مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقامی ذرائع نے بدھ کی صبح اطلاع دی ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارہ کے وسطی علاقے رام اللہ کے شمال مشرق میں واقع قصبے سلواد میں قابض اسرائیلی افواج کے حملے کے دوران فائرنگ سے زخمی ہونے والا ایک فلسطینی نوجوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کر گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ نوجوان عبدالحلیم روحی حماد نے قصبے میں قابض فوج کے دو فوجیوں کو چاقو کے وار سے زخمی کیا جس کے بعد قابض اہلکاروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی اور وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق قابض اسرائیلی افواج نے فجر کے وقت سلواد پر دھاوا بولا تھا اور شہریوں کے گھروں میں گھس کر تلاشی کا سلسلہ جاری رکھا، جس کے بعد آج صبح شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں۔
اسی سلسلے میں قابض اسرائیلی افواج نے شہید کے اہل خانہ کے گھر پر چھاپہ مارا اور ان کے والد اور بھائی کو گرفتار کر لیا، جبکہ اس واقعے کے بعد پورے قصبے میں مکمل ہڑتال کا اعلان کر دیا گیا۔
مقامی رہائشیوں نے نشاندہی کی کہ قابض اسرائیلی افواج نے شہید کے جسدِ خاکی کو تحویل میں لے لیا ہے اور فلسطینی طبی عملے کو ان تک پہنچنے اور ہسپتال منتقل کرنے سے روک دیا ہے۔
قابض اسرائیلی افواج نے سلواد کے فوجی گیٹ اور قصبے کے ارد گرد موجود رکاوٹوں کو بند کر دیا ہے، اس کے علاوہ رام اللہ اور البیرہ گورنری کے شمال میں عطارہ اور عین سینیا کی فوجی چوکیوں کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔
