غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطین اور قابض صہیونی دشمن کے مابین جاری جدوجہد کے ایک انتہائی نازک موڑ پر 30 مارچ سنہ 2026ء کو اسرائیلی کنيسٹ نے نام نہاد سزائے موت کے قانون کی منظوری دی۔ یہ محض ایک قانونی ترمیم نہیں بلکہ فلسطینیوں کے ساتھ نمٹنے کے حوالے سے ایک گہری اور سفاکانہ تبدیلی کا اظہار ہے۔ اس اقدام کے ذریعے فلسطینیوں کے قتل کو میدانِ جنگ سے نکال کر باقاعدہ قانون سازی کے لبادے میں چھپا دیا گیا ہے تاکہ حقِ خودارادیت کے لیے اٹھنے والی ہر آواز اور مزاحمتی فعل کو قانون کی تلوار سے کچلا جا سکے۔
اس قانون کی سنگینی اپنی جگہ مگر اس پر فلسطینیوں کا ردعمل اس نوعیت کی تبدیلی کے مقابلے میں محدود رہا۔ محققہ فیروز سلامہ نے اپنی ایک گہری تحقیق میں اس کی وجہ بتاتے ہوئے اسے فلسطینیوں کے عوامی و میدانی دائرہ کار کی ازسرِ نو تشکیل اور عوامی ردعمل پر نئی پابندیاں قرار دیا ہے۔
تحقیق کے مطابق اس سفاکانہ قانون کی منظوری دراصل ان میدانی کارروائیوں کا شاخسانہ ہے جنہوں نے پہلے ہی قابض صہیونی عقوبت خانوں کو موت کے کھلے میدانوں میں تبدیل کر رکھا تھا۔ اکتوبر سنہ 2023ء میں غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی نسل کش جنگ کے آغاز سے ہی جیلوں کے اندر اسیران کو منظم تشدد، بھوکا رکھنے اور طبی غفلت کے ذریعے نشانہ بنانے کی پالیسی میں تیزی لائی گئی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب قتل کرنا کوئی استثنائی واقعہ نہیں بلکہ قابض ریاست کی ایک مستقل اور منظم پالیسی بن چکی ہے۔
اعداد و شمار اس بھیانک تبدیلی کی گواہی دے رہے ہیں۔ اکتوبر سنہ 2023ء سے اب تک 100 سے زائد اسیران جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں، جبکہ صرف سنہ 2025ء کے دوران 32 اسیر شہید ہوئے، جو کہ گذشتہ دو دہائیوں کی مجموعی تعداد کے برابر ہے۔ فیروز سلامہ کا کہنا ہے کہ یہ قانون محض ایک موجودہ تلخ حقیقت کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کی کوشش ہے، جہاں میدانی جرائم اور قانون سازی ایک دوسرے میں پیوست ہو چکے ہیں۔ اس سفاکیت کی تازہ مثال 17 سالہ نوجوان ولید خالد عبداللہ احمد کی شہادت ہے جو بھوک اور طبی غفلت کے باعث دم توڑ گیا، جبکہ قانون کی منظوری کے ساتھ ہی ایسے کئی اور واقعات بھی سامنے آئے۔
محاصرے کی تکون اور عوامی شعبے کی پامالی
فلسطینی ردعمل کی محدودیت کو سمجھنے کے لیے یہ تحقیق محاصرے کی اس تکون کی نشاندہی کرتی ہے جس نے اس قانون سے پہلے ہی عوامی فضا کو مقید کر رکھا تھا۔
پہلے مرحلے پر قابض اسرائیل نے غیر معمولی گرفتاریوں کی مہم کے ذریعے میدانی ڈھانچے کو منتشر کر دیا۔ اکتوبر سنہ 2023ء سے اب تک 23 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا، جن میں خاص طور پر نوجوانوں اور متحرک کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان گرفتاریوں کا مقصد محض سکیورٹی نہیں تھا بلکہ میدان کو متحرک قوتوں سے خالی کرنا تھا تاکہ عوامی غم و غصے کو کسی منظم تحریک میں بدلنے سے روکا جا سکے۔
دوسری طرف فلسطینی اتھارٹی کی پالیسیوں میں تبدیلی نے اس پابندی کو مزید سخت کر دیا۔ اسیران کے وظائف کی منسوخی اور انہیں محض سماجی تحفظ کے ایک انتظامی فریم ورک میں بدلنے سے اسیر کا وہ علامتی وقار مجروح ہوا جو ایک مجاہد اور قومی ہیرو کا ہوتا ہے۔ اس سے اسیر اور معاشرے کے درمیان وہ جذباتی اور مادی تعلق کمزور پڑ گیا جو عوامی متحرک سازی کا ایندھن بنتا تھا۔
تیسرے مرحلے پر فیروز سلامہ بتاتی ہیں کہ جدوجہد کا مرکز اسیران کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کی طرف منتقل ہو گیا، جنہیں قانونی اور بین الاقوامی سطح پر اس بوجھ کو اٹھانا پڑا۔ اگرچہ ان کا کردار اہم ہے، لیکن یہ جدوجہد قانونی اور انتظامی حدود میں قید ہو کر رہ گئی، جس نے آہستہ آہستہ اس نبرد آزمائی کو عوامی رنگ سے دور کر دیا۔
اسی سنگین صورتحال کے سائے میں مارچ سنہ 2026ء کے دوران بنجمن نیتن یاھو کی حکومت نے نہایت تیزی سے اس قانون کو کنيسٹ سے منظور کروایا۔ قابض اسرائیل کو بخوبی اندازہ تھا کہ اس وقت عوامی دباؤ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس قانون میں عدالتی ضمانتوں کو ختم کر کے سزائے موت کے نفاذ کو تیز کر دیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اب فلسطینی اسیران کی زندگی کا فیصلہ براہ راست قابض اسرائیل کی سیاسی قیادت کے ہاتھ میں ہے۔
منظم احتجاج اور ممکنہ ردعمل کی حدود
قانون کی منظوری کے بعد فلسطینی ردعمل ہڑتالوں، ڈیجیٹل مہمات اور چند مرکزی تقریبات تک محدود رہا۔ فیروز سلامہ کے مطابق یہ طرزِ عمل فلسطینیوں کے جذبے کی کمی نہیں بلکہ اس دم گھٹتے ہوئے ماحول کی عکاسی کرتا ہے جہاں ہر حرکت کی قیمت بہت زیادہ مقرر کر دی گئی ہے۔ مسلسل کریک ڈاؤن اور اسرائیلی سفاکیت نے عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے، جس کے نتیجے میں لوگ براہ راست ٹکراؤ کے بجائے ڈیجیٹل میڈیا اور انسانی حقوق کے فورمز جیسے کم خطرے والے راستوں کو ترجیح دینے لگے ہیں۔
میدانی اثر و رسوخ میں کمی کے باعث اب تمام تر توجہ سفارتی محاذ اور عالمی برادری پر مرکوز ہے تاکہ بیرونی دباؤ کے ذریعے اس نسل کشی کو روکا جا سکے۔ تاہم یہ تبدیلی دراصل اندرونی مزاحمتی قوتوں کے محدود ہونے کا اعتراف بھی ہے۔
نئی صورتحال اور مستقبل کا تناظر
اسیران کے لیے سزائے موت کا قانون محض ایک قانونی ضابطہ نہیں بلکہ فلسطینی نصب العین کو مجرمانہ رنگ دینے کی ایک وسیع سازش ہے۔ اس کا مقصد فلسطینیوں کے سماجی اور تنظیمی ڈھانچے کو تباہ کرنا ہے جو عوامی جدوجہد کی بنیاد ہوتے ہیں۔
محققہ سلامہ کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیل کی پالیسیوں اور اندرونی انتظامی پابندیوں کے سنگم نے اسیر کی حیثیت کو ایک قومی علامت کے بجائے محض ایک انتظامی کیس بنا کر پیش کیا۔ اس صورتحال نے عوامی سطح پر اس یقین کو کمزور کیا ہے کہ سڑکوں پر نکل کر کوئی بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
آخر میں فیروز سلامہ اس نتیجے پر پہنچتی ہیں کہ اس قانون کے اثرات منظوری کے لمحے سے کہیں آگے تک جائیں گے۔ یہ فلسطینی سیاسی عمل اور مزاحمت کو قانونی دائرہ کار سے باہر نکال کر اسے دہشت گردی ثابت کرنے کی کوشش ہے۔ اب فلسطینیوں کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اس دم گھٹتے ہوئے ماحول میں اپنی عوامی قوت کو دوبارہ کیسے منظم کرتے ہیں اور قابض اسرائیل کے اس قانونی وار کا مقابلہ کس طرح کرتے ہیں۔
