Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

مسجد اقصیٰ میں سیکیورٹی کے ساتھ آبادکاروں کا دھاوا

مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) سینکڑوں انتہا پسند آباد کاروں نے قابض اسرائیلی افواج کی سنگینوں کے سائے میں باب المغاربہ کی سمت سے مسجد اقصیٰ کے صحنوں پر دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں قبلہ اول کے احاطے میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئی۔

مقبوضہ بیت المقدس میں اسلامی اوقاف کے شعبے نے اطلاع دی ہے کہ 242 آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں اشتعال انگیز چکر لگائے اور انتہائی سخت سکیورٹی اقدامات کے درمیان مشرقی علاقے میں مذہبی رسومات ادا کیں۔

دوسری جانب قابض پولیس نے نمازیوں کے داخلے پر کڑی پابندیاں عائد کر دیں جہاں مسجد کے دروازوں پر فلسطینیوں کے شناختی کارڈ قبضے میں لے کر ان کی تلاشی لی گئی جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں نمازیوں کی اندر رسائی میں شدید رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔

القدس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گذشتہ برسوں کے دوران دھاوا بولنے والے شرپسندوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جہاں سنہ 2022ء میں یہ تعداد اپنی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی اور اس کے بعد کے برسوں میں بھی یہ سلسلہ پوری شدت سے جاری رہا۔ رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ یہ دراندازی اب محض محدود دوروں تک نہیں رہی بلکہ اسرائیلی حکام کی شرکت کے ساتھ اجتماعی مظاہروں اور جھنڈے لہرانے جیسی کھلم کھلا اشتعال انگیز کارروائیوں میں تبدیل ہو چکی ہے۔

رواں اپریل کے آغاز سے ہی ان حملوں کی رفتار میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی ہے جس کے دوران صحنوں کے اندر اجتماعی تلمودی رسومات ادا کی گئیں۔ اسی سلسلے میں دہشت گرد وزیر ایتمار بن گویر نے بھی 12 اپریل سنہ 2026ء کو مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولا جو کہ ان کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے قبلہ اول کی بے حرمتی کے تسلسل کی ایک کڑی ہے۔

قابض حکام کی جانب سے دراندازی کے لیے ایک نیا راستہ بھی کھولا گیا ہے جو آباد کاروں کو قبۃ الصخرہ کے انتہائی قریبی علاقوں تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس ماہ کے آغاز سے اب تک دھاوا بولنے والے آباد کاروں کی تعداد 2000 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ سال کے آغاز سے 31 مارچ سنہ 2026ء کے اختتام تک یہ تعداد 9373 تک پہنچ گئی ہے اس کے علاوہ 16 ہزار سے زائد افراد سیاحت کی آڑ میں مسجد میں داخل ہوئے۔

گذشتہ ہفتے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نام نہاد ہیکل گروپوں کی جانب سے اشتعال انگیز مہم میں شدت دیکھی گئی جس میں نام نہاد یوم آزادی کے موقع پر مسجد اقصیٰ کے اندر قابض اسرائیل کا جھنڈا لہرانے کی ترغیب دی گئی۔

واضح رہے کہ قابض حکام نے فروری کے آخر میں سکیورٹی حالات اور ایران کے خلاف جنگ کے بہانے مسجد اقصیٰ کو بند کر دیا تھا اور سنہ 1967ء کے بعد پہلی بار وہاں عید الفطر کی نماز کی ادائیگی پر بھی پابندی عائد کر دی تھی جس کے خلاف فلسطینیوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan