Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

سیزفائر کے باوجود غزہ پر حملے، 5 فلسطینی شہید

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی افواج نے غزہ کی پٹی میں کمزور سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلسل 202 ویں روز بھی فضائی حملوں، توپ خانے سے گولہ باری اور مشرقی محلوں میں گھروں کو مسمار کرنے کا سلسلہ جاری رکھا، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ حصار کو مزید سخت کر کے غزہ کی پٹی تک انسانی امداد کی رسائی کو محدود کر دیا گیا ہے۔

غزہ شہر کے مغرب میں حیدر عبدالشافی چوک کے قریب ایک گاڑی پر قابض اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں 4 شہری شہید ہو گئے۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض اسرائیل کے ایک ڈرون نے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اس میں سوار تین شہری شہید اور دیگر زخمی ہو گئے۔

اس سے قبل غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع شہر خان یونس کے ابو حمید چوک پر قابض اسرائیل کے فضائی حملے میں 9 سالہ بچہ عادل لافی النجار شہید ہو گیا تھا۔

علاوہ ازیں قابض اسرائیل کی فائرنگ سے ایک فلسطینی خاتون زخمی ہو گئیں، جبکہ اسی دوران غزہ کی پٹی کے شمالی اور مشرقی علاقوں بشمول بیت لاہیا اور جبالیہ کیمپ پر توپ خانے سے گولہ باری کی گئی اور حملے کیے گئے۔ جنوبی علاقے میں خان یونس کے مشرق میں بھی بھرپور فوجی نقل و حرکت کے درمیان بمباری کی گئی۔

غزہ کی پٹی میں وزارت صحت نے اعلان کیا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک شہید اور پانچ زخمی ہسپتالوں میں لائے گئے ہیں۔

وزارت نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ 11 اکتوبر سنہ 2025ء کو سیز فائر کے آغاز سے اب تک شہداء کی مجموعی تعداد 818 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 2,301 افراد زخمی ہوئے اور ملبے کے نیچے سے 762 لاشیں نکالی گئیں۔

مجموعی طور پر 7 اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری نسل کشی کے متاثرین کی تعداد 72,594 شہداء اور 172,404 زخمیوں تک پہنچ گئی ہے، جبکہ اب بھی بڑی تعداد میں متاثرین ملبے تلے اور سڑکوں پر موجود ہیں جہاں ایمبولینس اور شہری دفاع کے عملے کی رسائی اب تک ناممکن بنی ہوئی ہے۔

اسی دوران فلسطینی وزارت صحت نے منگل کے روز دوبارہ خبردار کیا کہ غزہ کی پٹی اور اس کے شمالی علاقوں میں ایک بڑے انسانی المیے کا خطرہ منڈلا رہا ہے کیونکہ علاقے میں کام کرنے والا واحد آکسیجن پلانٹ بند ہونے کے قریب ہے۔

وزارت نے بین الاقوامی اداروں اور متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ مریضوں کی زندگی بچانے اور ہسپتالوں میں اہم طبی خدمات کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے متبادل آکسیجن پلانٹس کی فراہمی اور ان کے داخلے کے لیے فوری مداخلت کریں۔

یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں ہے جب رفح کراسنگ پر نقل و حرکت پر پابندیوں، خوراک اور ادویات کے بحران کی شدت کے باعث انسانی حالات ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو شدید ترین حصار کی پالیسی کے تحت انتہائی کٹھن حالات کا سامنا ہے۔

خان یونس میں مباحث تموین (فوڈ سکیورٹی پولیس) نے منگل کے روز غزہ کی پٹی کی تجارتی گزرگاہ سے داخل ہونے والی 20 ٹن منجمد چکن کے خراب ہونے کی تصدیق کے بعد اسے تلف کرنے کا اعلان کیا۔

متعلقہ حکام نے واضح کیا کہ شہریوں کی صحت کے تحفظ اور ناقابلِ استعمال مصنوعات کی فروخت روکنے کے لیے مقررہ طریقہ کار کے مطابق ان مقداروں کو قبضے میں لے کر فوری طور پر تلف کر دیا گیا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan