ہیں، اسی طرح اڑتالیس ہزار دو سو آٹھ طلبہ ‘انروا’ کے نوے 90 سکولوں میں علم حاصل کر رہے ہیں۔

اتنے بڑے اعداد و شمار کے باوجود سکولوں کا زمینی حقائق کے اعتبار سے ایک جیسا حال نہیں ہے. شہروں کے سکول جہاں نسبتاً معمول کے مطابق اپنا تعلیمی سال شروع کرتے ہیں، وہیں پسماندہ علاقوں کے طلبہ سکولوں تک رسائی، مسماری کے خوف، فوجی چھاپوں، سڑکوں کی بندش، یہودی آباد کاروں کے حملوں اور ان مشکل معاشی حالات کے انبار تلے دبے ہوئے ہیں جو فلسطینی خاندانوں کے بوجھ میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔

ان علاقوں میں سکول محض تعلیم کی جگہ نہیں بلکہ بقا کی جنگ کا ایک محاذ بن جاتا ہے؛ اس کا وجود اس بات کی ضمانت ہے کہ بچے اپنے گھروں کے قریب محفوظ رہیں، جبکہ اس کا فعال رہنا عملی طور پر اس عزم کا اعلان ہے کہ تعلیم کو کبھی بھی اس ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا جو خاندانوں کو اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور کر دے۔

غزہ: جنگ کے سلگتے ملبے سے اٹھنے کی تگ و دو

جہاں تک غزہ کی پٹی کا تعلق ہے، تو وہاں تعلیمی سال کا آغاز مغربی کنارے جیسے عام حالات میں ہرگز نہیں ہو رہا۔ وزارتِ تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ انتظامی اور تدریسی عملے کا دوام سولہ ستمبر سے شروع ہوگا، جبکہ طلبہ انیس ستمبر سے باقاعدہ تعلیم کا آغاز کریں گے۔

وزارت اس بات کی تیاریاں کر رہی ہے کہ تقریباً 700 بالمشافہ تعلیمی پوائنٹس اور 25 عارضی سکول فراہم کیے جائیں، اس کے علاوہ ان طلبہ کے لیے جو بالمشافہ تعلیم تک پہنچنے سے قاصر ہیں ورچوئل اور آن لائن تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ تقریباً پانچ لاکھ اکتالیس ہزار (541,000) طلبہ و طالبات دستیاب وسائل کے دائرے میں اپنی تعلیم کا سفر جاری رکھ سکیں۔

یوں فلسطین میں نئے تعلیمی سال کا آغاز محض تعلیمی تقویم کی کوئی تاریخ نہیں بنتا؛ بلکہ بہت سے علاقوں میں سکول تک پہنچنا خود ایک جہاد بن جاتا ہے، اور کسی موجودہ سکول کو باقی رکھنا یا بچوں کے لیے اس کے دروازے کھلے رکھنا فلسطینیوں کی اس طویل اور مقدس جدوجہد کا حصہ بن جاتا ہے جس کا مقصد تعلیم کے حق کی حفاظت کرنا اور اپنی دھرتی پر مستقل جمے رہنا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan