غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی وزارت صحت نے غزہ اور شمالی گورنریوں میں کام کرنے والے آکسیجن کی پیداوار کے واحد پلانٹ کے بند ہونے کے خطرے سے خبردار کیا ہے، جو مریضوں بالخصوص دائمی امراض میں مبتلا افراد کو آکسیجن کی فراہمی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ پلانٹ صحت کے شعبے میں کام کرنے والے نجی اداروں کی طبی آکسیجن کی ضرورت کو بھی پورا کرتا ہے۔
وزارت صحت نے منگل 28 اپریل سنہ 2026ء کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ قابض اسرائیل کے مسلسل حملوں اور ناکہ بندی کے باعث متبادل ذرائع کی عدم دستیابی کے نتیجے میں اس پلانٹ پر کام کا شدید دباؤ ہے اور اسے طویل وقت تک چلانے کی وجہ سے یہ بار بار خرابی کا شکار ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال طبی آکسیجن کی فراہمی میں تعطل پیدا کر سکتی ہے جس سے مریضوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
بیان میں اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی کہ بڑھتا ہوا خطرہ ایک بڑے انسانی المیے کا پیش خیمہ ہے، خاص طور پر اس وقت جب ہسپتالوں اور مراکز صحت میں آکسیجن کی ضرورت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
وزارت صحت نے تمام متعلقہ عالمی اداروں اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں آکسیجن پیدا کرنے والے نئے پلانٹس کی ترسیل کے لیے فوری طور پر مداخلت کریں اور طبی مراکز کو آکسیجن کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنائیں، تاکہ مریضوں کی زندگیوں کا تحفظ اور صحت کی خدمات کا تسلسل برقرار رہ سکے۔
