لندن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ دنیا ایک نئے اور انتہائی پرخطر دور کے دہانے پر کھڑی ہے، جہاں کثیرالجہتی نظام، بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق پر وحشیانہ حملوں میں تیزی آ گئی ہے۔
منظمہ کی سالانہ رپورٹ برائے سالانہ انسانی حقوق کی صورتحال 2025ء میں، جس میں 144 ممالک کا احاطہ کیا گیا ہے، جنگوں میں بے لگام شدت، بین الاقوامی انصاف کے اصولوں کی مسلسل پامالی اور دنیا بھر میں سول سوسائٹی اور احتجاجی تحریکوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
لندن میں رپورٹ کے اجرا کے موقع پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکرٹری جنرل اینیئس کالامارڈ نے اس بات پر زور دیا کہ انسانیت اس وقت اپنے عہد کے سب سے کٹھن لمحے کا سامنا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوں سے ماورا انسانی حقوق مخالف تحریکیں جنم لے رہی ہیں اور ایسی حکومتیں جنہیں انہوں نے وحشی قرار دیا، غیر قانونی جنگوں اور کھلی اقتصادی بلیک میلنگ کے ذریعے اپنا تسلط قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
کالامارڈ نے واضح کیا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض عالمی نظام کی معمولی توڑ پھوڑ نہیں بلکہ یہ طاقت کے حصول اور منافع خوری کے لیے انسانی حقوق کی بنیادوں پر براہ راست حملہ ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ سنہ 2025ء میں بڑی طاقتوں نے تباہی، جبر اور وسیع پیمانے پر تشدد کے ذریعے معاشی اور سیاسی غلبہ حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ، ولادیمیر پیوٹن اور بنجمن نیتن یاھو جیسے سیاسی رہنماؤں نے اپنے اثر و رسوخ کے لیے توسیع پسندانہ پالیسیاں اپنائیں، جبکہ یورپی ممالک سمیت اکثر حکومتوں نے ان پالیسیوں کے سامنے خاموشی اختیار کرنے یا ان کی نقل کرنے کی راہ چنی اور بہت کم ممالک نے ان پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کی۔
رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اکتوبر سنہ 2025ء میں سیز فائر کے باوجود غزہ کی پٹی میں جاری نسل کشی بین الاقوامی قانونی نظام کے مکمل خاتمے کی عکاسی کرتی ہے۔ رپورٹ نے تصدیق کی کہ مقبوضہ بیت المقدس سمیت مغربی کنارے میں نسلی امتیاز کا نظام مسلط ہے اور وہاں آبادکاری کے عمل کو تیز کر دیا گیا ہے، جبکہ آبادکاروں کی سفاکیت بغیر کسی محاسبے کے بڑھ رہی ہے۔
سوڈان کے حوالے سے رپورٹ میں دستاویزی ثبوت فراہم کیے گئے ہیں کہ تنازع کے دوران خواتین اور لڑکیوں کو بڑے پیمانے پر منظم جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بالخصوص الفاشر کے محاصر کے دوران۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ امریکہ نے وینزویلا اور ایران سمیت کئی علاقوں میں ماورائے عدالت قتل اور غیر قانونی حملے کیے، اس کے علاوہ گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
رپورٹ میں روس پر بھی الزام عائد کیا گیا کہ اس نے یوکرین میں سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے میں تیزی لائی ہے، جبکہ میانمار کی فوج کی جانب سے شہری آبادیوں پر دھماکہ خیز مواد گرانے کے لیے قدیم جنگی ذرائع استعمال کرنے کا بھی ذکر کیا گیا، جس سے بچوں سمیت متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔
رپورٹ میں امریکہ اور قابض اسرائیل کے ایران پر حملوں اور تہران کے جواب سے پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے عام شہریوں اور انفراسٹرکچر کے خلاف ایک کھلی جنگ قرار دیا گیا، جس سے خطے کے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔
جمہوریہ کانگو میں روانڈا کی حمایت یافتہ ایم 23 تحریک کی جانب سے کی جانے والی سنگین خلاف ورزیوں بشمول ماورائے عدالت قتل اور تشدد کے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا۔
رپورٹ میں بین الاقوامی محاسبے کے طریقہ کار، بالخصوص عالمی فوجداری عدالت کو کمزور کرنے کی کوششوں پر کڑی تنقید کی گئی۔ امریکہ، قابض اسرائیل اور روس پر الزام لگایا گیا کہ وہ اس عدالت کو کمزور کرنے اور ممالک کو روم کنونشن اور کلسٹر بموں و بارودی سرنگوں کی پابندی کے معاہدوں سے دستبردار ہونے پر اکسا رہے ہیں۔
رپورٹ کے اختتام پر یورپی یونین سمیت اکثر ممالک کی مجرمانہ خاموشی اور ملی بھگت پر شدید تنقید کی گئی، جو غزہ میں نسل کشی روکنے یا اسلحے کی فراہمی میں کمی لانے کے لیے موثر اقدامات کرنے میں ناکام رہے۔ رپورٹ نے متنبہ کیا کہ جارحیت پسندوں کی خوشامد کی پالیسی اس آگ پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہے جو بالآخر سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔
