مغربی کنارہ -(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اتحادِ لیبر یونین فلسطین نے انکشاف کیا ہے کہ پیشہ ورانہ خطرات میں اضافے اور کام کے بگڑتے ہوئے حالات کے باعث سنہ 2025ء کے دوران 74 فلسطینی مزدور شہید ہوئے ہیں۔
اتحاد نے ایک پریس بیان میں کہا کہ یہ اعداد و شمار عالمی یومِ تحفظ و صحتِ پیشہ ورانہ کے موقع پر سامنے آئے ہیں اور یہ اس بات کی توثیق کرتے ہیں کہ ہر مزدور کا حق ہے کہ اسے کام کے لیے ایک محفوظ اور صحت مند ماحول میسر ہو۔
بیان میں وضاحت کی گئی کہ شہداء کی تقسیم کچھ یوں ہے کہ 20 مزدور مغربی کنارے میں کام کے دوران، ایک مزدور سمندر میں حملے کے نتیجے میں، جبکہ 14 مزدور اپنے کام کی جگہوں پر پہنچنے یا وہاں سے واپسی کے دوران شہید ہوئے۔
اتحاد نے نشاندہی کی کہ 39 مزدور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے اندر شہید ہوئے، جبکہ 18 دیگر مزدور فائرنگ، گرفتاری کے عمل، تعاقب یا کام کی جگہوں پر دھاوے کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے سنہ 2025ء کے اختتام تک زندگی کی تگ و دو کرنے والے 47 مزدور “شہیدِ رزق” بنے، جنہیں مختلف مقامات پر مسلسل دھمکیوں اور خطرات کا سامنا رہا۔
اتحاد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پیشہ ورانہ تحفظ ایک قومی، اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے اور مزدوروں کی حفاظت و محفوظ ماحول کے لیے اجتماعی کوششوں کی اپیل کی۔
اتحاد نے مطالبہ کیا کہ تمام شعبوں میں پیشہ ورانہ صحت و حفاظت کے معیارات کا عملی نفاذ کیا جائے، سخت نگرانی کی جائے اور آجروں کو حفاظتی سازوسامان فراہم کرنے کی مکمل ذمہ داری اٹھانے کا پابند کیا جائے۔
اس کے ساتھ ہی اتحاد نے نگران اداروں کے کردار کو مستحکم کرنے، انسپکشن اور جوابدہی کے نظام کو فعال کرنے، اور مزدوروں و آجروں کے لیے مستقل تربیتی پروگراموں کے ذریعے حفاظتی شعور بیدار کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
بیان میں قومی قوانین کو بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا تاکہ مزدوروں کے لیے وسیع تر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
عالمی یومِ تحفظ و صحتِ پیشہ ورانہ ایک ایسے وقت میں منایا جا رہا ہے جب قابض اسرائیل کی جاری جارحیت اور محاصرے کے باعث معاشی حالات تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہے ہیں۔ غزہ کی پٹی میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 80 فیصد اور مغربی کنارے میں تقریباً 35 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ بے روزگار مزدوروں کی مجموعی تعداد 5 لاکھ سے زائد ہے۔
اکتوبر سنہ 2023ء سے اب تک دسیوں ہزار مزدور گرین لائن کے اندر اپنے کام کی جگہوں تک رسائی سے محروم ہیں، جبکہ لیبر یونینز کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر ان کے مالی معاوضے کے لیے مطالبات جاری ہیں جن پر مارچ/اپریل سنہ 2026ء کے دوران فیصلہ متوقع ہے۔
