غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ شہر میں واقع الشفاء ہسپتال کے طبی عملے نے صحت کے انتہائی مخدوش اور کٹھن حالات میں ایک نمایاں طبی کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ ایک ماہر جراحی ٹیم نے ڈھائی سالہ بچے یمان برکات کے جوڑ کا پیچیدہ آپریشن کر کے اسے عمر بھر کی معذوری سے بچا لیا ہے۔
طبی ٹیم نے آلات اور وسائل کی شدید قلت اور مسلسل حملوں و سپلائی پر لگی پابندیوں کے نتیجے میں نظام صحت کی مکمل تباہی کے باوجود کولہے کے جوڑ کا انتہائی حساس اور پیچیدہ آپریشن کامیابی سے مکمل کیا۔
ننھے یمان کی والدہ حلیمہ برکات نے اس دردناک سفر کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ جدوجہد پیدائش کے وقت سے ہی شروع ہو گئی تھی جب ان کے بچے کو فوری سرجری کی ضرورت تھی لیکن طبی مراکز کی تباہی اور غزہ کی پٹی سے باہر علاج کے لیے سفر کی بندش کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا۔
بچے کے پاس گذشتہ ایک سال سے باضابطہ میڈیکل ریفرل موجود تھا لیکن سرحدوں کی بندش اور عائد کردہ سخت پابندیوں نے اسے علاج کے لیے باہر جانے سے روکے رکھا۔ اس صورتحال میں بچے کی حالت بتدریج بگڑتی چلی گئی جس کے بعد غزہ کے اندر ہی آپریشن کا مشکل فیصلہ کیا گیا۔
بچے کے اہل خانہ نے ہڈیوں کے ماہر سرجن ڈاکٹر فیصل صيام کی غزہ واپسی کو ایک اہم موڑ قرار دیا جن کے ساتھ طبی ٹیم نے ہم آہنگی پیدا کی اور الشفاء ہسپتال میں تمام تر خطرات اور ساز و سامان کی کمی کے باوجود یہ سرجری ممکن بنائی۔
والدہ نے اس فیصلے کو ایک ناگزیر خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دوسرا راستہ صرف یہ تھا کہ ان کا لخت جگر زندگی بھر کے لیے معذوری کا شکار ہو جاتا۔
الشفاء ہسپتال میں شعبہ ہڈیوں کے سربراہ ڈاکٹر فیصل صيام نے وضاحت کی کہ اس نوعیت کے آپریشنز کے لیے انتہائی باریک بینی اور جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوتی ہے اور اقل ترین سہولیات سے محروم ماحول میں اسے سرانجام دینا کسی معجزے سے کم نہیں۔
طبی ذرائع کے مطابق سرجیکل ٹیمیں ہزاروں زخمیوں اور مریضوں کو بنیادی نگہداشت فراہم کرنے کے لیے شدید دباؤ میں کام کر رہی ہیں جو طویل عرصے سے باری کے انتظار میں ہیں۔
اس جراحی کی اہمیت اس تناظر میں مزید بڑھ جاتی ہے کہ فلسطینی طبی عملہ تقریباً صفر کے برابر وسائل کے ساتھ انسانی جانیں بچانے اور مستقل معذوریوں کو روکنے کی مسلسل کوششوں میں مصروف ہے۔
آپریشن کی کامیابی کے باوجود یمان کو اب بھی چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ اسے مکمل صحت یابی کے لیے کم از کم چھ ماہ تک مسلسل طبی نگرانی کی ضرورت ہے جبکہ قابض اسرائیل کی جانب سے ادویات اور ضروری طبی اشیاء کی بندش کے باعث طبی ادارے بعد از آپریشن کی دیکھ بھال فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔
اسی تناظر میں عالمی ادارہ صحت کے تخمینے بتاتے ہیں کہ غزہ میں نظام صحت کی بحالی کے لیے آئندہ پانچ برسوں میں تقریباً 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔
قابض اسرائیل کی سفاکیت کے نتیجے میں 1800 سے زائد طبی مراکز بشمول ہسپتال، کلینک اور لیبارٹریاں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکی ہیں جس نے بنیادی طبی خدمات تک رسائی کو مفلوج کر دیا ہے۔
طبی سامان کی فراہمی پر پابندیوں اور مریضوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ کے باعث انسانی بحران سنگین تر ہوتا جا رہا ہے جہاں تقریباً 20 لاکھ بے گھر فلسطینی انتہائی کٹھن حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
غزہ کے باقی ماندہ طبی مراکز اپنی استطاعت سے کہیں زیادہ کام کر رہے ہیں اور محدود ترین آلات پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں جبکہ زخمیوں اور طویل مدتی علاج کے محتاج مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
