مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) سات اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں اور ان کی املاک کے خلاف صہیونی آبادکاروں کے حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ان پرتشدد کارروائیوں کا دائرہ کار وسیع ہو چکا ہے اور ان کے انسانی اور مالی نقصانات کی سطح اب تک کی تاریخ میں سب سے زیادہ سنگین ہو چکی ہے۔
فلسطین انفارمیشن سینٹر (معطی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران صہیونی آبادکاروں کے ہاتھوں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 41 تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں سے 17 شہادتیں سنہ 2026ء میں، 16 شہادتیں سنہ 2025ء میں اور 8 شہادتیں سنہ 2024ء میں ہوئی ہیں۔
اسی تناظر میں مرکز نے 8691 ایسے حملوں کو دستاویزی شکل دی ہے جو صہیونی آبادکاروں کی جانب سے کیے گئے۔ ان میں سے 1877 حملے سنہ 2026ء کے آغاز سے 20 اپریل تک کیے گئے، جبکہ سنہ 2025ء کے دوران 3818 حملے، سنہ 2024ء میں 2286 حملے اور سات اکتوبر سنہ 2023ء سے سنہ 2023ء کے اختتام تک 710 حملے ریکارڈ کیے گئے۔
یہ ہولناک اعداد و شمار صہیونی آبادکاروں کے جرائم کی رفتار میں ایک خطرناک اور تصاعدی رجحان کو ظاہر کرتے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس صورتحال کے مغربی کنارے کی زمینی حقیقت پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور کسی بھی وقت حالات کے مزید بگڑنے اور وسیع پیمانے پر دھماکے کا خدشہ موجود ہے۔
