Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

رام اللہ

فلسطینی خواتین قیدیوں کے ساتھ سلوک پر بین الاقوامی سطح پر تشویش میں اضافہ

رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مرکز برائے فلسطینی حقوق کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف ڈھائے جانے والے مظالم کے تناظر میں کیمرے کا استعمال محض تشدد کی دستاویز سازی تک محدود نہیں رہا بلکہ اب یہ تشدد پیدا کرنے اور اس کے دائرہ کار کو پھیلانے کا ایک باقاعدہ ذریعہ بن چکا ہے۔ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ کی پٹی پر شروع ہونے والی نسل کشی کی جنگ کے بعد سے فلسطینیوں پر حملوں کے مناظر نشر کرنے کے رجحان میں ہولناک اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں فلسطینیوں پر ہونے والے حملوں کی فلم بندی کے بڑھتے ہوئے طریقہ کار کی دستاویز سازی کی گئی ہے، جس میں گرفتاری اور بدترین تشدد سے لے کر قتل تک کے مراحل شامل ہیں۔ ان ویڈیوز کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فخر اور تفریح کے طور پر شیئر کیا جاتا ہے، جس سے فلسطینیوں کی تذلیل اور میدان جنگ کے اندر و باہر ان پر تسلط جمانے کے لیے انسانی جسم کو ایک بصری مواد میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

بصری تشدد تذلیل کے ہتھیار کے طور پر

رپورٹ جس کا عنوان “تصویر سے جسم تک فلسطینی نوجوانوں کی تذلیل اور ان پر قابو پانے کے لیے بصری تشدد بطور ہتھیار” ہے، ان ممارسات کو ایک وسیع تر ڈھانچے کا حصہ قرار دیتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تصویر اب محض خلاف ورزی کی عکاسی نہیں کرتی بلکہ اسے پیدا کرنے کا براہ راست ذریعہ بن چکی ہے۔ ان ویڈیوز کو ڈیجیٹل مال غنیمت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جنہیں غاصب اسرائیل کے صارفین فخر اور تذلیل کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اس طرح تشدد کو تماشے کی صورت دے دی گئی ہے۔

رپورٹ میں فلمائے گئے مظالم کے ایک سلسلے کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں فلسطینی اسیران کو برہنہ کر کے یا توہین آمیز طریقے سے ان کی تلاشی لینے کے مناظر کے علاوہ قابض صہیونی عقوبت خانوں اور حراستی مراکز میں جنسی تشدد کی دستاویز سازی بھی شامل ہے۔

اس حوالے سے مرکز فلسطینی برائے انسانی حقوق کی جمع کردہ شہادتوں کا حوالہ دیا گیا ہے جن کے مطابق ایک فلسطینی خاتون کو دو روز تک مسلسل جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کی فلم بندی کی گئی اور اسے ویڈیوز نشر کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ اقوام متحدہ نے بھی اسی طرح کے کیسز ریکارڈ کیے ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ تصویر کو انفرادی شکار سے بڑھ کر پورے معاشرے کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ ان سرگرمیوں کے بصری پہلوؤں کا تجزیہ کرتے ہوئے واضح کرتی ہے کہ فلسطینیوں کی فلم بندی محض جرم کی ریکارڈنگ نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی جسم کو تسلط کے نظام کے تابع کرنے کی کوشش ہے۔ ان تصاویر اور ویڈیوز میں اسیران کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی، ہاتھ بندھے ہوئے اور انہیں جھکنے، رکوع کی حالت میں رہنے یا زمین پر لیٹنے پر مجبور دکھایا جاتا ہے۔ یہ ایسے مناظر ہیں جو ایک ایسے مجبور جسم کی تصویر کشی کرتے ہیں جس کی نہ کوئی شناخت ہے نہ آواز، اور جسے صرف نگرانی کے لیے ایک بصری موضوع بنا دیا گیا ہے۔

بعض معاملات میں اسیران کو زبردستی مخصوص جملے دہرانے پر مجبور کیا جاتا ہے یا کیمرے کے سامنے مخصوص حرکات کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، تاکہ تذلیل کو ایک عوامی نمائش بنایا جا سکے۔ یہ سلسلہ قتل کے لمحات تک دراز ہے؛ رپورٹ میں ایسی ویڈیوز کی مثالیں دی گئی ہیں جو قابض فوجیوں نے خود نشر کیں، جن میں نقل مکانی کرنے والے فلسطینیوں پر بمباری یا امدادی مراکز سے آٹے کا تھیلا لے کر واپس آنے والے نوجوان کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

قابض صہیونی عقوبت خانوں اور حراستی مراکز کے اندر اس بصری تشدد کی شدت مزید بڑھ جاتی ہے، جہاں اسیران کو برہنہ اور توہین آمیز پوزیشنوں میں رکھ کر ان پر جسمانی تشدد کی فلم بندی کی جاتی ہے۔

رپورٹ میں ایک گہرے پہلو کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے جو کہ بائیومیٹرک نگرانی کی ٹیکنالوجی کا استعمال ہے۔ قابض فوج کے سپاہی “بلیو ولف” نامی ایپ کا استعمال کرتے ہوئے چیک پوسٹوں پر فلسطینیوں کی تصاویر لیتے ہیں اور ان کا موازنہ سکیورٹی ڈیٹا بیس سے کر کے ان کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ “ریڈ ولف” نظام کے ذریعے فلسطینیوں کے علم میں لائے بغیر ان کے چہروں کی لائیو اسکیننگ کی جاتی ہے اور ان کے ڈیٹا کو وسیع تر نگرانی کے نظام سے جوڑ دیا جاتا ہے، جس سے فلسطینی جسم کو محض سکیورٹی ڈیٹا میں تبدیل کر کے مسلسل ڈیجیٹل تسلط قائم کیا گیا ہے۔

انٹیلی جنس اسکیننگ

مقبوضہ بیت المقدس سمیت مغربی کنارے میں رپورٹ اس پالیسی پر روشنی ڈالتی ہے جسے “انٹیلی جنس اسکیننگ” کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت گھروں پر تقریبا روزانہ کی بنیاد پر رات گئے چھاپے مارے جاتے ہیں جن میں رہائشیوں کی تصاویر لی جاتی ہیں اور ان کا ذاتی ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے۔

ان کارروائیوں کا اثر صرف اس لمحے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ڈیجیٹل فضا میں ان تصاویر کی مسلسل موجودگی تشدد کو دوبارہ جنم دیتی ہے اور گہرے نفسیاتی اثرات مرتب کرتی ہے۔ ان اثرات میں بے چینی، خوف، تناؤ اور وہ کیفیت شامل ہے جسے “ڈیجیٹل صدمہ” کہا جاتا ہے، جو نفسیاتی مفلوج پن اور بالخصوص فلسطینی نوجوانوں میں سماجی و سیاسی شرکت میں کمی کا باعث بنتی ہے۔

قانونی سطح پر رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ اقدامات متعدد بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ ان میں چوتھا کنونشن آف جنیوا شامل ہے جو عام شہریوں اور اسیران کی عوامی نمائش پر پابندی عائد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ شہری اور سیاسی حقوق کا بین الاقوامی عہد نامہ انسانی وقار کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ بغیر اجازت تصاویر لینے اور انہیں نشر کرنے سے رازداری کے حق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہوتی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan